021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کمزوری کی وجہ سے نذر کے روزہ کا حکم
..قسم منت اور نذر کے احکاممتفرّق مسائل

سوال

میں نے کچھ عرصہ پہلے ایک نذر مانی تھی کہ اگر میرا فلاں کام ہو جائے تو میں ایک سال تک ہر ہفتے میں ایک دن روزہ رکھوں گی۔اب میری وہ منت پوری ہو چکی ہے لیکن ا بھی میں بدنی کمزوری کی وجہ سے روزہ نہیں رکھ سکتی،تو اب میرے لیے شریعت مطہرہ میں کیا حکم ہے؟

o

نذر پوری ہونے کی صورت میں روزہ لازم ہوا ہے البتہ اگر اب روزہ نہیں رکھ سکتی تو بعد میں جب روزہ رکھنے کی طاقت پیدا ہو تب روزہ رکھنا لازم ہے، لیکن اگر بیماری کی وجہ سے روزہ رکھنےسے بالکل ہی معذور ہواوراتنی صحت کی امید بھی نہ ہو جس میں روزہ رکھ سکے تو اس صورت میں ان روزوں کا فدیہ دینا لازم ہے۔ ہر روزے کے بدلے پونے دو سیر گندم یا اس کی قیمت یعنی ایک فطرانے کے بقدر قیمت کسی مسکین کو دے۔

حوالہ جات

الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 124) والشيخ الفاني الذي لا يقدر على الصيام يفطر ويطعم لكل يوم مسكينا كما يطعم في الكفارات " والأصل فيه قوله تعالى: {وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ} [البقرة: 184] قيل معناه لا يطيقونه ولو قدر على الصوم يبطل حكم الفداء لأن شرط الخلفية استمرار العجز " ومن مات وعليه قضاء رمضان فأوصى به أطعم عنه وليه لكل مسكينا نصف صاع من بر أو صاعا من تمر أو شعير " لأنه عجز عن الأداء في آخر عمره فصار كالشيخ الفاني الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 427) (قوله وللشيخ الفاني) أي الذي فنيت قوته أو أشرف على الفناء، ولذا عرفوه بأنه الذي كل يوم في نقص إلى أن يموت نهر، ومثله ما في القهستاني عن الكرماني: المريض إذا تحقق اليأس من الصحة فعليه الفدية لكل يوم من المرض اهـ وكذا ما في البحر لو نذر صوم الأبد فضعف عن الصوم لاشتغاله بالمعيشة له أن يطعم ويفطر لأنه استيقن أنه لا يقدر على القضاء
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔