021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مال مسروقہ کامالک معلوم نہ توتلافی کی کیاصورت ہوگی؟
..غصب اورضمان”Liability” کے مسائل متفرّق مسائل

سوال

سوال:اگر مسروق عنہ معلوم نہ ہو یعنی جس کی چوری کی گئی ہے،تو اس کی تلافی کیسے ہو؟

o

ان پیسوں کے اصل مالک اگر موجود ہو تو یہ رقم ان کو لوٹانا ضروری ہے۔البتہ اگر مالک موجود نہ ہو یا معلوم نہ ہو تب یہ رقم مالک کی طرف سے کسی مدرسےوغیرہ میں یا کسی مستحق کو دے کر صدقہ کی جائے۔ اگر اصل مالک مل جائے تو اس صورت میں اگر وہ صدقہ پر راضی نہ ہو تو اسے اس کی رقم واپس کرنا چوری کرنے والوں کے ذمہ واجب ہے۔ اور صدقہ چوروں کی طرف سے ہو جائے گا۔

حوالہ جات

مجلة الأحكام العدلية (ص: 27( (المادة 96) : لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه الهداية في شرح بداية المبتدي (2/ 418) قال: " فإن جاء صاحبها وإلا تصدق بها " إيصالا للحق إلى المستحق وهو واجب بقدر الإمكان وذلك بإيصال عينها عند الظفر بصاحبها وإيصال العوض وهو الثواب على اعتبار إجازة التصدق بها وإن شاء أمسكها رجاء الظفر بصاحبها. قال: " فإن جاء صاحبها " يعني بعد ما تصدق بها " فهو بالخيار إن شاء أمضى الصدقة " وله ثواها لأن التصدق وإن حصل بإذن الشرع لم يحصل بإذنه فتيوقف على إجازته والملك يثبت للفقير قبل الإجازة فلا يتوقف على قيام المحل بخلاف بيع الفضولي لثبوته بعد الإجازة فيه " وإن شاء ضمن الملتقط
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔