021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عورتوں کی تصاویر پر مشتمل ڈیزائننگ کا حکم
71319جائز و ناجائزامور کا بیانعورت کو دیکھنے ، چھونے اورجماع کرنے کے احکام

سوال

مجھے یہ مسئلہ معلوم کرنا ہے کہ ویب ڈیزائننگ کا کام جس میں ویب سائٹ بنانی ہوتی ہے، ان میں ہمیں عورتوں کی تصاویربھی لگانی ہوتی ہیں یا اگر کسی ویب سائٹ میں عورتوں کی تصاویر نہ بھی ہوں تب بھی دوسری تصاویر کی تلاش  کے دوران عورتوں کی تصاویر پر نظر پڑنا یقینی ہے،اس سے بچنا محال ہے۔ میرے لیے اس کام کو کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اور اس کا کیا حکم ہے؟ براہ کرم وضاحت فرما دیں

o

ڈیجیٹل تصویر کی بعض علماء گنجائش دیتے ہیں لیکن خواتین کی تو  ڈیجیٹل تصویر دیکھنا بھی مردوں کے لیے باتفاق حرام ہے۔ لہذا ویب سائٹ بنانے کے لیے خواتین کی ڈیجیٹل تصویر کا استعمال اور اس کی مقرر اجرت لینا درست نہیں۔ البتہ اگر صرف نظر پڑنے کا مسئلہ درپیش ہو تو اس سے آمدنی میں تو حرمت نہیں آئے گی،لیکن اگر جان بوجھ کر نظر ڈالے گا یا بھولے سے نظر پڑنے کے بعد قصداً دیکھے گا تو گناہ ہو گا۔ لہذا جہاں یقیناً حرام میں مبتلا ہونے کا خدشہ ہو اس سے پرہیز کی جائے اور اس کی جگہ کوئی اور شکوک و شبہات سے پاک کام کیا جائے۔

حوالہ جات

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تُحِلُّواْ شَعَٰٓئِرَ ٱللَّهِ وَلَا ٱلشَّهۡرَ ٱلۡحَرَامَ وَلَا ٱلۡهَدۡيَ وَلَا ٱلۡقَلَٰٓئِدَ وَلَآ ءَآمِّينَ ٱلۡبَيۡتَ ٱلۡحَرَامَ يَبۡتَغُونَ فَضۡلٗا مِّن رَّبِّهِمۡ وَرِضۡوَٰنٗاۚ وَإِذَا حَلَلۡتُمۡ فَٱصۡطَادُواْۚ وَلَا يَجۡرِمَنَّكُمۡ شَنَـَٔانُ قَوۡمٍ أَن صَدُّوكُمۡ عَنِ ٱلۡمَسۡجِدِ ٱلۡحَرَامِ أَن تَعۡتَدُواْۘ وَتَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡبِرِّ وَٱلتَّقۡوَىٰۖ وَلَا تَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡعُدۡوَٰنِۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۖ إِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِﵞ ]المائدۃ:[2
عن ابن عمر،عن النبي صلى اللہ عليه وسلم، أنه قال:" على المرء المسلم السمع والطاعة فيما أحب وكره،إلا أن يؤمر بمعصية،فإن أمر بمعصية فلا سمع، ولاطاعة".(صحیح  مسلم: 1839)
قال رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم لعلی: "يا علي: لا تتبع النظرة النظرة ؛فإن لك الأولى وليست لك الآخرة".    (سنن أبي داود: 2149)
عن سعيد بن جبير في قول اللہ تعالی: قل للمؤمنين يغضوا من أبصارهم يعنى يحفظوا من أبصارهم، فمن هنا صلة في الكلام، يعنى: قل للمؤمنين يحفظوا أبصارهم عما لا يحل لهم  النظر إليه.
(تفسير بن أبي حاتم: 8/2571)
(لا تصح الإجارة لعسب التيس) وهو نزوه على الإناث (و) لا (لأجل المعاصي مثل الغناء والنوح والملاهي)     (الدر المختار وحاشية ابن عابدين: 6/55)

شاہ نواز

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

17/جمادی الثانیہ/1442ھ

n

مجیب

شاہ نواز بن عبد الرحمن

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔