021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیوی کے مرنے کے بعد جہیز کس کا حق ہے
71850میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

ایک لڑکی کی شادی ہوئی اور ایک سال بعد ایکسیڈنٹ میں لڑکی کی وفات ہوگئی ۔لڑکی کے والدین جنہوں نے قسطوں پر جہیز کا سامان لیکر اپنی بیٹی کو دیا تھا ،جب وہ جہیز والا سامان واپس لینے گئے تو دولھا والوں نے کہا کہ اس میں سے آدھا سامان ہمارا ہوگیا اور آدھے کے آپ پیسے لے لیں،التماس ہےکہ ہماری رہنمائی فرمائی جائے کہ کیا وہ آدھا سامان جہیز رکھنے کے حقدارہیں یا نہیں؟

o

جہیز‘ان تحائف اور سامان کو کہاجاتاہے جو والدین اپنی بچی کورخصت کرتے ہوئے دیتے ہیں،چونکہ ہمارے ہاں کا عرف اور رواج یہی ہے کہ نکاح کے وقت دلہن کو دیا جانے والا جہیز دلہن کی ہی ملکیت ہوتا ہے، لہذا شریعت کی رو سے نہ دولھا والےپورا یاآدھا سامان رکھنے کے حقدار ہیں اورنہ ہی لڑکی والے،بلکہ مذکورہ جہیز چونکہ مرحومہ کی ملک تھا اس لیے اس کی وفات کے بعد یہ  مرحومہ کے جملہ سامان کے ساتھ ملا کر مرحومہ کے شرعی ورثا میں تقسیم ہوگا، اور شرعی تقسیم کے اعتبار سے مرحومہ کے ترکہ  میں اسکی اولاد ،والدین اور شوہر کا بھی حصہ ہوگا۔ 

حوالہ جات

(قواعد الفقہ، ص: ۲۵۵)
الجہاز: ما زفت المرأة بہا إلی زوجہا من الأمتعة۔
( الموسوعة الفقهية الكويتية ۱۶/۱۶۶،۱۶۵)
الجهاز بالفتح، والكسر لغة قليلة، وهو اسم… لما تزف به المرأة إلى زوجها من متاع ۔ذهب جمهور الفقهاء إلى أنه لايجب على المرأة أن تتجهز بمهرها أو بشيء منه، وعلى الزوج أن يعد لها المنزل بكل ما يحتاج إليه ليكون سكنا شرعيا لائقا بهما. وإذا تجهزت بنفسها أو جهزها ذووها فالجهاز ملك لها خاص بها.
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح( ۵/۱۹۷۴)
 قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ألا تظلموا ألا لايحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه»" إلا بطيب نفس ") أي: بأمر أو رضا منه".

 وقاراحمد بں اجبرخان

  دارالافتاءجامعۃ الرشید کراچی

03 /07/1442

n

مجیب

وقاراحمد بن اجبر خان

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔