03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مجہول قیمت پرپبلشرکے ساتھ کتاب کا معاہدہ کرنا
67152خرید و فروخت کے احکامبیع فاسد ، باطل ، موقوف اور مکروہ کا بیان

سوال

بخدمت جناب مفتی صاحب!

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !

میں ایک سائنسدان ہوں جو کہ آئرلینڈ میں تدریسی اور تحقیقی کام انجام دے رہا ہوں۔میرا سوال کتا ب کے چھپوانے اور اس کا معاوضہ لینے سےمتعلق ہے،عالمی سطح پر دنیا کے اندر بہت سارے پبلشرز ہیں جو کہ سائنسدانوں کو کتابیں اعلی معیار پر چھاپ کردیتے ہیں،ان میں سے کچھ مشہور یہ ہیں۔

Springer ,Wiley ,Cambridge ,University Press, CRC Press ect.

اب اگر سائنسدان نے کو ئی کتا ب چھپوانی ہے تو لا محالہ ان ہی پبلشرز کے ذریعے سے ہی اس کی کتاب چھپ سکتی ہے،کیونکہ ان پبلشرز کے پاس کتا ب کا چھپوانا بذات خود بہت بڑی عزت افزائی کی بات ہے ،کسی سائنسدان کے لیے۔اس لیے کہ یہ پبلشرز ہر کسی کی کتابیں نہیں چھاپتے۔ تو اب سائنسدان ایک کتاب لکھنے کا ارادہ کرتا ہے،کتاب لکھنے سے پہلے پبلشر سے معاہدہ کرتا ہے کہ میں ایک سال کے اندر کتاب لکھوں گا،اور پھر آپ کو اس کا مسودہ دے دوں گا۔پبلشر پھر اس کتا ب کو اپنے خرچے پر چھاپے گا،پھر چھاپنے کے بعد دوسال بعد یہ کتاب بکنے پر پبلشر کچھ بھی معاوضہ سائنسدان کو نہیں دے گا،مگر جب سائنسدان ان میں سے کسی بھی پبلشر کے ساتھ معاہدہ کرتا ہے توپبلشر اس بات کا تعین نہیں کرتے کہ کتنی کتابیں بکیں گی ،کیونکہ پبلشر کو خود بھی نہیں پتہ ہوتا کہ کتنی کاپیاں کتا ب کی دوسال کے اندر بکیں گی،ہاں البتہ جب سائنسدان کتا ب کا مسودہ پبلشر کو دیتا ہے تو جب کتاب چھپ جاتی ہےتو پھر اس کی قیمت متعین ہوجاتی ہے،ہاں معاہدے کے اندر یہ ضرور لکھا ہے کہ اب سے دوسال بعد جتنی کتابیں بکیں گی ان کا اس سائنسدان کو معاوضہ دیاجائے گا،یہ بات بھی غور طلب ہے کہ پبلشرز کے معاہدے تقریبا ایک جیسے ہی ہوتے ہیں اور سائنسدان کا اسکے مندرجات کو تبدیل کرنے کا اختیار نہیں ہوتا،مثلا:سائنسدان روائلٹی کا معاوضہ بڑھا نہیں سکتا یا سائنسدان یہ شق معاہدے میں نہیں ڈال سکتا کہ بالفرض دوسال میں ایک ہزار کاپیاں کتاب کی بکیں گی تو مجھے آپ فلاں تاریخ کو اس کا معاوضہ دے دیجیے گا،پبلشرز اس پر یہ کہے کہ ہم یہ شق معاہدے میں نہیں ڈال سکتے ،یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ تقریبا پوری دنیا کے سائنسدان(چاہے مسلمان ہوں یا غیر مسلم) ان پبلشرز کے ساتھ اسی طریقے سے معاہدے پر دستخط کر کے اپنی کتابوں کا معاوضہ لیتے ہیں۔

اب میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح معاہدے سے سائنسدان کا اپنی کتابوں کا معاوضہ لینا جائز ہے؟اور اگر جائز نہیں ہے تو پھر پوری دنیا کے مسلمان سائنسدان کس طریقے سے اپنی کتابیں ان پبلشرز کے پاس چھپوائیں گے؟اور اگر معاوضہ لے لیا ہے تو کیا اس معاوضہ کو لوٹانا پڑےگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

خرید وفروخت کے اصولوں میں سے ایک اہم اصول یہ ہے کہ فروخت کردہ چیز کی قیمت معلوم ہو۔ اگر قیمت مجہول رکھی جائے تو وہ معاملہ فاسد ہوجاتا ہے،اور فاسد معاملے کا حکم یہ ہوتا ہے کہ اس کو ختم کیا جائے،یہاں بھی کتاب پبلشر کو دینے کے بعدجو معاہدہ ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ دوسالوں میں جتنی کتابیں فروخت ہوں گی اس میں سے آٹھ فیصد بطور قیمت دیں گے ،اب یہ معلوم نہیں کہ دوسالوں میں کتنی کتابیں فروخت ہوں گی،لہذا اس طور پر یہ معاہدہ کرنا فاسد ہے،نیز اس صورت میں غرر فاحش پایا جاتاہے،جس کو نظرانداز نہیں کیاجاسکتا،

اگر ان پبلشرز کے معاہدوں میں تبدیلی کا امکان نہیں ہے تو اپنے لیے نئے پبلشرز کو ڈھونڈ لیں،جو آپ کو یہ شرعی حق دینے پر رضامند ہوں،اللہ تعالی اس شرعی معاہدے کی پاسداری کی بناء پر آپ کے لیے راستے کھول دیں گے۔

اگر یہی پبلشرز آپ کے ساتھ معاہدے کے اصولوں میں تبدیلی پر تیار ہیں تو شرعی اعتبارسے اس معاملے کا حل یہ ہے:

1۔ اندازے کے مطابق شروع سے ایک قیمت مقرر کی جائے ،جس کی ادائیگی لازم ہو،جو اس کام سے وابستہ لوگ ہوتے ہیں انہیں یہ اندازہ لگانے میں مشکلات نہیں ہوتی ہیں۔

2۔کتاب اپنی ملکیت میں رکھی جائے،پبلشر کو فقط کتاب چھاپنے کی قیمت دی جائے۔آگے اگر وہ کتاب فروخت کرنے میں آپ کی معاونت کرتے ہیں تو اس میں بھی باہمی رضامندی سے معاونت کی فیس مقرر کی جاسکتی ہے۔

3۔کتاب میں دونوں شریک ہوجائیں،اس طور پر کہ کتاب آپ کی ہو،سرمایہ اور محنت ان کی ہو،کتاب کی ایک قیمت مقرر کرکے اس میں سے کچھ حصہ پبلشر خرید کر ادائیگی کرے،تاکہ شرکت قائم ہوسکے،دوسالوں میں جس قدر کتابیں فروخت ہوجائیں اس کی رقم اپنے اپنے فیصدی حصے کے مطابق تقسیم کی جائے،اس کے بعد پبلشر کچھ رقم دے کر مصنف سےاس کا بقیہ حصہ خرید لے،اس میں باہمی رضامندی سے کوئی بھی قیمت مقرر کی جاسکتی ہے۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5/ 156):

"(ومنها) أن يكون المبيع معلوماً وثمنه معلوماً علماً يمنع من المنازعةفإن كان أحدهما مجهولاً جهالةً مفضيةً إلى المنازعة فسد البيع، وإن كان مجهولاً جهالةً لا تفضي إلى المنازعة لا يفسد؛ لأن الجهالة إذا كانت مفضيةً إلى المنازعة كانت مانعةً من التسليم والتسلم، فلايحصل مقصود البيع، وإذا لم تكن مفضيةً إلى المنازعة لا تمنع من ذلك؛ فيحصل المقصود وبيانه في مسائل: إذا قال: بعتك شاةً من هذا القطيع أو ثوباً من هذا العدل فالبيع فاسد؛ لأن الشاة من القطيع والثوب من العدل مجهول جهالةً مفضيةً إلى المنازعة لتفاحش التفاوت بين شاة وشاة، وثوب وثوب، فيوجب فساد البيع، فإن عين البائع شاةً أو ثوباً وسلمه إليه ورضي به جاز، ويكون ذلك ابتداء بيع بالمراضاة؛ ولأن البياعات للتوسل إلى استيفاء النفوس إلى انقضاء آجالها والتنازع يفضي إلى التفاني فيتناقض؛ ولأن الرضا شرط البيع والرضا لا يتعلق إلا بالمعلوم".

العناية شرح الهداية": (ج 8 / ص 270) :

 "( وإذا أراد الشركة بالعروض ) لما كان جواز عقد الشركة منحصرا في الدراهم والدنانير والفلوس النافقة وفي ذلك تضييق على الناس ذكر الحيلة في تجويز العقد بالعروض توسعة على الناس فقال: ( وإذا أراد الشركة بالعروض باع كل واحد منهما نصف ماله بنصف ما للآخر، ثم عقدا الشركة )؛ لأنه إذا باع كل واحد منهما نصف ماله بنصف ما للآخر، صار نصف مال كل واحد منهما مضمونا على الآخر بالثمن، فكان الربح الحاصل ربح مال مضمون، فيكون العقد صحيحا .

قال المصنف رحمه الله: ( وهذه شركة ملك لما بينا أن العروض لا تصلح رأس مال شركة ) واستشكله الشارحون بأنه لو كان المراد بالشركة شركة الملك لم يحتج إلى قوله:" ثم عقدا الشركة"  وبأن العروض لا تصلح رأس مال الشركة إذا لم يبع أحدهما نصف عرضه بنصف عرض الآخر ، أما إذا باع فهو الحيلة في جوازه

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

05/صفر1441ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب