| 67103 | طلاق کے احکام | طلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان |
سوال
کیافرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں :
میرے قریبی عزیزہیں، جنہوں نےغصے میں آکریہ کہاکہ: ’’اگر میں نے اپنی بیٹی فلاں کودی تو مجھ پر میری بیوی طلاق ہوگی ‘‘ یہ بات انہوں نے کئی بار کہی،خاندان کے بڑوں کے اصرار پر وہ بیٹی کا رشتہ دینے پر راضی ہوگئے ہیں لیکن وہ کہتے ہیں کہ علماء سے فتوی لاؤاس کی روشنی میں میں کوئی قدم اٹھاؤں گا، اب آپ سے مندرجہ ذیل سوالات کے جوابات مطلوب ہیں :
کیاایسی کوئی صورت ہے کہ بیوی بھی حرام نہ ہو اور بیٹی کارشتہبھی اسی شخص سے ہوجائے، بصورت دیگر خاندان میں بہت بڑےفسادکاخطرہ ہے ؟اگر کوئی حیلہ ہے توتفصیل سے آگاہ فرمائیے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شوہر کے اس جملے’’اگر میں نے اپنی بیٹی فلاں کودی تو مجھ پر میری بیوی طلاق ہوگی ‘‘ میں طلاق کو فلاں شخص کے ساتھ بیٹی کی شادی پر معلق کیا گیاہے،لہذا اگر اس مذکور شخص کے ساتھ بیٹی کی شادی ہوجائے تو یہاں طلاق واقع ہوگی۔
اس معلق طلاق کے وقوع سے بچنے کی صورت یہ ہے کہ یہ شخص اپنی اہلیہ کوایک طلاق بائن دیدے،پھرجب بیوی کی عدت(اگر حیض والی خاتون ہے تو تین ماہواریاں،اگر حیض والی نہیں ہے تو تین مہینے اور اگر حاملہ ہوتو بچے کی ولادت پر )ختم ہوجائے توبیٹی کا نکاح اس شخص سے کردیاجائے،چونکہ اس وقت ان کی اہلیہ ان کے نکاح میں نہیں ہوگی اس لیے تین طلاقیں واقع نہیں ہوں گی اورشرط پوری ہوجائے گی، یوں تعلیق ختم ہوجائے گی، پھریہ دونوں دوبارہ باہمی رضامندی سے نکاح کرلیں۔
حوالہ جات
وفی فتح القدير (10/ 437):
"وعرف في الطلاق أنه لو قال إن دخلت فأنت طالق إن دخلت فأنت طالق إن دخلت فأنت طالق فدخلت وقع عليها ثلاث تطليقات".
وفی الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 355):
"فحيلة من علق الثلاث بدخول الدار أن يطلقها واحدةً ثم بعد العدة تدخلها فتنحل اليمين فينكحها".
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
23/محرم1440ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


