اسٹیٹ بینک کے شریعہ ڈپارٹمنٹ میں ملازمت کرنا جائز ہے، خواہ کسی بھی قسم کی ہو،کیونکہ اس ڈپارٹمنٹ میں جید علماء کی زیر نگرانی شریعت کے مطابق کام ہوتا ہے ۔اس کے علاوہ دوسرے ڈپارٹمنٹ میں ملازمت کے بارے میں تفصیل یہ ہے کہ اگر کام ایسا ہو جس کا تعلق براہ راست سود سے ہو یا وہ کام سودی کاروبار میں بلاواسطہ معاون بن رہا ہوجیسے اکاؤنٹنگ، آڈٹنگ وغیرہ تو ایسی ملازمت ناجائز ہے۔
البتہ جس کام کا تعلق براہ راست سودی کاروبار سے نہیں ہے جیسے سؤیپر ،ڈرائیور وغیرہ تو ایسی ملازمت جائز ہے، البتہ بہتر یہ ہے کہ سودی بینک کی ہر ملازمت سے حتی الامکان بچا جائے۔
حوالہ جات
صحيح مسلم (3 / 1219):
قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا، ومؤكله، وكاتبه، وشاهديه» ، وقال: «هم سواء»
المبسوط للسرخسي (14 / 8):
وقال - صلى الله عليه وسلم - «الراشي والمرتشي والرايش في النار، ولعن الله من أعان الظلمة، أو كتب لهم» والأصل في الكل قوله {ولا تعاونوا على الإثم والعدوان} [المائدة: 2]