021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کاروبار میں سرمایہ سے زیادہ نقصان
..شرکت کے مسائلشرکت سے متعلق متفرق مسائل

سوال

ہمارا کاروبار تھا جس میں باقی لوگوں نے بھی سرمایہ ملا کر شرکت کی تھی ۔تقریباً 20،25 دوسرے لوگوں نےآدھے نفع اور آدھے نقصان کی شرط پر ہمیں پیسے کاروبار میں لگانے کے لیے دیے،ہمارے کاروبار میں لگا ہوا کل سرمایہ دو کروڑ روپیہ تھا جس میں سے تقریباً پچاس لاکھ سرمایہ ہمارا اور ایک کروڑ پچاس لاکھ باقی شرکاء کا تھا۔کاروبار ہم چلاتےتھےجس میں باقی شرکاء کا کوئی عمل دخل نہیں تھا،عام طور پرسکریپ اور مل چلانے کے کاروبارمیں سرمایہ سے زیادہ کا مال خریدا جاتا ہے یعنی جس شخص کا سرمایہ دو کروڑ روپے ہو وہ پانچ یا چھ کروڑ تک کا مال خرید تا ہے اور دوسرے شرکاء کو نفع بھی ادھار اور نقد پر خریدے ہوئے مال میں ہونے والے منافع کے تناسب سے دیا جاتا ہے۔یہ کاروبار کا ایک عام اصول ہے جس سے سب واقف ہیں۔ہمارے مل کی پروڈکشن کم اور اخراجات زیادہ ہونے کی وجہ سے کاروبار میں پانچ کروڑ روپے تک کا نقصان ہوا جس میں کاروبار کا نہ صرف مکمل سرمایہ ڈوبا بلکہ تین کروڑ تک کا اضافی نقصان بھی ہوا جس کو ادا کرنے کے لیے ہم نے اپنے ذاتی اثاثے بیچے جس میں گاؤں کی زمین ایک کروڑ پانچ لاکھ،کراچی میں زمین ایک کروڑ چھتیس لاکھ اس کے علاوہ پچپن لاکھ روپے نقد ادا کیے،اب بھی تقریباً 25،30 لاکھ کا ادھار باقی ہے۔مندرجہ بالا تفصیل کی روشنی میں مندرجہ ذیل سوالات کے جوابات کی شریعت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔)ہمارے کاروبار میں ہونے والے نقصان کو کس طرح تقسیم کیا جائے گا۔کاروبار میں پیسے دینے والا آدھا نفع اور آدھا نقصان پر پیسے دیتا ہے؟

o

کسی سے پیسے لے کر اس کو کاروبار میں اس شرط پر لگانا کہ اس سے حاصل ہونے والا نفع دونوں کے درمیان برابرتقسیم ہوگا،درست ہےلیکن تجارت میں ہونے والا نقصان ہمیشہ شرکاء (Partner)کے درمیان،شرکاءکےسرمایہ (Capital)کےتناسب سےہی تقسیم ہو تاہے۔جس شریک کا کاروبار میں جتناسرمایہ ہو اسے اتنا ہی نقصان (Loss)ادا کرنا پڑے گا۔مثلا اگردونوں شرکاء کا سرمایہ ،برابر ہو تو نقصان (Loss)بھی دونوں پر برابرتقسیم ہوگا۔ کاروبار میں عامل (کاروبار کرنے والے)پر آدھے نقصان کی شرط لگانا باطل (Void) ہے۔اس اصول کی روشنی میں کاروبار میں میں ہونے والے نقصان کا ٪25 آپ،اور ٪75 باقی شرکاء ادا کریں گے۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 305) ولا خلاف أن اشتراط الوضيعة بخلاف قدر رأس المال باطل واشتراط الربح متفاوتا عندنا صحيح مجلة الأحكام العدلية (ص: 263) المادة (1369) الضرر والخسارة التي تحصل بلا تعد ولا تقصير تقسم في كل حال بنسبة مقدار رءوس الأموال , وإذا شرط خلاف ذلك فلا يعتبر. بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6/ 62) إذا شرطا الربح على قدر المالين متساويا أو متفاضلا، فلا شك أنه يجوز ويكون الربح بينهما على الشرط سواء شرطا العمل عليهما أو على أحدهما والوضيعة على قدر المالين متساويا ومتفاضلا؛ لأن الوضيعة اسم لجزء هالك من المال فيتقدر بقدر المال،
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔