021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
دوسری شادی کےلیے پہلی بیوی سے اجازت لینے کاحکم
68766نکاح کا بیاننکاح کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

علماء سے سنا ہے کہ اللہ پاک نے قرآن میں جب نکاح کا تذکرہ  فرمایا تو شروع "دو" سے  کیا۔اگر انصاف نہ کرسکوتو پھر ایک پر ہی اکتفا کرو۔یعنی اسلام تعددِ ازواج  کوپسند کرتا ہے۔مگر دوسری طرف دیکھاجائےکہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دوسرے نکاح کا ارادہ فرمایا،جب کہ  حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا ابھی حیات تھیں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم  ناراض ہوئے تھے اور فرمایا  تھا کہ جس نے فاطمہ کو تکلیف دی اس نے گویا مجھے تکلیف دی۔حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر دوسرے نکاح کا ارادہ ملتوی کردیا۔یہ بات بندہ  کو تذبذب میں ڈالتی ہے کہ ایک طرف اسلام تعدد ازواج  کو پسند کرتا ہےمگر دوسری طرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دوسری شادی سے منع کررہے ہیں۔اس بات کی وضاحت فرمادیں۔نیز یہ بھی فرمادیں کہ دوسری شادی کےلیے پہلی بیوی سے اجازت لینا  یا اسکا رضامند ہونا ضروری ہے؟

o

دوسری شادی کےلیے شرعاً پہلی بیوی سے اجازت لینا ضروری نہیں ہے۔البتہ اگر شوہر کو یقین ہو  کہ وہ دوسری شادی کے بعد دونوں بیویوں کے درمیان باری وغیرہ میں برابری کرسکتا ہے  اور  ان کے نان ونفقہ اور رہائش وغیرہ  کاانتظام کرسکتا ہے تو اس کےلیے دوسری شادی کرنا جا ئز ہے، لیکن اگر برابری نہیں کرسکتا تو اس کےلیے دوسری شادی کرنا جائز نہیں  ہے۔

جہاں تک سوال میں ذکرکردہ واقعہ کا تعلق  ہے کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ  نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا  کی موجودگی  میں  دوسری شادی  کا ارادہ فرمایا  تو حضور ﷺ نے منع فر مادیا تھا، تو محدثین نے اس کی متعدد وجوہ ذکر فرمائی ہیں :

1۔حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جس سے نکاح کاارادہ فرمایا تھا  وہ باوجودیکہ  پیغامِ نکاح  کے وقت مسلمان تھیں  لیکن  وہ اللہ کے دشمن ابوجہل کی بیٹی تھیں ،جس کی اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ دشمنی واضح تھی ، تو حضورﷺ کو اس بات کا اندیشہ  ہو ا کہ ان  کے  والد کی اسلام مسلم دشمنی کے آثار کہیں ان دونوں کی گھریلو زندگیوں پر اثرانداز نہ ہوں،جس سے   حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو تکلیف ہو،جو کہ سبب بنے گی حضورﷺ کی تکلیف کی، اور حضرت علی رضی اللہ عنہ  کے سبب سے حضورﷺ کو تکلیف ہونا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے شایان ِ شان  نہیں تھا،تو حضورﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ  پر شفقت کھاتے ہوئے اس سے منع فرمادیا تھا۔اس توجیہ کی تائید  حدیث شریف کے آخر میں ذکرکردہ ان الفاظ سے بھی ہوتی ہے: "وانی لست احرم حلالاً   ،ولا احل حراماً ،ولکن واللہ لا تجتمع بنت رسول اللہ  وبنت عدو اللہ مکاناً واحداً ابداً " (ترجمہ) اور میں کسی حرام کو حلال اور حلال کو حرام نہیں کرسکتا  لیکن بخدا ،اللہ کے رسول  اور اللہ کے دشمن کی بیٹی ایک گھر میں جمع  نہیں ہوسکتی۔

2۔علامہ نووی ؒ شرح مسلم میں تحریر فرماتے             ہیں کہ حضورﷺ کو تکلیف دینا خواہ کسی بھی سبب سے ہو حرام ہےگرچہ وہ سبب مباح (جائز) ہی کیوں نہ ہو،تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کا دوسرا نکاح فرمانا گرچہ جائز تھا،لیکن یہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا  کی تکلیف کا سبب بن سکتا تھا،جس سے حضورﷺ کو تکلیف ہوتی ۔اس لیے حضورﷺ نے  حضرت علی رضی اللہ عنہ  پر شفقت کی وجہ سے انہیں  اس سے منع فرمادیا تھا۔

3۔ علامہ عینی ؒ مرقاۃ میں ابن داود ؒ کا قول نقل فرما تے  ہیں کہ حضورﷺ کے منع فرمانے کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ  کےلیے دوسری شادی کرنا جائز نہیں تھا ،لقولہ عزوجلّ " وما آتاكم الرسول فخذوه وما نهاكم عنه فانتهوا،الآیۃ(ترجمہ) حضورﷺ تمہیں جو کچھ دیں ،وہ لےلو اور جس چیز سے منع کریں ،اس کے رک جاؤ۔

4۔بعض حضرات نے یہ توجیہ بھی  ذکر فرمائی ہےکہ حضور ﷺ  کو اللہ تعالی کی طرف  سے بذریعہ وحی یہ بات معلوم ہوگئی تھی یہ دونوں  ایک ساتھ جمع نہیں ہوسکتیں،اس لیے منع فرمادیا تھا۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع (2/ 332)
 وجملة الكلام فيه أن الرجل لا يخلو إما أن يكون له أكثر من امرأة واحدة وأما أن كانت له امرأة واحدة فإن كان له أكثر من امرأة فعليه العدل بينهن في حقوقهن من القسم والنفقة والكسوة وهو التسوية بينهن في ذلك حتى لو كانت تحته امرأتان حرتان أو أمتان يجب عليه أن يعدل بينهما في المأكول والمشروب والملبوس والسكنى والبيتوتة والأصل فيه قوله تعالى ( ( ( عز ) ) ) { فإن خفتم ألا تعدلوا فواحدة } عقيب قوله تعالى { فانكحوا ما طاب لكم من النساء مثنى وثلاث ورباع } أي إن خفتم أن لا تعدلوا في القسم والنفقة في نكاح المثنى والثلاث والرباع فواحدة
تکملہ فتح المھم شرح صحیح المسلم(5/136)
قال ابن التین:اصح ما تحمل علیہ ھذہ القصۃ ان النبی ﷺ حرم علی علیِّ  ان  یجمع بین ابنتہ  وبین ابنۃ ابی جھل،لانہ علل بان ذلک یؤذیہ،واذیتہ حرام بالاتفاق،ومعنی قولہ:(لا احرحلالاً     )ای:ھی لہ حلال لو لم تکن عندہ فاطمۃ۔وقال الحافظ فی الفتح"والذی یظھر لی:انہ لا یبعد  ان  یعد فی خصائص النبیﷺ ان لا یتزوج علی بناتہ،ویحتمل ان یکون ذلک خاصاً بفاطمۃ رضی اللہ عنہا۔
قال العبد الضعیف عفااللہ عنہ: ما ذکرہ ابن التین او الحافظ ابن حجر بعید بالنظر الی سیاق کلام رسول اللہﷺ ،اما اولاً :فلان قولہﷺ :(لا احرم حلالاً      ) یدل بظاھرہ علی ان التزوج  علی فاطمۃ لیس حراما شرعاً،ولکنہ ﷺ انما نھی عنہ لمصلحۃ۔ واما ثانیاً : فلانہ لو کان  التزوج علی فاطمۃ حراماً علی الاطلاق،لما احتاج النبی ﷺ الی تعلیل النھی بکون المخطوبۃ بنت ابی جھل،وفی روایۃ علی بن حسین :انہﷺ قال :"وانی لست احرم حلالاً   ،ولا احل حراماً ،ولکن واللہ لا تجتمع بنت رسول اللہ  وبنت عدو اللہ مکاناً واحداً ابداً "۔وھذا السیاق کاد ان یکون صریحاً  فی ان التزوج علی فاطمۃ لیس حراماً فی نفسہ،ولکن علۃ المنع  انما ھی کون المخطوبۃ  بنت ابی جھل،وانھا وان کانت مسلمۃ  عند الخطبۃ،ولکن لایخفی  ان عداوۃ ابیھا للاسلام والمسلمین ربما تبدو آثارھا فی مثل ھذہ المعاشرۃ القریبۃ التی تکون بین الضرتین، فتکون سبباً  لاذی فاطمۃ رضی اللہ عنہا،ولاذی رسول اللہ ﷺ ۔فانما منعہ رسول اللہ ﷺ من تزوجھا علی فاطمۃ من ھذہ الجھۃ،لا من جھۃ  ان التزوج علیھا حراماً شرعاً۔واللہ اعلم
شرح النووي على مسلم (16/ 3)
قال العلماء فی ھذا  الحدیث: تحريم ايذاء النبي صلى الله عليه و سلم بكل حال وعلى كل وجه وإن تولد ذلك الإيذاء مما كان أصله مباحا وهو حي وهذا بخلاف غيره قالوا وقد أعلم صلى الله عليه و سلم بإباحة نكاح بنت أبي جهل لعلي بقوله صلى الله عليه و سلم لست أحرم حلالا ولكن نهى عن الجمع بينهما لعلتين منصوصتين إحداهما أن ذلك يؤدي إلى أذى فاطمة فيتأذى حينئذ النبي صلى الله عليه و سلم فيهلك من أذاه فنهي عن ذلك لكمال شفقته على علي وعلى فاطمة والثانية خوف الفتنة عليها بسبب الغيرة وقيل ليس المراد به النهي عن جمعهما بل معناه علم من فضل الله أنهما لا تجتمعان كما قال أنس بن النضر والله لا تكسر ثنية الربيع ويحتمل أن المراد تحريم جمعهما ويكون معنى لا أحرم حلالا أي لا أقول شيئا يخالف حكم الله فإذا أحل شيئا لم أحرمه وإذا حرمه لم أحلله ولم أسكت عن تحريمه لأن سكوتي تحليل له ويكون من جملة محرمات النكاح الجمع بين بنت نبي الله وبنت عدو ال
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (18/ 4)
وعن يحيى بن سعيد القطان قال ذاكرت عبد الله بن داود قول النبي صلى الله عليه وسلم لا آذن إلا أن يحب على أن يطلق ابنتي وينكح ابنتهم قال ابن داود حرم الله على علي أن ينكح على فاطمة في حياتها لقوله عز وجل وما آتاكم الرسول فخذوه وما نهاكم عنه فانتهوا الحشر قال فلما قال النبي صلى الله عليه وسلم لا آذن لم يكن يحل لعلي أن ينكح على فاطمة إلا أن يأذن رسول الله صلى الله عليه وسلم وسمعت عمر بن داود يقول لما قال النبي صلى الله عليه وسلم فاطمة بضعة مني يريبني ما رابها ويؤذيني ما آذاها حرم الله على علي أن ينكح على فاطمة ويؤذي رسول الله صلى الله عليه وسلم لقول الله تعالى وما كان لكم أن تؤذوا رسول الله ،الأحزاب

  طلحہ بن قاسم

  دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

15/06/1441

n

مجیب

طلحہ بن قاسم

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔