03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
پراویڈنٹ فنڈ نکلوانے پر دی جانے والی اضافی رقم کا حکم
68136اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے متفرق احکام

سوال

As per government (as per income tax rules), an employee can taken loan against his provident fund. However, upon returning he has to pay the rate of profit declared by the fund plus 1% for the reason that his amount was remain invested by the fund. At the end of year this extra amount ( rate of profit declared by the fund plus 1%) will be distributing among all fund members in proportionate to their provident fund balance
My question is that does this  payment over actual amount falls under riba.

خلاصہٴ سوال: میرا سوال یہ ہے کہ ایک شخص گورنمنٹ کے قانون کے مطابق پراویڈنٹ فنڈ سے کچھ رقم بطور قرض لیتا ہے، اس کے بعد قرض کی رقم  ایک فیصداضافہ کے ساتھ واپس کرنا ضروری ہوتا ہے ، اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ اس ممبر کی  رقم بھی فنڈ میں انویسٹ شمار ہوتی ہے، اس لیے سال کے آخر میں یہ اضافی رقم پراویڈنٹ فنڈ کے تمام ممبران کے درمیان تقسیم کر دی جاتی ہے، پوچھنا یہ ہے کہ کیا یہ اضافی رقم سود ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اس سلسلے میں بعض حضرات سے معلومات لینے سے معلوم ہوا کہ اداروں میں پراویڈنٹ فنڈ کا ایک اکاؤنٹ بنایا جاتا ہے، جس میں تمام ملازمین کے پراویڈنٹ فنڈ کی رقم ہوتی ہے۔ پھر اس پراویڈنٹ فنڈ کی رقم کو انویسٹ کیا جاتا ہے جو پرافٹ حاصل  ہوتا ہے وہ ان ملازمین میں ان کی رقم کے تناسب سے تقسیم کردیا جاتا ہے۔ قانون یہ ہے کہ  اس فنڈ میں سے جو شخص قرض لیتا ہے اس کو ایک فیصد اضافی رقم کرنا ضروری ہوتا ہے۔ جب ملازم یہ رقم نکلواتا ہے تو اضافی لی جانے والی رقم نقدی کی صورت میں واپس نہیں کی جاتی ، بلکہ اس کی ماہانہ تنخواہ سے کٹوتی ہوتی ہے۔

اس تمہید کے بعد سوال کا جواب یہ ہے کہ صورتِ مسئولہ میں پراویڈنٹ میں سے نکلوائی گئی رقم پر دی جانے والی اضافی رقم سود میں شامل  نہیں، کیونکہ پراویڈنٹ کی رقم دراصل ملازم کی تنخواہ کا حصہ ہوتی ہے جو اس کو ریٹائرمنٹ کے بعد دی  جاتی ہے، اس لیے ملازم نے قرض کے نام سے درحقیقت ادارے سے اپنا حق وصول کیا ہے، لہذا  اس رقم کے نکلوانے پر اصولی طور پر ادارے کا ملازم کو اضافی رقم دینے پر مجبور کرنا درست نہیں، البتہ اگر ادارے کا قانون یہ ہو کہ جو شخص وقت مقررہ سے پہلے یہ رقم نکلوائے گا اس کو اتنی رقم اضافی ادا کرنا ہو گی اور پھر ملازم اپنی مرضی سے یہ رقم مقررہ وقت سے پہلے نکلوائے تو اس صورت میں اضافی دی جانے والی رقم کو اس کی طرف سے حط من الاجرة (اجرت یعنی تنخواہ کا کچھ حصہ ساقط کر دینا) سمجھا جائے گا، اس لیے ملازم کا ادارے کو اضافی رقم دینا اور ادارے کا اضافی رقم کو استعمال کرنا جائز ہے۔

حوالہ جات

الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي (6/ 4714) دار الفكر - سوريَّة - دمشق:

 تجوز الزيادة على الشرط والحط منه، على وفق القاعدة المقررة في المزارعة وهي: كل موضع احتمل إنشاء العقد، احتمل الزيادة، وإلا فلا، والحط جائز في الموضعين. فما لم يتناه عظم الثمرة في النخيل مثلاً، تجوز الزيادة من كلا الطرفين، لأن إنشاء العقد في هذه الحالة جائز. ولو تناهى عظم الثمرة، جازت الزيادة من العامل لصاحب الأرض، ولا تجوز الزيادة من صاحب الأرض للعامل؛ لأن زيادة العامل حط من الأجرة، ولا يشترط فيه احتمال إنشاء العقد، وأما زيادة صاحب الأرض فهي زيادة في الأجرة، والمحل لا يحتمل الزيادة.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

15/جمادی الاولیٰ 1441ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب