021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ٹیلی نار اکاؤنٹ سے ملنے والی مختلف آفر کے استعمال کا حکم
67533ہبہ اور صدقہ کے مسائلہبہ کےمتفرق مسائل

سوال

مفتی صاحب کمپنی وقتافوقتا مختلف سکیمیں متعارف کرواتی رہتی ہے،مثلا:موبائل ایپ کے ذریعہ نیا اکاؤنٹ بنانے پر کمپنی کی طرف سے /100روپے اکاؤنٹ میں ملتے ہیں،اس /100روپے کی کیا حیثیت ہے؟

2)اسی طرح کمپنی نے یہ آفر بھی دی ہے کہ رقم بھیجنے یا وصول کرنے کی صورت میں 5 روپے روزانہ کی بنیاد پر ملیں گے،ایک دن رقم دینے یا لینے کی صورت میں 7 دن تک کمپنی آپ کو 5روپے دیتی رہے گی ان پانچ روپوں کی کیا حیثیت ہے؟

3)کمپنی نے یہ آفر بھی دی کہ آپ پہلی دفعہ بل جمع کریں آپکو اس بل کا دس فیصد واپس مل جائے گا،بل کی رقم اگر/1000روپے سے زیادہ ہو تو صرف /100روپے ملیں گےاور اگر /1000روپے سےکم ہو تو /10فیصد واپس ملیں گے اس کی کیا حیثیت ہے؟

o

ٹیلی نار ایزی پیسہ ویب سائٹ کے ذریعہ درج ذیل باتیں معلوم ہوئیں :

1۔جب بھی صارف کوئی نیا اکاؤنٹ بناتا ہے تو کمپنی بطور انعام کے /100روپے اس کے اکاؤنٹ میں بھیج دیتی ہے،جو ایک قسم کا ہدیہ ہو تا ہے۔

2۔جو صارف اس اکاؤنٹ کے ذریعہ رقم بھیجے گا یا وصول کرے گا اس کو /7دن تک کمپنی /5 روپے دیتی ہے اور یہ بغیر کسی شرط کے ہوتا ہے۔

3۔جو صارف اس اکاؤنٹ کو استعمال کرتے ہوئے بل ادا کرے گا تو کمپنی اس پر بھی ڈسکاؤنٹ دیتی ہے اور یہ بھی بغیر کسی شرط کے ہوتا ہے۔

مذکورہ بالا تنقیحات سے یہ معلوم ہوا کہ کمپنی کی طرف سے ملنے والی آفر محض ایک تبرع اور احسان ہے،کیونکہ یہ بغیر کسی شرط کے ملتی ہیں۔ہاں اگر کمپنی کی طرف سے یہ شرط ہو کہ اکاؤنٹ میں/1000روپے مثلا رکھیں تو آپ کو یہ تمام سہولیات دی جائیں گی تو یہ ناجائز ہو گا ،کیونکہ اس صورت میں یہ سود بن جاتا ہے۔جیساکہ اکاؤنٹ میں کچھ رقم چھوڑنے پر کمپنی /50sms mb وغیرہ دیتی ہے یہ ناجائز ہے۔

حوالہ جات

وهي العطية الخالية عن تقدم الاستحقاق، يقال: وهبته ووهبت منه، قال الله تعالى : {يهب لمن يشاء إناثا ويهب لمن يشاء الذكور} [الشورى: 49] ) والاتهاب: قبول الهبة، ولهذا شرط فيها القبض ; لأن تمام الإعطاء بالدفع والتسليم. وهو أمر مندوب وصنيع محمود محبوب، قال عليه الصلاة والسلام : ’’تهادوا تحابوا " وفي رواية: " تهابوا‘‘وقبولها سنة، فإنہ صلى الله عليه وسلم : " قبل هدية العبد "، وقال في حديث بريرة: «هو لها صدقة ولنا هدية» ، وقال - عليه الصلاة والسلام :ولو أهدي إلي طعام لقبلت، ولو دعيت إلى كراع لأجبت ، وإليها الإشارة بقوله تعالى : فإن طبن لكم عن شيء منه نفسا[النساء: 4] أي طابت نفوسهن بشيء من ذلك فوهبنه منكم {فكلوه هنيئا مريئا}. [النساء: 4](الاختيار لتعليل المختار:3/48) (هي) لغة: التفضل على الغير ولو غير مال. وشرعا: (تمليك العين مجانا) أي بلا عوض لا أن عدم العوض شرط فيه وأما تمليك الدين من غير من عليه الدين فإن أمره بقبضه صحت لرجوعها إلى هبة العين. (وسببها إرادة الخير للواهب) دنيوي كعوض ومحبة وحسن ثناء، وأخروي: قال الإمام أبو منصور يجب على المؤمن أن يعلم ولده الجود والإحسان كما يجب عليه أن يعلمه التوحيد والإيمان؛ إذ حب الدنيا رأس كل خطيئة نهاية مندوبة وقبولها سنة، قال صلى الله عليه وسلم :تهادوا تحابوا.(الدرمع الرد:5/687)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

ابولبابہ شاہ منصور صاحب / شہبازعلی صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔