| 67486 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
سوال نمبر ایک اور دو یعنی سسر اور بہو اور دیور اور بھابھی کے مسئلے میں اگر اللہ تعالی توبہ کی توفیق عطاء کرے،تو شریعت کی رو سے کیا تلافی ہوگی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سچے دل سے ندامت اور شرمندگی ہوتو حرمت مصاہرت تو رفع نہیں ہوسکتی،البتہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں، ایسی توبہ کو قرآن مجید میں ”توبہٴ نصوح“ سے تعبیر کیاگیاہے، اس کی تفسیر میں علماء نے توبہ کی تین شرطیں لکھی ہیں:
اول : گناہ سے فوری طور پر علیحدہ ہوجائے۔
دوم : سچے دل سے اپنے فعل پرنادم ہو.
سوم: یہ عزم کرے کہ گناہ کی طرف کبھی نہ پلٹیں گے۔
حوالہ جات
وفی شرح النووي على مسلم (2/ 45):
وللتوبة ثلاثة أركان: أن يقلع عن المعصية ويندم على فعلها ويعزم أن لا يعود إليها ۔
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
28/صفر1441ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


