021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ریز گاری کے کاروبار میں نفع کی جائز صورت
..خرید و فروخت کے احکامبیع صرف سونے چاندی اور کرنسی نوٹوں کی خریدوفروخت کا بیان

سوال

آج کل ایسا ہوتا ہے کہ بس کنڈیکٹر کو کُھلے پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے تو ان کے لیے بس اسٹاپ پر کچھ لوگ ریزگاری لے کر بیٹھ جاتے ہیں۔ جب کوئی کھلا لینے کے لیے آتاہے مثلا کوئی سو روپے کے سکے لینے آیا تو یہ اسے پچانوے کی ریز گاری دیتے ہیں۔ پانچ روپےاپنے نفع کےطورپر رکھ لیتے ہیں۔ کیاایسا کرنا جائز ہے؟

o

ایسا معاملہ کرنا جائز نہیں۔ سوروپے کے بدلہ سوروپے کی ریز گاری دینا ہی ضروری ہے۔ کمی زیادتی کی وجہ سےمعاملہ سود کے زمرے میں داخل ہوجائے گا جوکہ ناجائز و حرام ہے۔ البتہ یوں کیا جاسکتا ہے کہ پچانوے کی ریز گاری کے ساتھ کوئی چھوٹی سی چیز ٹافی،بسکٹ وغیرہ دے دی جائے۔ ایسا کرنے سے معاملہ سود کے زمرے سے نکل کر جائز ہوجائے گا۔

حوالہ جات

الهداية في شرح بداية المبتدي (3 / 85): قال: "ومن أعطى صيرفيا درهما وقال أعطني بنصفه فلوسا وبنصفه نصفا إلا حبة جاز البيع في الفلوس وبطل فيما بقي عندهما" لأن بيع نصف درهم بالفلوس جائز وبيع النصف بنصف إلا حبة ربا فلا يجوز۔ الهداية في شرح بداية المبتدي (3 / 86): "ولو قال أعطني نصف درهم فلوسا ونصفا إلا حبة جاز" لأنه قابل الدرهم بما يباع من الفلوس بنصف درهم وبنصف درهم إلا حبة فيكون نصف درهم إلا حبة بمثله وما وراءه بإزاء الفلوس۔
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔