03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
میراث سےمتعلق مسئلہ
69952میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

میرےوالد کا انتقال پچھلےسال ہوا۔ ان کےنام مختلف پلاٹ اور زرعی زمین تھی۔ورثاء میں دو بیوہ اور چار بیٹیاں اور تین بیٹےشامل ہیں۔ اپنی حیات میں انہوں نےکچھ جائیدا دعملا اور کچھ زبانی بچوں کو دےدی تھی۔ ایک تقسیم پہلے ہوئی اور ورثاء کو مطلع کردیا۔چند سال گزرنےکےبعد ورثاء کی طرف سےاعتراض ہوا کہ تقسیم میں کمی بیشی ہے،خصوصا بیٹیوں کےحق میں،لہذا معاملے کی دوبارہ اصلاح کرلی جائے۔تمام وارثین کو اکٹھاکیاگیا۔سب کےاعتراضات اور دلائل سنےگئے،جس کی رو سے ایک دستاویز تیارکی گئی، جس میں یہ تحریری طور پر لکھاگیا کہ

                    1)پہلی تقسیم  میں جوحصہ جس وارث کودیاگیاہے وہ ہبہ تصور کیاجائےگا۔

                     2)آئندہ جب تقسیم ہو تو قرآن اور سنت کی روشنی میں وراثت کےقوانین کےمطابق ہوگی۔

                     اس دستاویز پر سب نےمتفقہ طور پر دستخط کردیئے۔

 لیکن پھر والد صاحب کو محسوس ہوا کہ اس طرح بھی کچھ کمی بیشی کا پہلو موجود ہے تو دوبارہ اصلاح کرلی جائے،لیکن اس کا اظہار زبانی ہوا،اور مزید کوئی دستاویز تیار نہیں ہوئی۔والد صاحب کی خواہش تھی،جس کااس نےزبانی اظہار کیاتھا کہ جس پلاٹ پر وہ بیٹوں کےساتھ رہائش پزیر ہےوہ بیٹوں کو دیاجائے،لیکن اس پر عمل نہیں ہوا اور اس کا انتقال ہوا۔وفات کےوقت ایک رہائشی پلاٹ اور چھ ایکڑ زرعی زمین میرےوالد کےنام تھا اور اب تک ہے۔

اب میر ےبھائی کامؤقف  ہے کہ پہلی تقسیم  (والد نےزندگی میں جائیداد تقسیم کی تھی ،لیکن بعض پر عملا قبضہ کرایا تھا اور بعض کا صرف زبانی اقرار ہواتھااور اس پلاٹ اور زرعی زمین کا اقرار والد نےبھائیوں کےلیےکیا تھا،لیکن قبضہ نہیں کرایا تھا) کواس وقت سب نےتسلیم کیاتھا،اس لیےجو جائیداد والد کےنام ہے، وہ وراثت کےقوانین کے مطابق تقسیم نہیں ہوگی،حالانکہ اعتراض کےبعد جو دستاویز تیار ہوئی تھیں وہ موجود ہیں۔اور بھائی یہ مطالبہ کررہاہےجو ورثاء اس پلاٹ اور زرعی زمین میں وراثت  کا مطالبہ کررہےہیں وہ حلف دےدیں کہ وہ پہلی والی تقسیم  کو نہیں مانتےہیں۔

       امر مطلوب یہ ہے کہ کیا اس جائیداد(پلاٹ، زرعی زمین) پر جس کا مطالبہ ورثاء کررہےہیں، وراثت کےقوانین لاگو ہوں گے؟

کیا بہنوں سے قرآن پر حلف اٹھانے کامطالبہ کرنا درست ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

زندگی میں مورث(والد) کااپنی جائیداد وغیرہ کوورثاء کےدرمیان تقسیم کرناوراثت نہیں ،بلکہ ہبہ کہلاتا ہے۔ لہذا زندگی میں والدنےجوحصہ جس بیٹے یا بیٹی کو دے کرعملا قبضہ کرایاہےاور تصرف کااختیار بھی دیاہو توہبہ مکمل ہوچکا ہے ،لہذا وہ اسی کا حق ہے،اس میں میراث جاری نہیں ہوگی،البتہ اگر صرف زبانی اقرار کیاتھا قبضہ نہیں کرایاتھا،تو وہ ترکہ میں شمار ہوگا، اس میں بقیہ ورثاء اپنے حصہ شرعی کےمطابق شریک ہونگے،لہذا پلاٹ اور چھ ایکڑ زرعی زمین جو والد کےنام ہے۔اگروالد نےکسی  وارث کےلیے زندگی میں اس حصہ(رہائشی پلاٹ ،6 ایکڑ زرعی زمین)  کااقرار کیاہو، لیکن قبضہ نہ کرایاہو تو اس پر وراثت کےقوانین لاگو ہونگے او رسب ورثاء اس میں اپنےحصہ شرعی کےمطابق شریک ہونگے۔

بھائی کا اپنی بہنوں سے قسم کامطالبہ کرناشرعا درست  نہیں ہے،کیونکہ بالفرض اگر بہنیں زندگی میں زبانی تقسیم پر راضی ہوبھی گئیں تھیں،لیکن والد نےاپنی زندگی میں پلاٹ اور زرعی زمین بیٹوں کو قبضہ اور تصرف میں نہیں دی تھی ,توایسی صورت میں بھی پلاٹ اور زمین والد کا ترکہ شمار ہوگی اور سب ورثاء میں میراث کےاصولوں کےمطابق تقسیم ہوگی۔

حوالہ جات

(خلاصۃ الفتاوی 2/400)

قال الامام طاھربن  عبدالرشید البخاری ؒ :وفی الفتاوی رجل لہ ابن وبنت اراد ان یھب لھمما

 شیئافالافضل ان یجعل للذکر مثل حظ الانثیین عند محمدؒ وعند ابی یوسف ؒ بینھماسواء

ھوالامختارلورود الاثار،ولووھب جمیع مالہ لابنہ جاز فی الاقضاءھواثمثم نص عن محمد ؒ ھکذافی العیون ،ولواعطی بعض ولدہ شیئادون البعض لزیادۃ رشدہ لاباس بہ وان کاناسواء لاینبغی ان یفضل ،ولوکان ولدہ فاسقافاراد ان یصرف مالہ الی وجوہ الاخیر ویحرمہ عن الامیراث ھذا خیرمن ترکہ لان فیہ اعانۃ علی المعصیۃ ،ولوکان ولدہ فاسقالایعطی لہ اکثرمن قوتہ۔

فتاوی عالمگیری(4/378)

لایثبت الملک للموھوب الا بالقبض ھو المختار،ھکذا فی الفصول العمادیۃ،

تنقيح الفتاوى الحامدية (5/ 229)

قال في الفتاوى الهندية من الهبة ومنها أن يكون الموهوب مقبوضا حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض۔

ضیاءاللہ

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

18محرم الحرام1442ھ                   

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

ضیاء اللہ بن عبد المالک

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب