| 70086 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
میری پھوپھی 2013ء میں وفات پاچکی ہیں۔ان کے ترکہ میں تقریباً سات تولہ سونا ہے۔ان کی وفات کےوقت پھوپھی کےوالد صاحب زندہ تھے،جبکہ اب وفات پاچکےہیں۔ پھوپھی کے ورثاء درج ذیل ہیں: دو بیٹے ، ایک بیٹی ، شوہر ،تین بھائی، دو بہنیں، ماں۔ ورثاء میں سونےکی تقسیم کس طرح ہوگی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بیٹوں کی موجودگی میں میت کے بھائیوں اور بہنوں کومیراث سے حصہ نہیں ملتا،لہذا مرحومہ کےورثاء اس کے والدین،بیٹے،بیٹی اورشوہر ہیں۔
مرحومہ نےبوقت انتقال سوال میں مذکور سونا سمیت اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولی و غیر منقولی سازوسامان چھوڑاہے،وہ سب مرحومہ کا ترکہ ہے۔اس میں سے سب سے پہلے مرحومہ کےکفن دفن کےمتوسط اخراجات نکالےجائیں،البتہ اگر کسی نے بطور احسان ادا کردیئےہوں تو پھر اخراجات نکالنےکی ضرورت نہیں۔اس کےبعد مرحومہ کا وہ قرض ادا کیاجائےجس کی ادائیگی مرحومہ کےذمہ واجب ہو۔اس کےبعد اگر مرحومہ نےکوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ میں سے ایک تہائی(1/3) کی حدتک اس پر عمل کیاجائے۔ اس کےبعد جو ترکہ باقی بچےاس کو کل بارہ حصوں میں تقسیم کرکے والدین میں سےہر ایک کو دو دو حصے اور شوہر کوتین حصے،بیٹوں میں سے ہر ایک کو دو دو حصے اور بیٹی کو ایک حصہ دیا جائے۔تفصیل کےلیےذیل کا نقشہ ملاحظہ کریں:
|
فیصدی حصہ |
عددی حصہ |
ورثاء |
نمبرشمار |
|
16.6666% |
2 |
والد |
1 |
|
16.6666% |
2 |
والدہ |
2 |
|
25% |
3 |
شوہر |
3 |
|
16.6666% |
2 |
پہلا بیٹا |
4 |
|
16.6666% |
2 |
دوسرا بیٹا |
5 |
|
8.3333% |
1 |
بیٹی |
6 |
|
100% |
12 |
|
کل |
مرحومہ کےوالد کاجوحصہ ہے وہ ان کا ترکہ ہوگا اور ان کےورثاء کےدرمیان حصص شرعی کےاعتبار سےتقسیم ہوگا۔
حوالہ جات
القرآن الکریم(النساء 12)
یوصیکم اللہ فی اولادکم للذکر مثل حظ الانثیین
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 774)
(وعند الانفراد يحوز جميع المال) بجهة واحدة. ثم العصبات بأنفسهم أربعة أصناف جزء الميت ثم أصله ثم جزء أبيه ثم جزء جده (ويقدم الأقرب فالأقرب منهم) بهذا الترتيب فيقدم جزء الميت (كالابن ثم ابنه وإن سفل ثم أصله الأب ويكون مع البنت)
ضیاءاللہ
دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی
27محرم الحرام 1442ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | ضیاء اللہ بن عبد المالک | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


