021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ایک شخص کا دو جگہ ملازمت کرنا
..اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے متفرق احکام

سوال

ایک غریب آدمی ہے جس کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں وہ دن کے وقت ایک سرکاری ادارے میں کام کرتا ہے اور رات کے ٹائم دوسرے ادارے میں ڈیوٹی دیتا ہے کیا یہ جائز ہے؟

o

یہ شخص دوسری جگہ ملازمت کر سکتا ہے بشرطیکہ اس پر ادارے کی طرف سے دوسری جگہ ملازمت کرنے کی پاپندی نہ ہو اور دوسری جگہ ملازمت سے اس کی ڈیوٹی متاثر نہ ہوتی ہو۔

حوالہ جات

مجلة الأحكام العدلية (ص: 81) (المادة 422) : الأجير على قسمين: القسم الأول هو الأجير الخاص الذي استؤجر على أن يعمل للمستأجر فقط كالخادم الموظف. القسم الثاني هو الأجير المشترك الذي ليس بمقيد بشرط ألا يعمل لغير المستأجر كالحمال والدلال والخياط والساعاتي والصائغ وأصحاب كروسات الكراء وأصحاب الزوارق الذين هم يكارون في الشوارع والجوال مثلا فإن كلا من هؤلاء أجير مشترك لا يختص بشخص واحد وله أن يعمل لكل أحد. لكنه لو استؤجر أحد هؤلاء على أن يعمل للمستأجر إلى وقت معين يكون أجيرا خاصا في مدة ذلك الوقت. وكذلك لو استؤجر حمال , أو ذو كروسة أو ذو زورق إلى محل معين بشرط أن يكون مخصوصا بالمستأجر وأن لا يعمل لغيره فإنه أجير خاص إلى أن يصل إلى ذلك المحل.
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔