021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کلما کی قسم کا حکم
70241طلاق کے احکامطلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان

سوال

میں نے ایک قسم کھائی ہے اور قسم کے الفاظ منہ کے بدلے موبائل ایس ایم ایس پر ادا کئے ہیں اور قسم ایک لڑکی سے متعلق ہے،قسم کے الفاظ کچھ یوں ہے کہ میں کلما کی قسم کھاکر کہتا ہوں سمیہ اگر میری زندگی میں آپ کے علاوہ کوئی اور لڑکی آئی یا پھر میں آپ کے علاوہ کسی اور سے نکاح کروں تو اس لڑکی کو تین طلاق،یہ الفاظ میں نے اس لڑکی سمیہ سے موبائل ایس ایم ایس پر بولے، اب پوچھنا یہ تھا کہ کلما خود ایک قسم ہے یا نہیں؟اور کلما کا مطلب کیا ہوتا ہے؟

میرے ذہن میں یہ تھا کہ کلما کی قسم کھانے سے کبھی بھی نکاح نہیں ہوتا،بعد میں مجھے کسی نے بتایا کہ کلما قسم نہیں ہے، سمیہ کی شادی ہوچکی ہے،جبکہ میری شادی ابھی تک نہیں ہوئی ہے اور بعض لوگ مجھے یہ کہہ رہے ہیں کہ سمیہ کے علاوہ کسی بھی لڑکی سے شادی کروں گا تو نکاح کرتے ہی اس لڑکی کو طلاق ہوجائے گی،کیا یہ بات صحیح ہے؟

براہ کرم کیا میرے لیے کوئی ایسی صورت ہے کہ میری شادی ہوجائے اور طلاق بھی واقع نہ ہو؟

o

"کلما" حقیقت میں قسم کے الفاظ میں سے نہیں ہے،بلکہ حروف شرط میں سے ہے اور یہ عموم افعال پر دلالت کرتا ہے،یعنی جب بھی وہ کام وجود میں آئے گا جس پر لفظ "کلما" کے ذریعے  طلاق کو معلق کیا گیا ہے طلاق واقع ہوجائے گی،چونکہ مذکورہ صورت میں "کلما" کے ذریعے قسم کھائی گئی ہے اور نکاح کا فعل جس پر طلاق کو معلق کیا گیا ہے کو کلما کی شرط کے طور پر نہیں ذکر کیا گیا،بلکہ اسے لفظ "اگر" کے بعد ذکر کیا گیا ہے،اس لیے مذکورہ صورت میں "کلما کی قسم کھا کر کہتا ہوں" کے الفاظ سےنہ قسم منعقد ہوئی اور نہ تعلیق صحیح ہوئی۔

البتہ اس کے بعد بولے گئے جملے "سمیہ اگر میری زندگی میں آپ کے علاوہ کوئی اور لڑکی آئی یا پھر میں آپ کے علاوہ کسی اور سے نکاح کروں تو اس لڑکی کو تین طلاق" کا حکم یہ ہے کہ پہلی بار آپ جس لڑکی سے نکاح کریں گے اسے تین طلاقیں واقع ہوجائیں گی اور اس کے بعد یہ شرط ختم ہوجائے گی،پھر اس کے بعد اس کے علاوہ کسی اور لڑکی سے آپ نکاح کرسکتے ہیں۔

حوالہ جات

"رد المحتار" (3/ 247):
وفي حاشية للخير الرملي عن جامع الفصولين أنه ذكر كلاما بالفارسية معناه إن فعل كذا تجري كلمة الشرع بيني وبينك ينبغي أن يصح اليمين على الطلاق لأنه متعارف بينهم فيه. اهـ. قلت: لكن قال في [نور العين] الظاهر أنه لا يصح اليمين لما في البزازية من كتاب ألفاظ الكفر: إنه قد اشتهر في رساتيق شروان أن من قال جعلت كلما أو علي كلما أنه طلاق ثلاث معلق، وهذا باطل ومن هذيانات العوام اهـ فتأمل.
"الدر المختار " (3/ 350):
"(وألفاظ الشرط) أي علامات وجود الجزاء (إن) المكسورة؛ فلو فتحها وقع للحال ما لم ينو التعليق فيدين..... (وإذا وإذا ما وكل و) لم تسمع (كلما) إلا منصوبة ولو مبتدأ لإضافتها لمبني (ومتى ومتى ما) ونحو ذلك .....
 (وفيها) كلها (تنحل) أي تبطل (اليمين) ببطلان التعليق (إذا وجد الشرط مرة إلا في كلما فإنه ينحل بعد الثلاث) لاقتضائها عموم الأفعال كاقتضاء كل عموم الأسماء".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

22/صفر1442ھ

n

مجیب

محمد طارق صاحب

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔