021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نابالغی کی حالت میں والد کےکرائے گئے نکاح کا حکم
70146نکاح کا بیاننکاح کے منعقد ہونے اور نہ ہونے کی صورتیں

سوال

والد نے ڈیڑھ دو سال کی عمرکی لڑکی کا نکاح کروایا۔جب لڑکی جوان ہوئی تو اس نے رشتہ سے انکار کر دیا۔جس لڑکے سے نکاح کیا گیاتھاوہ لڑکا بھی تھوڑا معذور ہے۔لڑکے والوں نےجرگہ کیا کہ لڑکی ہمیں دےدو ،اگر لڑکی نہ دی تو ہم اسے زبردستی لے جائیں گے۔لڑکی کے والد اور بھائیوں نے لڑکی کی بہت منت سماجت کی کہ وہ رخصتی کر لے،لیکن لڑکی نے نہیں مانا۔ کچھ عرصہ بعد والد کا انتقال ہوگیا اور والد کے انتقال کے بعد لڑکی نے اپنی مرضی سے کسی اور لڑکے سے کور ٹ میرج کر لی۔

اس کے بعد لڑکے والےکورٹ میں کچھ بھی پیش نہ کرسکے۔لڑکے والوں نے لڑکی کے بھائیوں پربہت پریشر ڈالا لیکن معاملہ کچھ حل نہ ہوسکا۔اسی پریشانی میں لڑکی کے بڑے بھائی کو ہارٹ اٹیک ہوا اوراس کا بھی انتقال ہوگیا۔لیکن وہ  لڑکے والے ابھی بھی چھوٹے بھائی پر یشر ڈال رہے ہیں،جبکہ لڑکی کے گھر والوں کا لڑکی سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔اب دریافت طلب امر یہ ہےکہ کیا لڑکےوالوں کا اس طرح پریشر ڈالنا درست ہے اورلڑکی پر کیا حق بنتا ہے؟ نیز اسلام میں نابالغ لڑکی کے نکاح کے بارے میں کیا وضاحت ہے؟

تنقیح: سائل سے فون پر معلو م ہوا ہےکہ لڑکے کے معذور ہونےسے مراد یہ ہےکہ وہ لنگڑ اکر چلتا ہے۔

o

صورت مسئولہ میں اگر بچی کا نکاح خود اس کے والد نے کرایا تھاتو بلوغت کے بعد لڑکی کو وہ نکاح فسخ کرنے کا اختیار نہیں ہے۔الا یہ کہ والد معروف بسوءالاختیار ہو،یعنی تجربہ سے یا صورت حال کے قرائن سےواضح طور پریہ بات ثابت ہوچکی ہوکہ والد نے یہ نکاح اپنے کسی ذاتی مفاد ولالچ کی بناءپر کیا تھااور یہ نکاح بالکل بھی لڑکی کےلئے مناسب نہیں تھاتو ایسی صورت میں شریعت نےلڑکی کو خیار بلوغ دیاہے۔خیار بلوغ کا مطلب یہ ہےکہ جونہی لڑکی پر بلوغت کے آثار ظاہر ہوں،فوراً اپنی زبان سےکہہ دے کہ میں نے اپنا نکاح ختم کیا اور اس پر گواہ بھی بنالے اور بعد میں عدالت سے رجوع کر کےباقاعدہ  اپنا نکاح فسخ کرالے۔

لیکن اگر والد میں ایسی کوئی بات موجود نہیں تھی اور اس نے بغیر کسی لالچ وذاتی مفاد کے نکاح کرایا تھا توا یسی صورت میں لڑکی کو  نکاح ختم کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔لہذابالغ ہونے کے بعد لڑکی نےجوکورٹ میرج کی تھی،اس کابھی شرعاً کوئی اعتبار نہیں ہےاوروہ لڑکی ابھی تک اسی لڑکےکے نکاح میں ہےجس کےساتھ اس  کےوالد نے اس کا نکاح کروایا تھا۔باقی لڑکے والوں کا لڑکی کے بھائیوں کو پریشان کرنا اور ڈرانا دھمکانا بالکل بھی جائز نہیں ہے،کیونکہ لڑکی نے خود اپنی مرضی سے گھر سے بھاگ کر کسی اور لڑکے سے کور ٹ میرج کی ہے اور لڑکی کے گھر والوں کا اس سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔

حوالہ جات

الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 193)
" ويجوز نكاح الصغير والصغيرة إذا زوجهما الولي بكرا كانت الصغيرة أو ثيبا والولي هو العصبة "۔۔۔۔۔ قال: " فإن زوجهما الأب أو الجد " يعني الصغير والصغيرة " فلا خيار لهما " بعد بلوغهما لأنهما كاملا الرأي وافرا الشفقة فيلزم العقد بمباشرتهما
درر الحكام شرح غرر الأحكام (1/ 336)
(للولي إنكاح الصغير والصغيرة، ولو) كانت الصغيرة (ثيبا) خلافا للشافعي، وقد مر (بغبن فاحش) وهو ما لا يتغابن الناس فيه بأن زوج بنته الصغيرة ونقص من مهرها نقصانا فاحشا (أو لغير كفء) بإذن زوج بنته الصغيرة عبدا أو زوج ابنه الصغير أمة (إن كان) أي الولي (أبا أو جدا) أي أب الأب خلافا لهما قالوا الخلاف فيما إذا كان الأب صاحيا، ولو كان سكران لا يصح اتفاقا، وكذا لو عرف منه سوء الاختيار لطمعه أو سفهه لا يصح اتفاقا، لهما أن ولايتهما نظرية فإذا تضمن ضررا لا يجوز وله أن شفقتهما وافرة فالظاهر أن هذا الضرر يضمحل في مقابلة فوائد أخر من كون الزوج حسن الخلق والألفة وواسع النفقة والعفة، والظاهر أنهما قصداها بالعقد فلا ضرر (وإلا) ، وإن لم يكن الولي أبا أو جدا (فلا) أي لا يصح إنكاحه بغبن فاحش أو لغير كفء اتفاقا لفقد علة الصحة في الغير (ففي عقدهما) أي عقد الأب والجد (إذا كان) ذلك العقد (بمهر المثل أو كفء لزم) أي العقد ولا خيار لواحد منهما بعد البلوغ

  سید قطب الدین حیدر

 دارالافتاءجامعۃالرشید کراچی

10/02/1442

‏                                                                  

n

مجیب

سید قطب الدین حیدر بن سید امین الدین پاشا

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔