03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سونے کے زیورات کی ادھار خرید وفروخت
67382سود اور جوے کے مسائلسود اورجوا کے متفرق احکام

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلے کے بارے میں

(1)دکاندار اور گاہک کے درمیا نسونے کے زیوراتکا لین دین ادھار کی صورت میں جائز ہے یا نہیں ؟

(2)اسی طرح رقم کے بدلے میں ادھار بیچنا جائز ہے یا نہیں ؟مثلا گاہک ایک لاکھ کے زیوارت خریدتا ہے اور ساٹھ ہزار دے کر چالیس ہزار ادھار کردیتا ہے،کہ فلاں تاریخ کو ادا کر دوں گا ،آیا یہ طریقہ جائز ہے یا نہیں ؟

(3)چونکہ سونے کا ریٹ کم اور زیادہ ہو تا رہتا ہےابگاہک سے مقررہ تاریخ کو دوکاندار کس ریٹ پر اپنا ادھار وصول کرے گا،نئے ریٹ پر یا پرانے ریٹ پر جس پر اس نے زیورات فروخت کیے تھے ؟

اگر ادھار جائز نہیں تو اس کی کوئی دوسری جائز صورت بتا دیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سونے کو جب سونے کے مقابلے میں بیچا جارہا ہوتو ا س میں دوباتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے :

ایک یہ کہ دونوں کی مقدار برابر ہونی چاہیے ،کمی یا زیادتی کی صورت میں یہ سود بن جاتا ہے جوجائز نہیں،

دوسری بات یہ کہ دونوں جانب سے اسی مجلس میں قبضہ ہونا ضروری ہے ،لہذا کسی ایک طرف سے بھی ادھار کامعاملہ ہو تو یہ جائز نہیں۔

اس تمہید کے بعد اب ترتیب وار سوالات کے جوابات ذکرکیے جاتے ہیں:

  • 1)سونے کو سونے کے بدلے میں ادھار بیچنا درست نہیں ،بلکہ اسی وقت دونوں جانب سے قبضہ ضروری ہے۔

اس کی صحیح صورت یہ ہے کہ ا  ٓپس میں یہ معاملہ پیسوں کے ذریعے کیا جائے، کہ گاہک دکاندار کو وہ زیورات پیسوں کے بدلے بیچ دےاور اس سے سونارقم کے بدلے ہی خرید لے،اگراس وقت ادائیگی کے لیے اتنی رقم نہ ہو توادھاربھی جائز ہے،البتہ یہ ضروری ہےکہ ادھار رقم کے بدلے میں جس سونے کی خرید وفروخت ہورہی ہے ،اس پر اسی مجلس میں قبضہ کرلیا جائے ،اور دکاندار کےنفع کمانے کی صورت یہ ہوسکتی ہے کہ دکاندارگاہک سےزیورات کم قیمت پر خرید لے اور سونا  نسبتا زیادہ  قیمت پر  فروخت کرے۔

(2)رقم کے بدلےمیں ادھار بیچنادرست ہے، تاہم اس صورت میں رقم یا سونے میں سے کسی ایک پر اسی مجلس میں قبضہ کرنا ضروری ہے۔

(3)اگر رقم ادھار ہو تو پھر وصولی کے وقت وہی قیمت وصول کی جائے گی جس پر زیورات فروخت کیے تھے۔

حوالہ جات

وفی الصحيح لمسلم (5 / 44):

4147 - عن عبادة بن الصامت قال قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم- « الذهب بالذهب والفضة بالفضة والبر بالبر والشعير بالشعير والتمر بالتمر والملح بالملح مثلا بمثل سواء بسواء يدا بيد فإذا اختلفت هذه الأصناف فبيعوا كيف شئتم إذا كان يدا بيد ».

وفی مصنف عبد الرزاق(8/9):

عن ابن عمررضی اللہ عنہ قال: نہی رسول اللہ ﷺ عن بیع الکالیئ وھو بیع الدین بالدین۔

وفی الدر(5/266):

( وما غلب فضته وذهبه فضة وذهب ) - حكما ( فلا يصح بيع الخالص به ، ولا بيع بعضه ببعض إلا متساويا وزنا و ) كذا ( لا يصح الاستقراض بها إلا وزنا ) كما مر في بابه ( والغالب ) عليه ( الغش منهما في حكم عروض ) اعتبارا للغالب ( فصح بيعه بالخالص إن كان الخالص أكثر ) من المغشوش ليكون قدره بمثله والزائد بالغش كما مر ( وبجنسه متفاضلا ) وزنا وعددا بصرف الجنس لخلافه ( بشرط التقابض ) قبل الافتراق ( في المجلس ) في الصورتين لضرر التمييز ( وإن كان الخالص مثله ) أي مثل المغشوش ( أو أقل منه أو لا يدرى فلا ) يصح البيع للربا في الأولين ولاحتماله في الثالث ( وهو ) أي الغالب الغش ( لا يتعين بالتعيين إن راج ) لثمنيته حينئذ ( وإلا ) يرج ( تعين به ) كسلعة وإن قبله البعض فكزيوف فيتعلق العقد بجنسه زيفا إن علم البائع بحاله وإلا فبجنسه جيد .

وفی الدر المختار وحاشية ابن عابدين (5/ 180):

سئل الحانوتي عن بيع الذهب بالفلوس نسيئة. فأجاب: بأنه يجوز إذا قبض أحد البدلين لما في البزازية لو اشترى مائة فلس بدرهم يكفي التقابض من أحد الجانبين.

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

23 /صفر1441ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب