021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
وارث کا مشترکہ کاروبار میں دعوی کا حکم
68923دعوی گواہی کے مسائلمتفرّق مسائل

سوال

ہم نے چار پلاٹس بک کروائے  اور ان چاروں پلاٹس کی قیمت  مشترکہ کاروبار سے چار سال میں عرصے میں کردی گئی۔2019 کے آخر میں زکی بھائی یہ دعوی کرتے ہیں کہ خریدے گئے پلا ٹس میں سے ایک پلاٹ کی اقساط ان کی اہلیہ کے پیسوں سے ادا کی گئی اور اس لیے یہ پلاٹ وراثت میں تقسیم نہیں ہوگا اور یہ پلاٹ ان کی اہلیہ  کی ملکیت ہوگا۔ یہ واضح رہے کہ ان سالوں میں زکی بھائی نے ایک مرتبہ بھی یہ نہیں بتا یا کہ اس پلاٹ کی قسطیں وہ اپنی اہلیہ کے مال سے ادا کررہے ہیں۔جبکہ پراپرٹی کے تمام لین دین اور اس کی مقدمہ بازی وغیرہ شروع سے میں (سائل )  دیکھ رہاہوں ۔اب آیا ان کا یہ دعوی درست ہے؟

تنقیح:سائل کا کہنا ہےکہ ہم نے زکی بھائی کے ذمے یہ لگا یا تھا کہ آپ مشترکہ کاروبار سے ان پلاٹس کی قیمت ادا کریں ۔اس دوران ہم نے کبھی ان سے پوچھا بھی نہیں کہ وہ یہ قسطیں کس کےمال سے ادا کررہے ہیں اور نہ ہی انہوں نے بتایا۔وراثت کی تقسیم کے وقت وہ یہ دعوی کررہے ہیں کہ انہوں نے ایک پلاٹ کی قسطیں اپنی اہلیہ کے مال سے ادا کی ہیں۔

o

صورت مسئولہ میں دیگر ورثاء نے ایک بھائی کو مشترکہ کاروبار سے ان پلاٹس کی قیمت ادا کرنے کا  وکیل بنا یا تھا۔اس لیے ان پر  مشترکہ کاروبار سے ہی قیمت کی ادائیگی لاز م تھی۔لہذا  وراثت کی تقسیم کے وقت ان کا ایک پلا ٹ سے متعلق مذکورہ دعوی کرنا شرعاً درست نہیں ہے،بلکہ وہ پلا ٹ دیگر ترکہ میں شامل ہوکر تما م ورثاء میں شرعی اصولوں کے مطابق تقسیم ہوگا۔

البتہ اگرآپ کے  بھائی عدالت یا کسی ثالث کے سامنے گواہوں سے یہ بات ثابت کردیں کہ انہوں نے ایک پلاٹ کی قیمت اپنی اہلیہ کے پیسوں میں سے ادا کی تھی تو یہ رقم آپ لوگوں پر قرض ہوگی۔جس کو پہلے مشترکہ ترکہ سے اداکیا جائے گا۔البتہ اگر وہ گواہوں سے ثابت نہ کرسکے تو دیگر ورثا سے  اس بات پر قسم لی جائے گی کہ انہیں اس معاملے کا بلکل علم نہیں تھا۔اگر دیگر ورثاء قسم کھالیں تو بڑے بھائی  کا یہ دعوی ثابت نہیں ہوگا۔

حوالہ جات

درر الحكام شرح مجلة الأحكام (4/ 446)
إذا عجز المدعي عن إثبات مطلوبه من تركة المتوفى الوافية وكلف الورثة بحلف اليمين على عدم العلم فنكلوا عن الحلف فوجب الحكم عليهم فالظاهر أنه تجب يمين الاستظهار على المدعي
فتح القدير للکما ل ابن الهمام (18/ 433)
( قَالَ ) أَيْ مُحَمَّدٌ فِي الْجَامِعِ الصَّغِيرِ فِي كِتَابِ الْقَضَاءِ : ( وَمَنْ وَرِثَ عَبْدًا وَادَّعَاهُ آخَرُ ) وَلَا بَيِّنَةَ لَهُ ( اُسْتُحْلِفَ ) أَيْ الْوَارِثُ ( عَلَى عِلْمِهِ ) أَيْ بِاَللَّهِ مَا يَعْلَمُ أَنَّ هَذَا عَبْدُ الْمُدَّعِي ( لِأَنَّهُ لَا عِلْمَ لَهُ ) أَيْ لِلْوَارِثِ ( بِمَا صَنَعَ الْمُوَرِّثُ فَلَا يَحْلِفُ عَلَى الْبَتَاتِ ) إذْ لَوْ حَلَّفْنَا عَلَيْهِ لَامْتَنَعَ عَنْ الْيَمِينِ مَعَ كَوْنِهِ صَادِقًا فِيهَا فَيَتَضَرَّرُ بِهِ ۔۔۔۔وَالضَّابِطُ فِي ذَلِكَ أَنَّ التَّحْلِيفَ إنْ كَانَ عَلَى فِعْلِ نَفْسِهِ يَكُونُ عَلَى الْبَتَاتِ ، وَإِنْ كَانَ عَلَى فِعْلِ غَيْرِهِ يَكُونُ عَلَى الْعِلْمِ
درر الحكام شرح مجلة الأحكام (3/ 611)
( ليس لمن وكل باشتراء شيء معين أن يشتري ذلك الشيء لنفسه حتى لا يكون له وإن قال : عند اشترائه اشتريت هذا لنفسي بل يكون للموكل إلا أن يكون قد اشتراه بثمن أزيد من الثمن الذي عينه الموكل أو بغبن فاحش )۔۔۔۔۔ليس لمن وكل باشتراء شيء معين , أو بتفرغه سواء سمي لهذا الشيء ثمن من طرف الموكل أو لا , وسواء أعطى الوكيل الثمن من ماله أو من مال الموكل أن يشتري ذلك الشيء لنفسه أو لموكله الآخر الذي قد وكله مؤخرا۔
 شرح المجلة للأتاسی(4/479)
 ( إذا أعطى الوكيل بالشراء ثمن المبيع من ماله وقبضه فله أن يرجع إلى الموكل يعني له أن يأخذ الثمن الذي أعطاه من الموكل)۔۔۔لا یقال إنہ اذا دفع الثمن من مالہ بلا أمرالمؤکل یکون متبرعاً  کمن أوفی غیرہ بلا أمر،لانا نقول قد إنعقدت بینھما مبادلۃ حکمیۃ فصار الوکیل کالبائع من المؤکل۔ولأن التبرع انما یتحقق اذا کان الدفع بغیر أمر المؤکل ،والأمر ثابت ھنا دلالۃ لأن المؤکل لما علم أن الحقوق ترجع إلی الوکیل ومن جملتھا دفع الثمن علم أنہ مطالب بالدفع لقبض المبیع فکان راضیاًبذلك آمراً بہ دلالۃ کذا فی الھدایۃ۔

  طلحہ بن قاسم

  دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

02/07/1441

n

مجیب

طلحہ بن قاسم

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔