021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سودی اسٹامپ کی فروخت
..خرید و فروخت کے احکامبیع فاسد ، باطل ، موقوف اور مکروہ کا بیان

سوال

سائل کا پیشہ اسٹامپ فروشی ہے،کچھ لوگ اسٹامپ پر معاہدہ مستاجری،رہن بیع وغیرہ تحریر کرتے ہیں اور کچھ لوگ بذریعہ بینک اسٹامپ پرافٹ یعنی سود کا کام کرتے ہیں۔بنک سائل سے اسٹامپ بذریعہ کلائنٹ منگواتی ہے اور کسان اور دیگر لوگوں کو قرضہ فراہم کرتی ہے۔مختصراً بینک کا کام سائل کے پاس زیادہ ہوتا ہے،بینک سائل سے اسٹامپ منگواتی ہے اور لوگوں کو اسی اسٹامپ پر قرض فراہم کرتی ہے،کیا سائل بھی اس میں گناہ گار ہو گا جبکہ سائل کا کام صرف اسٹامپ دینا ہوتا ہے اور یہ اس کا پیشہ ہے۔

o

سودی اسٹامپ کا لکھنا اور فروخت کرنا اعانت علی المعصیہ(گناہ کے کام میں تعاون) ہے، لہذا یہ ناجائز(مکروہ تحریمی) ہے۔ اس کو فروخت کر نے والا گناہگار ہو گا اورفریقین کے لیے اس معاملہ کو فسخ کرنا دیانۃً واجب ہے۔اگر کسی وجہ سے فسخ ممکن نہ رہے تو اس سے معاملہ سے حاصل ہونے آمدنی صدقہ کرنا واجب ہے۔

حوالہ جات

صحيح مسلم للنيسابوري (5/ 50) 4177 - حدثنا محمد بن الصباح وزهير بن حرب وعثمان بن أبى شيبة قالوا حدثنا هشيم أخبرنا أبو الزبير عن جابر قال لعن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- آكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال هم سواء. فقہ البیوع (1/191) بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5/ 144) ويجوز بيع آلات الملاهي من البربط، والطبل، والمزمار، والدف، ونحو ذلك عند أبي حنيفة لكنه يكره وعند أبي يوسف، ومحمد: لا ينعقد بيع هذه الأشياء؛ لأنها آلات معدة للتلهي بها موضوعة للفسق، والفساد فلا تكون أموالا والظاہر ان الکراھۃ التی ذکرھا الحنفیۃ فی بیعھا تحریمیۃ،لما قال ابن الھمام فی اول شرحہ ل"فصل فی ما یکرہ" من الھدایہ: "لما کان دون الفاسد اخر عنہ۔ولیس المراد بکونہ دونہ فی حکم المنع الشرعی ، بل فی عدم فساد العقد، والا فھذہ الکراھات کلھا تحریمیۃ لا نعلم خلافا فی الاثم" الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 105) اعلم أن فسخ المكروه واجب على كل واحد منهما أيضا بحر وغيره لرفع الإثم مجمع الموسوعة الفقهية الكويتية (9/ 212) ذهب أبو حنيفة إلى أنه : لا يكره بيع ما لم تقم المعصية به ، كبيع الكبش النطوح ، والحمامة الطيارة ، والخشب ممن يتخذ منه المعازف . بخلاف بيع السلاح من أهل الفتنة ؛ لأن المعصية تقوم بعينه ، وهي الإعانة على الإثموالعدوان ، وإنه منهي عنه . بخلاف بيع ما يتخذ منه السلاح كالحديد ، لأنه ليس معدا للقتال ، فلا يتحقق معنى الإعانة وذهب الصاحبان من الحنفية ، إلى أنه لا ينبغي للمسلم أن يفعل ذلك ، لأنه إعانة على المعصية ، فهو مكروه عندهما ، خلافا للإمام ، وليس بحرام ، خلافا لما ذهب إليه الجمهور .
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔