021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
این جی اوز سے امداد لینا اور ان میں نوکری کا حکم
..جائز و ناجائزامور کا بیانعلاج کابیان

سوال

۳۔ پاکستان میں جو این جی اوز کام کر رہے ہیں، ان سے امداد لینا اور ان میں نوکری کرنا جائز ہے یا نہیں؟ قرآن و سنت اور فقہ حنفی کی روشنی میں جواب عنایت فرماکر مشکور و ممنون فرمائیں۔

o

چونکہ این جی اوز کا بنیادی مقصد، انسانیت کی خدمت ہوتاہے، جو کہ ایک جائز مقصد ہے اور عموماً رفاہ عامہ کے کام میں مصروف عمل ہوتی ہیں۔ اس لیے ان میں نوکری کرنا ،جائز ہے۔ البتہ اگر کسی این جی او کے بارے میں ، اس بات کاقطعی علم ہو کہ یہ "انسانیت کی خدمت" کی آڑ میں در پردہ اپنے مذہب کی تبلیغ کر رہی ہےیاکفریہ عقائدو باطل نظریات کو فروغ دے رہی ہے یاکسی دوسری غیر شرعی سرگرمی میں ملوث ہے تو پھر ایسی این جی اوزسے امداد لینا،ان سے تعاون کرنا اور ان میں ملازمت کرنا شرعاً جائز نہیں۔

حوالہ جات

{وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ} [المائدة: 2] {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِينَ اتَّخَذُوا دِينَكُمْ هُزُوًا وَلَعِبًا مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَالْكُفَّارَ أَوْلِيَاءَ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ (57) } [المائدة: 57] البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (5 / 97): والذمي إنما يرضخ له إذا قاتل أو دل على الطريق لأنه فيه منفعة للمسلمين إلا أنه يزاد على السهم في الدلالة إذا كانت فيه منفعة عظيمة ولا يبلغ فيه السهم إذا قاتل لأنه جهاد، والأول ليس من عمله فلا يسوى بينه وبين المسلم في حكم الجهاد ودل كلامهم على أنه يجوز الاستعانة بالكافر على القتال إذا دعت الحاجة إلى ذلك كما قدمناه
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔