021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
طلاق کو شرط پر معلق کرنا اور دل میں کسی کام کا استثناء کرنا
70514طلاق کے احکامطلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان

سوال

خلاصہ سوال:    سائلہ کا اپنے شوہر سے اپنی بہن کے گھر جانے کی اجازت مانگنے پر جھگڑا ہوا جس پر شوہر نے کہا: "اگر تم ان کے گھر گئی تو مجھ پر طلاق ہوگی۔" پھر شوہر کی والدہ بھی آ گئیں تو ان کے سامنے شوہر نے کہا: "ہاں میں کہہ رہا ہوں کہ اگر یہ اپنی بہن کے یہاں گئی تو مجھ پر طلاق ہوگی، طلاق ہوگی، طلاق ہوگی۔"

تین ہفتے پہلے سائلہ اپنی ایک دوست کے گھر جانے لگی تو شوہر نے منع کیا جس پر سائلہ نے کہا کہ اب ہماری گاڑی آگے نہیں چل سکتی اور میں کل بہن کے گھر جاؤں گی تاکہ آپ کی شرط پوری ہو جائے اور مجھے میرا مہر بھجوا دیجیے گا۔ شوہر نے کہا: " میری  طرف سے اجازت ہے جہاں بھی جاؤ کیوں کہ میں نے دل میں کہا تھا کہ اگر میری اجازت کے بغیر اپنی بہن کے یہاں گئی تو طلاق ہوگی، اور مجھے میری نیت کا معلوم ہے۔"

سائلہ کہتی ہے: " آج میں اپنی اسی بہن کے یہاں آئی ہوں کہ اب میرا شوہر کیا کہتا ہے۔ اب مجھے کبھی بھی اپنی بہن کے یہاں آنے کے لیے شوہر کی اجازت لازمی ہوگی یا ان کا یہ کہہ دینا کافی ہے کہ میری طرف سے تمہیں اجازت ہے کہیں بھی جانے کی؟"

o

شریعت مطہرہ کا اصول ہے کہ اگر طلاق کو کسی کام پر معلق کیا جائے اور معلق کرنے والا کہے کہ اس کی نیت فلاں تھی تو دیکھا جائے گا کہ اگر اس کی نیت ظاہر حال کے موافق تھی تودیانۃً اور قضاءً اس کی نیت معتبر ہوگی، اور اگر اس کی نیت ظاہر حال کے خلاف تھی تو دیانۃً اس کی نیت کا اعتبار کیا جائے گا  لیکن قضاءً اس کی نیت معتبر نہیں ہوگی۔

اس اصول کی روشنی میں سوال میں مذکور صورت میں چونکہ آپ اپنے شوہر سے بہن کے گھر جانے کی اجازت مانگ رہی  تھیں اور اس پر انہوں نے کہا کہ  "اگر یہ اپنی بہن کے یہاں گئی تو مجھ پر طلاق ہے، طلاق ہے، طلاق ہے"، اور اب وہ اپنی نیت یہ بیان کر رہے ہیں کہ ان کی مراد ان کی اجازت کے بغیر جانا تھا، تو اگر واقعتاً الفاظ ادا کرتے وقت اس کی یہ نیت تھی تو چونکہ یہ نیت ظاہر حال کے مطابق ہے اور انہوں نے جب اجازت دے دی تو طلاق نہیں ہوئی۔ لیکن اگر اس وقت، یعنی الفاظ  کی ادائیگی کے وقت یہ نیت نہیں تھی تو بعد میں نیت کرنے کا کوئی اعتبار نہیں اور آپ کے اپنی بہن کے گھر جانے پر طلاق واقع ہو چکی ہے۔

اگر ان الفاظ کی ادائیگی کے وقت ان کی مذکورہ بالا نیت تھی تو چونکہ انہوں نے طلاق کو ایسے جانے پر معلق کیا تھا جس میں ان کی جانب سے اجازت  نہ ہو، اور یہ عمل ابھی تک پایا نہیں گیا لہذا آپ کو بہن کے گھر جانے کے لیے ان سے ہر بار اجازت لینی ہوگی۔ اگر بلا اجازت بہن کے گھر گئیں تو تینوں طلاقیں واقع ہو جائیں گی اور بغیر حلالہ شرعی ان شوہر کے ساتھ رہنا جائز نہیں ہوگا۔

حوالہ جات

والحاصل: أن الحلف بطلاق ونحوه تعتبر فيه نية الحالف ظالما أو مظلوما إذا لم ينو خلاف الظاهر كما مر عن الخانية، فلا تطلق زوجته لا قضاء ولا ديانة، بل يأثم لو ظالما إثم الغموس، ولو نوى خلاف الظاهر، فكذلك لكن تعتبر نية ديانة فقط، فلا يصدقه القاضي بل يحكم عليه بوقوع الطلاق إلا إذا كان مظلوما على قول الخصاف ويوافقه ما قدمه الشارح أول الطلاق من أنه لو نوى الطلاق عن وثاق دين إن لم يقرنه بعدد ولو مكرها صدق قضاء أيضا. اهـ.
(الدر المختار و حاشیۃ ابن عابدین، 3/785، ط: دار الفکر)

محمد اویس پراچہ     

دار الافتاء، جامعۃ الرشید

تاریخ: 20/ ربیع الاول1442ھ

n

مجیب

محمد اویس پراچہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔