| 85011 | پاکی کے مسائل | وضوء کے نواقض یعنی وضوتوڑنے والی چیزوں کا بیان |
سوال
السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ!
مفتی صاحب! عورت کو تھوڑا بہت لیکوریا کا مسئلہ رہتا ہے،بعض اوقات نماز پڑھ کر واش روم جاتی ہیں تو تھوڑا سا لیکوریا خارج ہوا ہوتا ہے۔اب سمجھ نہیں آتی کہ فرض و سنن سب لوٹانے ہوں گے؛ کیونکہ یہ علم نہیں وضو کب ٹو ٹا؟
نیز دوسرا یہ کہ کئی بار نماز پڑھ کے گھر کے کسی کام کے لئے اٹھی، مثلاً چھت سے سیڑھیاں اتر کر نیچے آئی، دوبارہ چھت پر نماز کے لیے گئی تو پتا چلا کہ لیکوریا سےوضو ٹوٹ گیاہے تو اس صورت میں پہلے پڑھی گئی نماز کا کیا حکم ہو گا؟اس سلسلے میں رہنمائی فرما دیں!
تنقیح:سائل سےاس بارےمیں رابطہ ہوا تو اس نے بتایا کہ وہ عورت شرعی مریض نہیں ہے،عام حالات میں وہ بیمارنہیں رہتی،اس کو یہ مسئلہ کبھی کبھار پیش آتاہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
وضوکرکےنمازپڑھنے کے بعدجب تک یہ گمان غالب نہ ہوکہ نمازکی حالت میں وضو ٹوٹ گیاتھا تو اس کا وضو برقرارہےاورنماز ہوگئی ہے ۔ آئندہ یہ عورت اپنی طہارت اس طرح معلوم کرے کہ روئی کا ٹکڑا شرمگاہ میں رکھیں اور وضو کر کےنماز پڑھیں۔ ایسا عذر جس وقت بھی متحقق ہو نے کا اندیشہ ہوتو وہ نماز کے بعددیکھیں اگر روئی کا خارجی حصہ تر نہ ہو ،تو اس کاوضو باقی ہےاور پڑھی گئی نماز درست ہے ۔ اوراگر خارجی حصہ تر ہو گیا تھا،تواس کاوضو ٹوٹ گیاہے اور نماز نہیں ہوئی ہے لہذا اعادہ لازمی ہے ۔
حوالہ جات
وقال العلامہ ابن عابدین رحمہ اللہ تعالی : وفي السراج: لو وجد في ثوبه الدرهم ولم يعلم بالإصابة لم يعد شيئا بالإجماع ،وهو الأصح. اهـ قلت: وهذا يشمل الدم، فيقتضي أن الأصح عدم الإعادة مطلقا،تأ مل.
) رد المحتار: 1 / 219 (
و فی الھندیۃ:إن وجد في ثوبه نجاسة مغلظة أكثرمن قدر الدرهم ولا يدري متى أصابته لا يعيد شيئا من صلاته بالإجماع وهو الأصح. (الفتاوى الهندية: 1/ 60)
قال العلامۃ ابوبکررحمہ اللہ :وإن وجد في ثوبه نجاسة مغلظة أكثر من قدر الدرهم ولم يعلم بالإصابة لم يعد شيئا بالإجماع وهو الأصح. ) الجوهرة النيرة : 1/ 19)
فى الهندية: أنه لو كان باحدى رجلى المصلى بثرة فغسل رجليه ولبس الخفين ثم أحدث ومسح عليهما وصلى صلوات فلما نزع الخف وجد البثرة قد انشقت وسال منها الدم وهو لا يعلم أنه متى انشقت،حكى عن الشيخ الامام أبى بكر محمد ابن الفضل ان كان رأس الجرح قد يبس وكان الرجل لبس الخف عند طلوع الفجر ونزعه بعد العشاء فانه لا يعيد صلاة الفجر ويعيد ما بعدها من الصلوات، وان كان رأس الجرح مبتلا بالدم لا يعيد شيئا منها.(الفتاوی الھندیۃ:36/1)
قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ تعالی :ولو أيقن بالطهارة وشك بالحدث أو بالعكس أخذ باليقين، ولو تيقنهما وشك في السابق فهو متطهر ).رد المحتار :1/ 150)
وقال العلامۃ الکاسانی رحمہ اللہ : ومن أيقن بالطهارة وشك في الحدث فهو على الطهارة، ومن أيقن بالحدث وشك في الطهارة فهو على الحدث، لأن اليقين لا يبطل بالشك. (بدائع الصنائع:1/ 33)
قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ تعالی : ينقض لو حشا إحليله بقطنة وابتل الطرف الظاهر وكذا الحكم في الدبر والفرج الداخل (وإن ابتل) الطرف (الداخل لا) ينقض.( رد المحتار : 1/ 148)
وقال العلامۃ الکاسانی رحمہ اللہ :ولو حشت المرأة فرجها بقطنة .....إن وضعتها في الفرج الداخل فابتل الجانب الداخل من القطنة لم يكن حدثا؛ لعدم الخروج، وإن تعدت البلة إلى الجانب الخارج فإن كانت القطنة عالية، أو محاذية لجانب الفرج كان حدثا؛ لوجود الخروج، وإن كانت متسفلة لم يكن حدثا؛ لعدم الخروج. (بدائع الصنائع :1 / 26 )
محمد ادریس
دارالافتاءجامعۃ الرشید،کراچی
/11ربیع الثانی1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ادریس بن غلام محمد | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


