021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مختلف اوقات میں تین طلاق دینے کاحکم
70295طلاق کے احکامصریح طلاق کابیان

سوال

      میری شادی ہوئی اورکچھ عرصہ  میں اپنے شوہر کے پاس رہی ،اس کے بعد ایک بار میں اپنے گھر آنے لگی تو اس وقت میرے شوہرمجھے کہنے لگے کہ اگر گھر جاناہے تو اپنا سامان بھی لے جاؤ کیونکہ میں آپ کے پاس نہیں رہنا چاہتا ،لیکن میں بغیر سامان کے گھر آگئی ،میرے شوہر کا مجھ سے فون میسج اورواٹسپ پر رابطہ رہا  اورہماری لڑائی ہوتی رہی ،ایک دن وٹسپ  پر ہم بات کررہے تھے تو اس نے لڑائی کی اورکہاکہ" دو طلاق " میں نےکہا  دو طلاق؟  اس پر اس نے کہا" طلاق طلاق"یعنی میسج پر لکھا  تو میں نے کہا کہ تیسری بھی دیدوتو اس نے کہا دیدوں گا اورکہا  کہ سوچ لو پھر اس نے بعد میں  بھی کہا کہ میں نے آپ کو آزاد کیا،میں  آپ کے کے ساتھ رہنا نہیں چاہتا ،اپنا سامان اٹھاؤ، بعد میں میں نے کہا کہ آپ نے مجھے طلاق دیدی؟ تو اس نے کہا کہ میں نےکسی مفتی سے پوچھاہے ایسے طلاق نہیں ہوتی (ویسے وہ بریلوی مسلک سے زیادہ متاثرہیں)اس نے کہا کہ جیسے میں نے آپ کو طلاق دی ایسے میں آپ کو اپنے نکاح میں لیتاہوں اورمجھے کچھ کلمے پڑھوائےاورکہا کہ مفتی صاحب نےکہاتھاکہ اگرآپ تیسری طلاق دیتے تو پھر آپ نکاح  میں نہیں لے سکتے تھے ، اس طرح میں نے اپنے شوہر کی باتوں میں آکرکلمہ وغیرہ پڑھیں اورجو جو اس نے کہا وہ مانا، اس کےبعد انہوں نے فون پر مجھ سے رابطہ رکھااوروہ تعلق رکھا جوشوہر اوربیوی کا ہوتاہے ،اس بات کو کافی عرصہ تقریباپانچ ماہ ہوگئے ہیں، میں اپنے ہی گھر میں ہوں کبھی کہتاہے کہ میں نے آپ کو آزاد کردیا ،کبھی کیا  کہتاہے اورکبھی کیا ،میں نے کہا طلاق لکھ کر بھیجو تو وہ نہیں بھیجتا اوراب اس نےدوسری شادی کرلی ہے اورمجھ سے اس کا کوئی رابطہ  نہیں اورایک بیان میرے شوہر کا یہ بھی ہے کہ کہتاہے کہ میں  نےطلاق نامہ لکھ کرTCSکے ذریعے آپ کے بھائی کو بھیجاتھاالبتہ آپ کے بھائی نے وہ TCSوالوں سے نہیں لیا تو وہ میرے پاس واپس آگیاتو اب میں آپ سے رہنمائی چاہتی ہوں کہ میں کیاکروں ؟،کیا میرا اوراس کا نکاح باقی ہے ؟ یا طلاق ہوگئی ہے ؟اوراس نے اب دوسری شادی بھی کرلی ہے اوراب میں اس کے پاس رہنا بھی نہیں چاہتی کیا طلاق ہوگئی اورکیامجھے عدت گزارنی ہوگی؟ان تفصیلات کی روشنی میں اب درج ذیل سوالات کے جوابات مطلوب ہیں۔

١١۔مجھے طلاق ہوگئی ہے یاا س کے لکھنے کے بعدجب طلاق نامہ مجھ تک آئے گاتوتب طلاق ہوگی ؟

۲۔مجھے ابھی عدت گزارنی ہے یا نہیں ؟

۳۔ میں ایک اسکول میں پڑھانے جاتی ہوں،کیا میں جاسکتی ہوں؟

۴۔اگرمجھے طلاق ہوگئی ہے تو کیا میں اب دوسری شادی کرسکتی ہوں ؟

o

          صورتِ مسئولہ میں تین طلاق ہوچکی ہیں ،اس لیے کہ جب خاوندنے پہلی مرتبہ لڑائی میں  اپنی بیوی کو ذھن میں رکھ  کر کہا"دو طلاق"اس سے دو طلاق توا سی وقت واقع ہوگئیں پھر جب  بیوی کے پوچھنے پر میسج  میں بیوی کو ذھن میں رکھ کر طلاق طلاق لکھ کربھیجاتو اگر ان الفاظ سے نیا طلاق مراد لیا تب  توتین یہی پوری ہوگئیں اوراگرنیا طلاق مراد نہیں  لیابلکہ سابقہ طلاقوں کی خبر دینامقصود تھا جیسے یہی زیادہ ظاہرہےتوپھران  دو الفاظ  سےتو تیسری طلاق نہیں ہوئی ، اس کےبعد دو مختلف اوقات میں خاوند نے اپنی بیوی کےلیے آزاد  کا لفظ استعمال کیا اگران میں سے کسی سے طلاق دینا مقصد تھاتوتب بھی تین پوری ہوگئی اوراگریہاں بھی طلاق دینا مقصود نہیں تھااورکوئی قرینہ بھی طلاق کا نہیں تھا ، بلکہ شوہرسابقہ طلاقوں کے بعدکی آزادی کی بات کررہاتھاتوپھر اگرچہ ان الفاظ سے بھی تیسری  طلاق نہیں ہوئی مگر جب  شوہرنےطلاق لکھ کرTCS کی جیسے کہ وہ کہتاہے تو اس سے بہرحال تیسری طلاق واقع ہوگئی خواہ جتنی بھی طلاقیں اس تحریرمیں ہو ،اس لیےکہ لکھے ہوئے طلاق کا بیوی تک پہنچنا ضروری نہیں، محض لکھنےسے ہی طلاق واقع ہوجاتی ہے، لہذا اگر چہ TCSواپس آگیاہوجیسے کہ شوہر کہہ رہاہے  تب بھی  مسئولہ صورت میں تیسری طلاق واقع ہوگئی ہےاورحرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، لہذااب میان  بیوی میں نہ رجوع ہوسکتاہے اورنیانکاح ،TCSمیں ایک سے زائد اگرطلاقیں ہوں تو وہ سب لغو ہوجائیں گی،کیونکہ طلاق تین سے زائد نہیں ہوسکتی اورشوہر دو طلاق پہلےہی دے چکے ہیں،لہذا صرف ایک ہی طلاق کااختیاراس کے پاس تھا،لہذا اضافی طلاقیں لغو ہوں گی۔ تمہید کے بعد اب آپ  کے سوالات کا اختصارکے ساتھ جوابات درجِ ذیل ہیں:

١١۔ آپ پر تین طلاقیں واقع  ہوگئیں ہیں،اورطلاق کے وقوع کےلیے طلاق نامہ کا بیوی تک پہنچنا ضروری نہیں۔

۲۔آپ کی عدت تیسری طلاق کےبعد سے شروع ہوچکی ہے ۔

۳۔ عدت کا خرچہ چونکہ شوہر پر ہوتاہے لہذا آپ عدت میں سکول پڑھانے لئے نہیں جاسکتی ،ہاں اگروہ خرچہ نہ دیتاہواوراورکہیں اورسے بھی انتظام نہ ہوسکتاہوتو ایسی سخت مجبوری میں دیگر شرعی پابندیوں کے ساتھ آپ سکول پڑھانے جاسکتی ہے۔

۴۔آپ عدت کے بعدکہیں اورشادی کرسکتی ہیں۔

حوالہ جات

وفی الشامیة:(٣/ ٢٧٣)
"لا يقع من غير إضافة إليها". ( كتاب الطلاق، باب الصريح، ٣/ ٢٧٣)
لا یلزم کون الاضافۃ صریحۃ فی کلامہ (ردالمحتار باب الصریح ج۲ ص ۵۹۰۔ط۔س۔ج۳ص۲۴۸)
( قال العلامۃ الحصکفی: کتب الطلاق ان مستبینا علی نحو لوح وقع ان نوی وقیل مطلقا ولو علی نحو الماء فلا مطلقا ولو کتب علی وجہ الرسالۃ والخطاب کان یکتب یا فلانۃ اذا اتاک کتابی ہذا فانت طالق طلقت بوصول الکتابۃ جوہرۃ۔ (الدرالمختار علی ہامش ردالمحتار ۲:۴۶۵ قبیل باب الصریح)
قال فی الاختيار لتعليل المختار :
"وكنايات الطلاق لا يقع بها إلا بنية أو بدلالة الحال، ويقع بائناً إلا اعتدي واستبرئي رحمك وأنت واحدة فيقع بها واحدة رجعية.
وألفاظ البائن قوله: أنت بائن، بتة، بتلة، حرام، حبلك على غاربك، خلية، برية، الحقي بأهلك، وهبتك لأهلك، سرحتك، فارقتك، أمرك بيدك، تقنعي، استتري، أنت حرة، اغربي، اخرجي، ابتغي الأزواج؛ ويصح فيها نية الواحدة والثلاث، ولو نوى الثنتين فواحدة"۔(ج 1 / ص 35)
الفتاوى الهندية - (1 / 375)
ولو قال في حال مذاكرة الطلاق باينتك أو أبنتك أو أبنت منك أو لا سلطان لي عليك أو سرحتك أو وهبتك لنفسك أو خليت سبيلك أو أنت سائبة أو أنت حرة أو أنت أعلم بشأنك. فقالت: اخترت نفسي. يقع الطلاق وإن قال لم أنو الطلاق لا يصدق قضاء.
فی القران المجید[البقرة : 229 ، 230]
{الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلَّا أَنْ يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ (229) فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ (230) }
تنوير المقباس - (1 / 38)
{ الطلاق مَرَّتَانِ } يقول طلاق الرجعة مرتان { فَإِمْسَاكٌ } قبل التطليقة الثالثة وقبل الاغتسال من الحيضة الثالثة { بِمَعْرُوفٍ } بحسن الصحبة والمعاشرة { أَوْ تَسْرِيحٌ } أو يطلقها الثالثة بإحسان يؤدي حقها إلي قوله{ فَإِنْ طَلَّقَهَا } الثالثة { فَلاَ تَحِلُّ لَهُ } تلك المرأة { مِن بَعْدُ } التطليقة الثالثة { حتى تَنْكِحَ } تتزوج { زَوْجاً غَيْرَهُ } ويدخل بها الثاني { فَإِن طَلَّقَهَا } الزوج الثاني نزلت في عبد الرحمن بن الزبير { فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِمَآ } على الزوج الأول والمرأة { أَن يَتَرَاجَعَآ } بمهر ونكاح جديد { إِن ظَنَّآ } علما { أَن يُقِيمَا حُدُودَ الله } أحكام الله فيما بين المرأة والزوج { وَتِلْكَ حُدُودُ الله } هذه أحكام الله وفرائضه { يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ } أنه من الله ويصدقون بذلك.
وفی الھدایة مع الفتح - (ج 9 / ص 342)
( ولا يجوز للمطلقة الرجعية والمبتوتة الخروج من بيتها ليلا ولا نهارا ، والمتوفى عنها زوجها تخرج نهارا
وبعض الليل ..... أما المتوفى عنها زوجها فلأنه لا نفقة لها فتحتاج إلى الخروج نهارا لطلب المعاش ، وقد يمتد إلى أن يهجم الليل ، ولا كذلك المطلقة لأن النفقة دارة عليها من مال زوجها ، حتى لو اختلعت على نفقة عدتها قيل : إنها تخرج نهارا ، وقيل لا تخرج لأنها أسقطت حقها فلا يبطل به حق عليها .
وفی فتح القدير - (ج 9 / ص 344)
وَالْحَقُّ أَنَّ عَلَى الْمُفْتِي أَنْ يَنْظُرَ فِي خُصُوصِ الْوَقَائِعِ ، فَإِنْ عَلِمَ فِي وَاقِعَةٍ عَجْزَ هَذِهِ الْمُخْتَلِعَةِ عَنْ الْمَعِيشَةِ إنْ لَمْ تَخْرُجْ أَفْتَاهَا بِالْحِلِّ وَإِنْ عَلِمَ قُدْرَتَهَا أَفْتَاهَا بِالْحُرْمَةِ .
 

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

24/2/1442ھ

n

مجیب

سید حکیم شاہ صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔