021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
چوری کی تلافی کی صورت
..غصب اورضمان”Liability” کے مسائل متفرّق مسائل

سوال

اگر تین، چار بندوں نے مل کر تین، چار چوریاں کی ہوں اور وہ بعد میں اس کی تلافی کرنا چاہتے ہیں تو کیا یہ جائز ہےکہ شرکاء میں سے ہر فرد ایک چوری کی تلافی اپنے ذمے لے لے یا ہر شخص،ہر چوری میں سے اپنا ذمہ ادا کرے گا۔

o

اگر تین،چار آدمی مل کر چوری کریں اور چوری کی ہوئی رقم میں ہرچور کا حصہ معلوم ہوتو ہر آدمی کے ذمے اتنی رقم کی ادائیگی لازم ہو گی جو اس نے چوری میں سے لی ہے۔لیکن اگر چوری کی ہوئی رقم میں ہر چور کا حصہ معلوم نہ ہوتو چوری کی ہوئی تمام رقم سب شرکاء پر برابر تقسیم ہو گی۔ البتہ اگر سارے شریک رضامندی سے ایک ایک چوری کی تلافی اپنے ذمے لیں تو یہ جائز ہے اور اس صورت میں اضافی رقم دینے والے کی طرف سے اضافی رقم تبرع ہو گی۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 340) الحوالة (هي) لغة النقل، وشرعا: (نقل الدين من ذمة المحيل إلى ذمة المحتال عليه) وهل توجب البراءة من الدين المصحح نعم فتح. الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 325) (قوله: وما حصلاه معا إلخ) يعني ثم خلطاه وباعه، فيقسم الثمن على كيل أو وزن ما لكل منهما، وإن لم يكن وزنيا ولا كيليا قسم على قيمة ما كان لكل منهما، وإن لم يعرف مقدار ما كان لكل منهما صدق كل منهما إلى النصف؛ لأنهما استويا في الاكتساب وكأن المكتسب في أيديهما فالظاهر أنه بينهما نصفان، والظاهر يشهد له في ذلك، فيقبل قوله ولا يصدق على الزيادة على النصف إلا ببينة؛ لأنه يدعي خلاف الظاهر. اهـ. فتح. مطلب: اجتمعا في دار واحدة واكتسبا ولا يعلم التفاوت فهو بينهما بالسوية [تنبيه] يؤخذ من هذا ما أفتى به في الخيرية في زوج امرأة وابنها اجتمعا في دار واحدة وأخذ كل منهما يكتسب على حدة ويجمعان كسبهما ولا يعلم التفاوت ولا التساوي ولا التمييز.
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔