021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
وقف کی زمین کو منتقل کرنا
..وقف کے مسائلوقف کے متفرّق مسائل

سوال

زید نے ماضی میں کچھ زمین جنازہ گاہ کے لیے وقف کی تھی اور اس کو وقف کیے ہوئے تقریباً 15 سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے،اور اب اس جنازہ گاہ سے متصل زمین جو زید کی ملکیت تھی وہ اس کے ورثاء میں پہنچی تو اس زمین میں نئے آنے والے وارث نے سکیم(سوسائٹی) کی بنیاد رکھی ہے اور یہ جنازہ کی زمین بھی اس سکیم کے اندر آچکی ہے جس کو وہ منتقل کر کے دوسری جگہ بنانا چاہتا ہے۔کیا اس وارث کے لیے اس جنازہ گاہ کو اپنی اصل جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا جائز ہے یا نہیں؟

o

کسی غیر معمولی ضرورت یا ضرر کے بغیر زید کے ورثاء کے لیے جنازہ گاہ کو اپنی اصل جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا جائز نہیں ہے۔

حوالہ جات

درر الحكام شرح غرر الأحكام (2/ 134) (وإذا لزم) الوقف (وتم لا يملك) أي لا يكون مملوكا لصاحبه (ولا يملك) أي لا يقبل التمليك لغيره بالبيع ونحوه لاستحالة تمليك الخارج عن ملكه (ولا يعار ولا يرهن) لاقتضائهما الملك الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 384) مطلب في استبدال الوقف وشروطه (قوله: وجاز شرط الاستبدال به إلخ) اعلم أن الاستبدال على ثلاثة وجوه: الأول: أن يشرطه الواقف لنفسه أو لغيره أو لنفسه وغيره، فالاستبدال فيه جائز على الصحيح وقيل اتفاقا. والثاني: أن لا يشرطه سواء شرط عدمه أو سكت لكن صار بحيث لا ينتفع به بالكلية بأن لا يحصل منه شيء أصلا، أو لا يفي بمؤنته فهو أيضا جائز على الأصح إذا كان بإذن القاضي ورأيه المصلحة فيه. والثالث: أن لا يشرطه أيضا ولكن فيه نفع في الجملة وبدله خير منه ريعا ونفعا، وهذا لا يجوز استبداله على الأصح المختار كذا حرره العلامة قنالي زاده في رسالته الموضوعة في الاستبدال، وأطنب فيها عليه الاستدلال وهو مأخوذ من الفتح أيضا كما سنذكره عند قول الشارح لا يجوز استبدال العامر إلا في أربع ويأتي بقية شروط الجواز. واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔