021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مضاربت کی ایک صورت کا حکم
..مضاربت کا بیانمتفرّق مسائل

سوال

ایک شخص نے کسی کو پانچ لاکھ روپے دیے کہ آپ اس سے کاروبار کرو۔میرے یہ پیسے جس دن لوٹاؤ گے اس دن کے بعد آپ کو ففٹی ففٹی میں شریک کروں گا۔تب تک نہ کوئی تنخواہ ، نہ کچھ دوں گا۔مفتی صاحب! کیا یہ صورت جائز ہے کہ پیسے بھی مکمل واپس اور اس سے آدھا کاروبار بھی لے لو؟ نوٹ: سائل سے مسئلہ کی تنقیح کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ دو دوست ہیں ،ایک کا کوئی کام روزگار نہیں تھا،دوسرے نے اس سے کہا کہ میں سرمایہ دیتا ہوں،تم کاروبار شروع کرو،جب میرے پیسے کاروبار سے نکل آئیں گے،اور سارا کاروبار پرافٹ کا ہوجائے گا،تب کاروبار کا 50%میرا ہوگا،٪50 تمہارا۔میرا بھی فائدہ ہوجائے گا ۔تمہارا بھی فائدہ ہوجائے گا۔

o

صورت مسئولہ میں اگر اس شخص نے یہ رقم اس شرط پر دی ہے کہ چاہے کاروبار میں نفع ہو یا نقصان،رقم لینے والے شخص کو بہرحال یہ پوری رقم واپس کرنی ہے،اور اس کے بعدبقیہ کاروبارمیں دونوں شرکت کریں گے،تو یہ صورت جائز نہیں،کیونکہ ایسی صورت میں یہ رقم شرعاً قرض بنے گی،اور بعد میں کاروبار میں شرکت کی شرط ایک سودی شرط ہوگی،جس کی وجہ سے یہ معاملہ ایک سودی معاملہ ہوگا،اور اس کا حکم یہ ہوگا کہ وہ شخص صرف پانچ لاکھ روپے واپس لینے کا حقدار ہوگا،اور کاروبار ساراعمل کرنے والے کا ہوگا۔ البتہ اگر اس طرح رقم دینے سے فریقین کا مقصد یہ ہے کہ رقم ایک کی ہوگی اور کاروباردوسراکرے گا،اورکاروبارکا نفع اس وقت تقسیم کیا جائے گا جب سرمایہ فراہم کرنے والے کو اس کا مکمل سرمایہ واپس مل جائے،تو ایسی صورت میں یہ معاملہ مضاربت کا معاملہ بنے گا،اورچونکہ نفع کی تقسیم کو سرمایہ کی واپسی کے ساتھ مشروط کرنا مضاربت میں نفع کی تقسیم کے اصول کے مطابق ہے ،اس لیے اس طریقے سےمعاملہ کرنے سے مضاربت کا یہ معاملہ فاسد (Invalid)نہیں ہوگا۔ لہذا اس صورت میں مضارب(workman) جس عرصے کاروبار کرکے رب المال(investor) کوپانچ لاکھ روپےواپس کرےگا،اس عرصے میں یہ سمجھا جائے گا کہ ابھی کوئی نفع نہیں ہوا۔پھر جب رب المال (investor)کواس کا دیا ہوا پانچ لاکھ روپے سرمایہ واپس ہوجائے گا، تو اس کے بعد جوبچے گا وہ کاروبار کا نفع شمارہوگا،جس کو فریقین نےآپس میں 50% کے تناسب سے تقسیم کرنا طے کیا ہے،لہذا اس طریقے سے نفع آدھا آدھا تقسیم کرکےاگر یہ آئندہ کے لیے اسی طرح شرکت کی بنیاد پر کاروبار جاری رکھیں کہ ان میں سے ہر ایک اس کاروبار کے 50%حصہ کا مالک ہو،تو اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں ہوگا۔ لہذا آئندہ جو بھی نفع ہوگا ،وہ دونوں میں اسی تناسب سے تقسیم ہوگا۔اگر دونوں فریق چاہیں تو تقسیمِ منافع کی اس شرح کو تبدیل بھی کرسکتے ہیں۔

حوالہ جات

البناية شرح الهداية (10/ 80) وإن كانا يقتسمان الربح والمضاربة بحالها ثم هلك المال بعضه أو كله ترادا الربح حتى يستوفي رب المال رأس ماله؛ لأن قسمة الربح لا تصح قبل استيفاء رأس المال لأنه هو الأصل، وهذا بناء عليه وتبع له، فإذا هلك ما في يد المضارب أمانة تبين أن ما استوفياه من رأس المال فيضمن المضارب ما استوفاه؛ لأنه أخذه لنفسه وما أخذه رب المال محسوب من رأس ماله. وإذا استوفى رأس المال فإن فضل شيء كان بينهما لأنه ربح. الفتاوى الهندية (33/ 160) الأصل أن قسمة الربح قبل قبض رب المال رأس ماله موقوفة إن قبض رأس المال صحت القسمة وإن لم يقبض بطلت ، كذا في محيط السرخسي . تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (5/ 54) قال - رحمه اللہ - (ويكون الربح بينهما مشاعا) أي لا تصح المضاربة إلا إذا كان الربح بينهما مشاعا؛ لأن الشركة تتحقق به حتى لو شرطا لأحدهما دراهم مسماة تبطل المضاربة؛ لأنه يؤدي إلى قطع الشركة على تقدير أن لا يزيد الربح على المسمى. قال الأتقاني وذلك؛لأن المقصود من عقد المضاربة هو الشركة في الربح فإذا اشترط لأحدهما دراهم مسماة كالمائة ونحوها تفسد المضاربة؛ لأن شرط ذلك يفضي إلى قطع الشركة؛ لأنه ربما لا يكون الربح إلا ذلك القدر فلا يبقى للآخر شيء من الربح۔ واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔