021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مکتبہ والے کو کتاب کا آرڈر کرنا
..خرید و فروخت کے احکامسلم اور آرڈر پر بنوانے کے مسائل

سوال

کبھی ایسا ہوتا ہےکہ مکتبہ والے کے پاس طالب علم آتا ہے اور ایک کتاب مانگتا ہے۔ مکتبہ والے کے پاس وہ کتاب نہیں ہوتی تو مکتبہ والا کہتا ہے کہ اتنے پیسے دے دو میں کل تک آپ کو لاکر دے دوں گا۔ اس طرح کا معاملہ کرنا جائز ہے؟

o

جو چیز ملکیت میں نہ ہو اس کو بیچنا جائز نہیں ،لہذا مکتبہ والے کے لیے ایسی کتاب بیچنا توجائز نہیں جو اس کی ملکیت میں نہیں۔ البتہ ایسی صورت میں وعدہ کا معاملہ کر لیا جائے کہ مکتبہ والا یہ وعدہ کرلے کہ میں کل کتاب لاکر آپ کو بیچ دوں گا۔ پھر جب مکتبہ والا کتاب لے آئے تو اب خریدو فروخت کا باقاعدہ عقد کرلیا جائے۔اس طرح وعدہ کی صورت میں مکمل یا کچھ قیمت پیشگی بھی لی جاسکتی ہے۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5 / 146): (ومنها) وهو شرط انعقاد البيع للبائع أن يكون مملوكا للبائع عند البيع فإن لم يكن لا ينعقد، وإن ملكه بعد ذلك بوجه من الوجوه۔۔۔۔۔۔۔روي أن «حكيم بن حزام كان يبيع الناس أشياء لا يملكها، ويأخذ الثمن منهم ثم يدخل السوق فيشتري، ويسلم إليهم فبلغ ذلك رسول الله - صلى الله عليه وسلم - فقال لا تبع ما ليس عندك» ، ولأن بيع ما ليس عنده بطريق الأصالة عن نفسه تمليك ما لا يملكه بطريق الأصالة، وأنه محال. الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4 / 516): قال: في الولوالجية: دفع دراهم إلى خباز فقال: اشتريت منك مائة من من خبز، وجعل يأخذ كل يوم خمسة أمناء فالبيع فاسد وما أكل فهو مكروه؛ لأنه اشترى خبزا غير مشار إليه، فكان المبيع مجهولا ولو أعطاه الدراهم، وجعل يأخذ منه كل يوم خمسة أمنان ولم يقل في الابتداء اشتريت منك يجوز وهذا حلال وإن كان نيته وقت الدفع الشراء؛ لأنه بمجرد النية لا ينعقد البيع، وإنما ينعقد البيع الآن بالتعاطي والآن المبيع معلوم فينعقد البيع صحيحا. اهـ.
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔