021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جھوٹ بول کر سامان بیچنا اوراس سے حاصل ہونے والی آمدنی کا حکم
..خرید و فروخت اور دیگر معاملات میں پابندی لگانے کے مسائلمتفرّق مسائل

سوال

بعض اوقات جب ہم ایک چیز خریدتے ہیں تو بائع جھوٹ بول کے زیادہ ریٹ بتاکر وہ چیز بیچ دیتاہے، حالانکہ اس کا ریٹ کم ہوتاہے تو کیا اس جھوٹ بولنے کی وجہ اس کی کمائی حرام تو نہیں ہوئی؟تفصیل کے ساتھ وضاحت فرمائیں۔ شکریہ ۔

o

اس کی درج ذیل تین صورتیں ہیں: ۱۔بائع نے یہ کہا ہوکہ مارکیٹ میں اس کے دس روپے قیمت ہے، میں بھی دس روپے میں آپ کو دے رہا ہوں،حالانکہ اس چیز کے مارکیٹ ریٹ آٹھ روپے تھے تو اس صورت میں اگر بائع نے جانتے بوجھتے جھوٹ بولا تو اس کو اس کا گناہ تو ملے گا لیکن یہ بیع درست ہوگی اور بائع کے لیے نفع بھی حلال ہوگا۔ ۲۔ اگربیع تولیہ ہے یعنی بائع یہ کہتاہے کہ مجھے یہ چیز دس روپے کی پڑی ہے میں آپ کو بھی دس کی دیتا ہوں، حالانکہ حقیقت میں یہ چیز بائع کو آٹھ روپے کی پڑی تھی تو یہ خیانت ہے، بائع کے لیے ایسا کرنا جائز نہیں ہے۔ اگر بائع نے ایسا کرلیا تو اب حکم یہ ہے کہ جتنے پیسے،جھوٹ بول کر زیادہ لیے ہیں وہ واپس کرے۔مذکورہ مثال میں دو روپے مشتری کو واپس کرے گا۔اگر مشتری یا اس کے وارث کو کسی وجہ سے واپس کرنا ممکن نہیں ہے تو یہ دو روپے مشتری کی طرف سے صدقہ کرے،اس دو روپے کا استعمال بائع کے لیے جائز نہیں ہے۔ باقی آٹھ روپے بائع کے لیے حلال ہیں۔ ۳۔اگربیع مرابحہ ہے یعنی بائع یہ کہتاہے کہ مجھے یہ چیز دس روپے کی پڑی ہے اور میں آپ کو پانچ روپے نفع کے ساتھ پندرہ کی بیچتاہوں،حالانکہ اسے حقیقت میں آٹھ روپے کی پڑی تھی تو یہ بھی خیانت ہے اور اس طرح کرنا جائز نہیں ہے۔اس صورت کاحکم یہ ہے کہ خریدار کو دو اختیار ملیں گے: ۱۔ چاہے تو وہ اس معاملہ کو برقرار رکھے کہ پندرہ پر راضی ہوجائے،اگر خریدار راضی ہوگیا تو اس صورت میں پورے پندرہ روپے بائع کے لیے حلال ہوں گے۔ ۲۔یا چاہے تو اس معاملے کو ختم کردے اور بائع کو وہ چیز واپس کردے۔ لیکن غلط بیانی کی وجہ سے دونوں صورتوں میں بائع گناہ گار ہوگا۔ اگر بائع نے اس طرح معاملہ میں خیانت کی اور مشتری کو پتہ نہ چلا تو بائع کی ذمہ داری ہے کہ وہ مشتری کو بتائےتاکہ وہ اس معاملہ پر راضی ہو یا اسے ختم کرے۔ اگر کسی وجہ سے مشتری کو بتانا ممکن نہ ہوتوپھر بائع کے لیے خیانت کر کے حاصل ہونے والا نفع استعمال کرنا جائز نہیں۔ جتنی خیانت کی اس کے بقدر پیسوں کو صدقہ کرے۔مذکورہ صورت میں چونکہ آٹھ والی چیز دس کی بتائی دو روپے کی یہاں خیانت ہوئی اور اس دو روپے پر ایک روپیہ نفع کمایا۔(کل پانچ روپے نفع کمایاہے ،اس طرح ہر دو روپے کے بدلے ایک روپیہ نفع حاصل ہوا) لہذا تین روپے صدقہ کرے۔ باقی بارہ روپے اس کے لیے حلال ہیں۔

حوالہ جات

الهداية في شرح بداية المبتدي (3 / 56): "فإن اطلع المشتري على خيانة في المرابحة فهو بالخيار" عندأبي حنيفة رحمه الله إن شاء أخذه بجميع الثمن وإن شاء تركه "وإن اطلع على خيانة في التولية أسقطها من الثمن۔
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔