021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
دفع مصیبت کے لیے نذر ماننے کا حکم
67918قسم منت اور نذر کے احکاممتفرّق مسائل

سوال

میری اولاد کو زندگی میں کوئی مصیبت نہ پہنچے ، تو میں  چار رکعات نفل نماز بعد از نماز ظہر وعشاءپڑھوں گی ، میں نے ان الفاظ کے ساتھ تکلم کیا ہےاور اب میں کافی عرصہ  سے ان نوافل کا اہتمام بھی  کرتی ہو،  لیکن اب ہردن ان نوافل کا  اہتمام  کرنا میرے لیےمشکل ہو رہاہے۔میرا  سوال یہ ہےکہ  کیا اس صورت میں  نذرمنعقد ہوگئی ہے؟اگر ہوگئی ہے تواب میں چاہتی ہو کہ کسی طرح یہ نذر منسوخ ہوجائے اور کفارہ وغیرہ دے کر میرا ذمہ بری ہو جائے، تو شرعاً کیا کوئی شکل نکل سکتی ہے؟

o

عام طور  پر زندگی میں کوئی نہ کوئی مصیبت پہنچ ہی جاتی ہے مثلا:  مرض، صدمہ وغیرہ، اگر کوئی  مصیبت پہنچ گئی ہو تو نوافل پڑھنا لازم نہیں ہوگا، لیکن اگر آپ کی اولاد کو مرنے تک کوئی مصیبت نہ بھی پہنچے تو اس صورت میں بھی آپ پر صرف ایک مرتبہ ظہر اور عشاء کے بعد چار رکعات نفل پڑھنا لازم ہوگا۔ خلاصہ یہ کہ آپ پر اس وقت نذر کے نوافل کی ادائیگی لازم نہیں ۔ اب تک جو پڑھی ہے وہ عام نفل شمار ہوں گے۔آپ مزید ادائیگی کو ترک کرسکتی ہے۔
 

حوالہ جات

قال العلامة الكاساني رحمه الله:(وأما) وقت ثبوت هذا الحكم، فالنذر لا يخلو إما أن يكون مطلقا، وإما أن يكون معلقا بشرط أو مقيدا بمكان أو مضافا إلى وقت، والمنذور لا يخلو إما إن كان قربة بدنية كالصوم والصلاة، وإما إن كان مالية كالصدقة، فإن كان النذر مطلقا عن الشرط والمكان والزمان، فوقت ثبوت حكمه، وهو وجوب المنذور به هو وقت وجود النذر، فيجب عليه في الحال مطلقا عن الشرط والمكان والزمان؛ لأن سبب الوجوب وجد مطلقا، فيثبت الوجوب مطلقا. وإن كان معلقا بشرط نحو أن يقول: إن شفى الله مريضي، أو إن قدم فلان الغائب فلله علي أن أصوم شهرا، أو أصلي ركعتين، أو أتصدق بدرهم، ونحو ذلك فوقته وقت الشرط، فما لم يوجد الشرط لا يجب بالإجماع. ولو فعل ذلك قبل وجود الشرط يكون نفلا؛ لأن المعلق بالشرط عدم قبل وجود الشرط، وهذا لأن تعليق النذر بالشرط، هو إثبات النذر بعد وجود الشرط، كتعليق الحرية بالشرط، إثبات الحرية بعد وجود الشرط، فلا يجب قبل وجود الشرط، لانعدام السبب قبله ، وهو النذر، فلا يجوز تقديمه على الشرط؛ لأنه يكون أداء قبل الوجوب، وقبل وجود سبب الوجوب، فلا يجوز. ( بدائع الصنائع:5/ 93) قال العلامة ابن عابدين رحمه الله: قوله: (والنذر المطلق) أما المعين بوقت فيجب أداؤه في وقته إن كان معلقا، وفي غير وقته يكون قضاء. ط. (رد المحتار:2/ 75) وفي الهندية:ولو قال لله علي أن أصوم يومين، أو ثلاثة، أو عشرة ،لزمه ذلك، ويعين وقتا يؤدي فيه، فإن شاء فرق، وإن شاء تابع إلا أن ينوي التتابع عند النذر. (1/ 209)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔