021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
پارٹنر شپ میں فیصد کے اعتبار سے نفع مقرر کرنا
..مضاربت کا بیانمتفرّق مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس بارے میں کہ: اگر میں کسی ایسے بندے یا کمپنی کے ساتھ پارٹنر بنوں جو مجھے یہ کہے کہ چار لاکھ انویسٹ کرو، کام ہم کریں گے اور پرافٹ میں وہ پرسینٹیج ( فیصد) فکس کردے کہ تم صرف پیسہ لگا رہے ہو اس لیے صرف 35 فیصد تمہارا،اور ہم کام کررہے ہیں، محنت کررہے ہیں تو 65 فیصد ہمارا اور تمہارا جو 35 فیصد ہے ہر مہینہ 60000 ہزار بنے گا۔ تو کیا یہ جائز ہے؟

o

حاصل ہونے والے نفع میں سے فیصد کے اعتبارے سے آپس میں نفع طے کرنا جائز ہے خواہ فیصد کم ہو یا زیادہ۔ یہاں چونکہ حاصل ہونے والے نفع میں سے فیصد کے اعتبار سے نفع کی تعیین کی گئی ہے، جبکہ 6000ہزار کا ذکر صرف اندازے کے طور پر کیا گیا ہے، اس لیے یہ جائز ہے۔ البتہ اگر سرمایہ کا کوئی فیصد بطور نفع طے کیا گیا ہو یا 6000 ہزار کا ذکر نفع کی تعیین کے طور پر کیا گیا ہو( جس کی علامت یہ ہے کہ نفع6000ہزار سے کم ملنے کی صورت میں شریک کو مطالبے کا حق حاصل ہو ) تویہ صورت ناجائز ہوگی۔

حوالہ جات

.
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔