021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
موٹر سائیکل کو قسطوں میں بیچنا
..خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

آج کل موٹر سائیکل قسطوں پر فروخت کی جاتی ہے۔ اور اس کی قیمت نقد کے مقابلہ میں زیادہ رکھی جاتی ہے۔ کیا ایسا کرنا جائز ہے؟کیا یہ سود ہے؟

o

موٹر سائیکل کو قسطوں میں فروخت کرنے کی صورت میں، نقد کی بنسبت زیادہ قیمت رکھنا جائز ہے،یہ سود نہیں۔ کیونکہ سود وہ اضافہ ہوتا ہے، جس کے مقابلہ میں کوئی چیز نہ ہو جبکہ یہاں پوری رقم (اصل قیمت اور اضافہ جو ادھار کی وجہ سے ہے،دونوں) کو موٹر سائیکل کا عوض بنایا گیا ہے۔لہذا یہ اضافہ سود نہیں کہلائے گا۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5 / 224): ولو اشترى شيئا نسيئة لم يبعه مرابحة حتى يبين؛ لأن للأجل شبهة المبيع وإن لم يكن مبيعا حقيقة؛ لأنه مرغوب فيه ألا ترى أن الثمن قد يزاد لمكان الأجل فكان له شبهة أن يقابله شيء من الثمن فيصير كأنه اشترى شيئين ثم باع أحدهما مرابحة على ثمن الكل؛ لأن الشبهة ملحقة بالحقيقة في هذا الباب فيجب التحرز عنها بالبيان. الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5 / 168): باب الربا هو لغة: مطلق الزيادة وشرعا (فضل) ولو حكما فدخل ربا النسيئة۔۔۔ (خال عن عوض)۔۔۔ (بمعيار شرعي)۔۔۔ (مشروط) ذلك الفضل (لأحد المتعاقدين)۔۔۔۔ (في المعاوضة)۔ حوالہ نمبر:6023/39 فتویٰ نمبر: 62424 سائل: مجیب: حارث حبیب مفتی : عابد شاہ صاحب مفتی: حسین خلیل صاحب مفتی: مفتی: کتاب: خرید و فروخت کے احکام باب: خرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل تاریخ: 2-Apr-19 قسط ادا نہ کرنے کی صورت میں قیمت میں اضافہ کا حکم سوال۲:قسطوں پر دی ہوئی موٹر سائیکل کی قسط ادا نہ کی جائے تو موٹر سائیکل کی قیمت میں اضافہ کیا جاسکتا ہے؟ o مذکورہ صورت میں موٹر سائیکل کی قیمت میں اضافہ کرنا سود ہےاور ناجائز ہے۔کیونکہ وقت کے مقابلہ میں قیمت میں علیحدہ سے اضافہ کرنا جائز نہیں،البتہ عقد کے ضمن میں وقت کوملحوظ رکھ کر قیمت میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔اس لیے کہ جب عقد کے ضمن میں وقت کے مقابلہ میں قیمت میں اضافہ کیا جاتاہے تو درحقیقت اس چیز کا عوض ہوتا ہے جس کو بیچا جارہا ہوتا ہے ،خالصۃً وقت کا عوض نہیں رہتا۔جبکہ الگ سے قسط ادانہ کرنے کی صورت میں قیمت میں اضافہ کرنا، محض وقت کے عوض کے طور پر ہوتا ہے،اور شریعت کی نظر میں وقت کوئی ایسی چیز نہیں جس کا عوض لیا جائے،گویا کہ یہ ایسا ہوگیا جیسا کہ اس کے مقابلہ میں کچھ نہ ہو، یعنی سود بن گیا، اس لیے ایسا کرنا جائز نہیں۔ بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5 / 183): (وأما) ربا النساء فهو فضل الحلول على الأجل، وفضل العين على الدين في المكيلين، أو الموزونين عند اختلاف الجنس، أو في غير المكيلين، أو الموزونين عند اتحاد الجنس عندنا بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5 / 215): (أما) فساد الشرط؛ فلأنه اعتياض عن الأجل وأنه لا يجوز؛ لأن الأجل ليس بمال فلا يجوز الاعتياض عنه. الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5 / 639): (الصلح الواقع على بعض جنس ماله عليه) من دين أو غصب (أخذ لبعض حقه وحط لباقيه لا معاوضة للربا) وحينئذ (فصح الصلح بلا اشتراط قبض بدله عن ألف حال على مائة حالة أو على ألف مؤجل وعن ألف جياد على مائة زيوف ولا يصح عن دراهم على دنانير مؤجلة) لعدم الجنس فكان صرفا فلم يجز نسيئة (أو عن ألف مؤجل على نصفه حالا) (قوله: حالا) لأنه اعتياض عن الأجل وهو حرام۔
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔