021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کمیشن لینے کے احکام
70328جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

السلام علیکم مفتی صاحب! میں ایک ادویات بنانے والی کمپنی کے ساتھ کام کرتا ہوں جوکہ ادویات کے بکنے پر ہمیں کمیشن دیتی ہے  اور یہ ادویات زیادہ تر فوڈ سپلیمنٹ کے طور پر استعمال ہوتی ہیں جن کا کوئی نقصان نہیں ہوتا۔اس کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ ہر پروڈکٹ کی جو قیمت فروخت ہے اسی قیمت پر کمپنی ادویات  ہمیں دے گی اور اسی قیمت پر ہمیں بیچناہے۔ فرض کریں دی گئی ریٹ لسٹ میں ایک پروڈکٹ جس کی قیمت 8760 ہے یہ ہم اسی قیمت پر کمپنی سے لیں گے اور اسی قیمت پر فروخت بھی کریں گے۔ اس پروڈکٹ کے بیچنے پر مثلا 60  PV پوائنٹ ہمیں مل جائیں گے اسی طرح کسی دوسری پروڈکٹ کے 26 پوائنٹ ہیں۔ جب ان  PV پوائنٹس کی تعداد 100 ہو جائے گی، تو ہمیں 2 % فی صد نفع ملے گا۔ لیکن یہ نقد نہیں ہو گا یہ جمع ہوتا رہے گا اور ہمیں ماہانہ یا سالانہ ملے گا۔اور جو کسٹمر یا ڈاکٹر ہمارے ریفرنس سے اس کمپنی کی پروڈکٹ فروخت کرے گا، اس کے بھی جب 4500 PV پوائنٹس ہو جائینگے، تو اس کا بھی ہمیں 2 % فی صد ملے گا اور آگے پھر یہ سلسلہ چلتا رہے گا کہ ان کے توسط سے جو بیچے گا اس کو بھی ملے گا اور ہمیں بھی برابر ملتا رہے گا۔جب پوائنٹس بڑھیں گے تو منافع بھی بڑھتا رہے گا۔مثلا:

Accumilated 4500  P.V

Till Start Agent100:  pv = 6 %,300pv =   9%,1000pv =12% ,2000pv = 15%

 3250pv = 18% ,4500pv = 21%

You are Star Agent

                                    اب سوال یہ ہے کہ اس ترتیب پر ادویات وغیرہ بیچ کر ہمارے لیے کمیشن لینا جائز ہوگا؟ نیز یہ بھی بتائیں کہ ڈاکٹر حضرات کے لیے کمیشن لے کر ان دواؤں کا تجویز کرنا  اور پھر  ان کی  تجویز کردہ  ادویات  کی فروخت کی وجہ سے ہمیں بھی کمیشن ملنے کا حکم کیا ہوگا؟

o

ایسی کمپنی جس کا کاروبار جائز ہو اس کے کمیشن ایجنٹ کے طور پر کام کرنا بھی جائز ہوتا ہے۔البتہ یہ بات ذہن میں رہے کہ  اس کمیشن ایجنٹ کے لیے براہ راست پہلی لائن کی حد تک ہی کمیشن لینا درست ہوتا ہے۔

            لہٰذا صورت مسئولہ کے مطابق آپ کے لیے اتنا ہی کمیشن لینا درست ہوگا جو دوا آپ نے اپنے تعلق کے ذریعے سے یا ویسے کسی کو قائل کرکے فروخت کی ۔لیکن آگے وہ جتنے لوگوں کوفروخت  کرے گا اور پھر وہ آگے کسی کو فروخت کرے گا اور یوں یہ پورا سلسلہ چلتا جائے اور آپ کو کمیشن ملتا چلا جائے یہ درست نہیں ہے۔

            نیز یہ بھی ضروری ہے کہ جس کو دوا بیچی جائے اس کو کسی ابہام میں نہ رکھا جائے۔ایسا نہ ہو کہ اپنا کمیشن بنانے کے لیے کسی کو دھوکہ دہی سے قائل کیا جائے  یا ڈاکٹر سے اس دوا  کو کسی ایسے شخص کے لیےتجویز کرایا جائے جسے اس کی ضرورت ہی نہ ہو۔اس طرح کرنا آپ کے لیے  جائز نہ ہوگا۔

            ڈاکٹروں کے لیے  بھی کسی دوا کا اس لیے تجویز کرنا کہ اس سے انہیں  کمیشن ملے گا  جائز نہیں ،خاص طور پر جب کہ مریض کو اس دوا کی ضرورت بھی نہ ہو۔کیونکہ یہ بات ڈاکٹر کے فرائض منصبی میں داخل ہے کہ وہ مریض کے علاج کے لیے بہترین دوا تجویز کرے،لہٰذا اگر اس طرح کمیشن لینے کے لیےڈاکٹر مریضوں کی مصلحت نظر انداز کرکے کمیشن  دہندہ کمپنیوں کی دوائیاں تجویز کرتے ہیں تو ان کےلیےایسا   کمیشن یا دیگر مراعات کا لینا جائز نہیں۔البتہ اگر درج ذیل شرائط کا خیال رکھا جائے تو   ہلکی پھلکی وہ  مراعات  جو تشہیر کے لیے عام طور پر  مروج ہیں،جیسے پین،کیلنڈر یا ڈائری  وغیرہ لینا درست ہوگا۔

                   (الف)محض کمیشن  وصول کرنے کی خاطر ڈاکٹر غیر معیاری  و غیر ضروری اور مہنگی ادویات تجویز نہ کرے۔

             (ب)دواساز کمپنیاں کمیشن،تحائف اور مراعات کی ادائیگی کا خرچہ وصول کر نے کے لیے ادویات کے معیار میں کمی نہ کریں۔

             (ت)ڈاکٹر صرف یہی دوا لکھنے کا پابند نہیں ہوگا بلکہ اس کے علم کے مطابق اگر اس سے بہتر دوا موجود ہو تو مریض کے لیے اسے تجویز کرے۔

حوالہ جات

قال العلامۃ الشامی رحمہ اللہ: قال في البزازية: إجارة السمسار والمنادي والحمامي والصكاك وما لا يقدر فيه الوقت ولا العمل تجوز لما كان للناس به حاجة ويطيب الأجر المأخوذ لو قدر أجر المثل وذكر أصلا يستخرج منه كثير من المسائل فراجعه في نوع المتفرقات والأجرة على المعاصي.     (رد المحتار علی الدر المختار:6/47)        
            قال العلامۃ علاء الدین  رحمہ اللہ:ولا ينبغي للقاضي أن يقبل الهدية ،إلا من ذي رحم محرم منه أو من صديق قديم الصحبة، قد كان بينهما التهادي قبل زمان القضاء، فأما من غير هذين، فلا يقبل الهدية، ويكون ذلك في معنى الرشوة. وأما الدعوة، فإن كان دعوة عامة مثل دعوة العرس والختان، فلا بأس بذلك، فأما الدعوة الخاصة، فإن كانت من ذي الرحم المحرم أو الصديق القديم الذي كان يضيفه قبل القضاء فلا بأس بالإجابة، وفي غيرهما لا ينبغي أن يحضر؛ لأن ذلك يوجب تهمة فيه. (تحفۃ الفقہا:3/374)
قال العلامۃ السرخسی رحمہ اللہ:قوله لا يرتشي المراد الرشوة في الحكم،وهو حرام. قال 
صلى الله عليه وسلم :الراشي والمرتشي في النارولما قيل لابن مسعود رضي الله عنه :الرشوة في الحكم سحت، قال ذلك الكفر، إنما السحت أن ترشو من تحتاج إليه أمام حاجتك.
                                                      (المبسوط للسرخسی:16/67)

 محمد عثمان یوسف

     دارالافتاءجامعۃ الرشید کراچی

یکم  ربیع الاول 1442ھ

n

مجیب

محمد عثمان یوسف

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔