021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
میری طرف فارغ ہو، طلاق دیتا ہوں اور آزاد ہو کہنے کا حکم
70518طلاق کے احکامالفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان

سوال

2005 میں میری شادی زید{فرضی نام} سے ہوئی جس سے میرے تین بیٹے ہیں۔ دسمبر 2007 میں زیدوالدین کے اصرار پر بیرون ملک چلا گیا۔ یہاں تک معاملات ٹھیک چلتے رہے۔ باہر جانے کا سارا خرچ میرا زیور زبردستی چھین کر کیا گیا۔ جولائی 2012 میں اپنے والد کی بیماری اور میرے شدید اصرار پر پاکستان آیا، اور ایک ماہ کے بعد واپس چلا گیا۔ دونوں دفعہ آنے جانے کا ٹکٹ، ذاتی خرچ اور خریداری وغیرہ کا خرچ بھی مجھ سے وصول کیا۔ دسمبر 2007 سے ستمبر 2018 تک گھر کا کوئی خرچ نہیں دیا۔ میں گھر کا خرچ اور بچوں کے جملہ اخراجات ملازمت، سلائی اور دیگر کام کرکے پوری کرتی رہی۔ مئی 2018 میں فون کال پر خرچ کی بات پر لڑائی ہوئی، (میں نے کہا) کہ مجھ میں اب کام کرنے کی سکت نہیں رہی، ڈاکٹر کے کہنے کے مطابق بھی میری ہڈیاں کمزور ہوگئی ہیں، میری اور بچوں کی ذمہ داری آپ کے سر ہے، آپ اپنے فرائض اب خود پورے کریں۔ اس نے اپنے والد سے کہا اسے اس کی امی کے گھر چھوڑ آئیں۔ سسر مجھے اور چھوٹے بیٹے کو امی کے گھر چھوڑ آئے اور میرا موبائل بھی مجھ سے چھین لیا۔ ایک ماہ بعد دوسرے دونوں بیٹے بھی میرے پاس چھوڑ آئے۔ ستمبر 2018 کے اختتام پر میرے تایا اور ماموں کی کوششوں سے میں واپس سسرال آئی۔ مئی 2018 تا مارچ 2019 خاوند نے مجھ سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔ آخری 6 ماہ فقط 2 ہزار روپے ماہانہ بچوں کا جیب خرچ دیا، میری ذاتی ضروریات کا خرچ پھر بھی نہیں دیا۔

یکم اپریل 2019 کو بار بار کہنے پر سسر نے زیدسے اپنے موبائل پر بات کروائی، اس نے مجھے کہا کہ بچوں کو لے کر ماں کے گھر چلی جاؤ، میں خرچ بھیجتا رہوں گا۔ میں نے کہا اس کی کیا گارنٹی ہے کہ خرچ دوگے؟ جبکہ پچھلے 12 سال کوئی خرچ نہیں دیا، میں ملازمت اور کام کرکے گھر چلاتی رہی، میری بیوہ ماں ہمیں نہیں پال سکتی۔ اس پر غصے میں آکر زیدنے کہا کہ: "میری طرف سے تم فارغ ہو، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، میری طرف سے اب تم آزاد ہو۔ اب تو جاؤگی نا والدہ کے گھر؟" اس کے فوری بعد سسر نے مجھے بچوں سمیت ماں کے گھر چھوڑا، اور میری والدہ کو بتایا کہ زیدنے اسے ایک طلاق دیدی ہے۔ دوسرے دن میری والدہ نے سسر کو بلاکر بچوں کو واپس بھیج دیا کہ میرے پاس ان کی تعلیم وجملہ اخراجات کا خرچ نہیں، بچے آپ کی ذمہ داری ہے، آپ سنبھالیں۔ اس پر میں نے والدہ سے ناراض ہوکر گھر چھوڑ دیا۔ اپریل 2019 سے تا حال ملازمت کرکے اپنا گزر بسر کر رہی ہوں۔ 3 ماہ پہلے سسرالی گاؤں کے امامِ مسجد کے توسط سے سسر سے رابطہ کیا، مگر وہ مجھے کسی صورت آباد کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اب دریافت طلب امور یہ ہیں کہ:-

  1. مجھے کتنی طلاقیں ہوئی ہیں؟
  2. وہ آباد کرنے کے لیے تیار نہیں تو کیا میں اس سے شرعی طور پر مکمل آزاد ہوں؟
  3. میں کسی صورت آباد نہیں ہونا چاہتی تو کیا میں شرعا دوسری شادی کرسکتی ہوں؟
  4. طلاق کے وقوع اور عدمِ وقوع کا مدار خاوند کے قول پر ہوگا یا بیوی کے دعویٰ پر؟

تنقیح: سائلہ نے سوال نمبر 4 کی وضاحت کرتے ہوئے فون پر بتایا کہ شوہر اب کہہ رہا ہے کہ مذکورہ الفاظ سے طلاق واقع نہیں ہوئی، کیونکہ یہ الفاظ میں نے غصے میں کہے تھے اور غصہ میں طلاق واقع نہیں ہوتی۔ لیکن وہ آباد کرنے اور رکھنے کے لیے بھی تیار نہیں ہے۔ ہم نے سوال میں مذکور طلاق کے الفاظ کے بارے میں شوہر سے بات کرنے کے لیے اس کا نمبر مانگا، سائلہ نے بتایا کہ اس کا نمبر میرے پاس نہیں، البتہ سسر کا نمبر دیا کہ ان سے مل جائے گا۔ سسر سے رابطہ ہوا تو انہوں نے کہا بیٹے کا نمبر میرے پاس بھی نہیں ہے، وہ خود ہمیں کسی نمبر سے فون کرلیتا ہے۔ اس لیے شوہر سے بات نہ ہوسکی۔

 

o

پہلے بطورِ تمہید یہ بات سمجھ لیں کہ مفتی غیب نہیں جانتا، بلکہ سوال کے مطابق جواب دیتا ہے، غلط بیانی کرکے فتویٰ لینے سے کوئی حلال حرام نہیں ہوتا،  نہ ہی کوئی حرام حلال ہوتا ہے،اور غلط بیانی کا وبال بھی سائل/ سائلہ پر آئے گا۔

لہٰذا اگر سوال میں ذکر کردہ تفصیلات درست ہیں تو آپ کے شوہر کا یہ طرزِ عمل انتہائی غلط اور ظالمانہ ہے۔ اس پر لازم ہے کہ اپنی بیوی بچوں کے ضائع کردہ حقوق کی تلافی کرے، ان سے معافی مانگے، اور اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑا کر توبہ و استغفار کرے۔ نیز اس نے باہر جانے کے لیے آپ کا جو زیور چھینا تھا، وہ اس کے ذمے آپ کا دین ہے جس کی واپسی اس پر لازم ہے، آپ کو شرعا اس کے مطالبے کا حق حاصل ہے، جب تک آپ اپنی دلی رضامندی سے معاف نہیں کریں گی، وہ اس کے ذمے لازم رہے گا۔  

جہاں تک طلاق کا تعلق ہے تو آپ کے شوہر کا یہ کہنا درست نہیں کہ غصے کی حالت میں طلاق نہیں ہوتی، بلکہ غصہ میں بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے۔ صورتِ مسئولہ میں آپ کے شوہر نے تین جملے کہے ہیں:

(1)۔۔۔ "میری طرف سے تم فارغ ہو۔" اس جملے کا حکم یہ ہے کہ "فارغ" کا لفظ ہمارے عرف میں ان کنایاتِ طلاق میں سے ہے جو صرف جواب کا احتمال رکھتے ہیں، ایسے کنایات سے قرینہ کے وقت نیت کے بغیر بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے، صورتِ مسئولہ میں جھگڑا، غصہ اور اس کے بعد مزید طلاقوں کا ذکر ایسے قرائن ہیں جن کی موجودگی میں اس لفظ سے نیت کے بغیر بھی ایک طلاقِ بائن واقع ہوگئی ہے۔

                                                                             (مأخذہ احسن الفتاویٰ: 5/188)

(2)۔۔۔ "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں۔" یہ طلاقِ صریح ہے جس میں طلاق واقع ہونے کے لیے نیت کی ضرورت نہیں ہوتی، اس لیے اس جملے سے دوسری طلاق واقع ہوگئی ہے؛ لأن الصریح یلحق البائن۔

(3)۔۔۔ " میری طرف سے اب تم آزاد ہو۔" اس جملے کا حکم یہ ہے کہ اگر شوہر نے یہ جملہ طلاق کی نیت سے نہیں کہا، بلکہ سابقہ طلاقوں کا نتیجہ بیان کرنے کے لیے کہا کہ اب تو تم آزاد ہو، اب تو والدہ کے گھر چلی جاؤ تو اس سے آپ پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔ لیکن اگر اس نے یہ جملہ بھی طلاق کی نیت سے کہا ہے تو پھر اس سے آپ پر تیسری طلاق بھی واقع ہوگئی ہے؛ لأن البائن الکنائی لایلحق البائن الکنائی والبائن الصریح، و أما فیما عدا هاتین الصورتین فیلحق،کما فی إمداد الفتاویٰ: 2/ 427، و أحسن الفتاوی:5/135۔

حاصل یہ کہ اگر آپ کے شوہر نے واقعتا مذکورہ تینوں جملے اسی طرح کہے ہیں جیسے سوال میں لکھے ہوئے ہیں تو آپ پر دو بائن طلاقیں تو بلاشبہہ واقع ہوگئی ہیں جس کے بعد آپ دونوں کا نکاح ختم ہوگیا ہے، اور آپ عدت ختم ہونے کے بعد دوسری جگہ شادی کرسکتی ہے۔

تیسری طلاق کا تعلق چونکہ شوہر کی نیت سے ہے، اس لیے اگر شوہر نے تیسرا جملہ طلاق کی نیت سے نہ کہا ہو تو پھر آپ دونوں باہمی رضامندی سے دوبارہ نکاح کرسکتے ہیں، لیکن اگر اس نے تیسرا جملہ بھی طلاق کی نیت سے کہا ہو تو پھر تیسری طلاق بھی واقع ہوگئی ہے جس کے بعد حلالہ کے بغیر آپ دونوں کا دوبارہ نکاح بھی نہیں ہوسکتا۔

حوالہ جات

الدر المختار (3/ 302-298):

فالحالات ثلاث: رضا وغضب ومذاكرة، والكنايات ثلاث: ما يحتمل الرد، أو ما يصلح للسب، أو لا ولا ( فنحو اخرجي واذهبي وقومي ) تقنعي تخمري استتري انتقلي انطلقي اغربي اعزبي من الغربة أو من العزوبة ( يحتمل ردا ونحو خلية برية حرام بائن ) ومرادفها كبتة بتلة (يصلح سبا ونحو اعتدي واستبرئي رحمك أنت واحدة أنت حرة اختاري أمرك بيدك سرحتك فارقتك لا يحتمل السب والرد ففي حالة الرضا ) أي غير الغضب والمذاكرة ( تتوقف الأقسام ) الثلاثة تأثيرا (على نية) للاحتمال والقول له بيمينه في عدم النية ويكفي تحليفها له في منزله، فإن أبى رفعته للحاكم، فإن نكل فرق بينهما، مجتبى،  ( وفي الغضب ) توقف (الأولان) إن نوى وقع، وإلا لا (وفي مذاكرة الطلاق) يتوقف (الأول فقط) ويقع بالأخيرين وإن لم ينو؛ لأن مع الدلالة لا يصدق قضاء في نفي النية؛ لأنها أقوى لكونها ظاهرة والنية باطنة.

رد المحتار(3/ 298):

 قوله ( والكنايات ثلاث الخ ) حاصله أنها كلها تصلح للجواب أي إجابته لها في سؤالها الطلاق منه، لكن منها قسم يحتمل الرد أيضا أي عدم إجابة سؤالها كأنه قال لها لا تطلبي الطلاق فإني لا أفعله، وقسم يحتمل السب والشتم لها دون الرد، وقسم لا يحتمل الرد ولا السب بل يتمحض للجواب، كما يعلم من القهستاني وابن الكمال.

فتح القدير (4/ 74):

والبائن يلحق الصريح لا البائن إلا إذا كان معلقا …أما عدم لحوق البائن البائن فلإمكان جعله خبرا عن الأول وهو صادق فيه فلا حاجة إلى جعله إنشاء لأنه اقتضاء ضروري حتى لو قال عنيت به البينونة الغليظة ينبغي أن يعتبر وتثبت الحرمة الغليظة لأنها ليست ثابتة في المحل فلا يمكن جعله اخبارا عن أنها ثابتة فتجعل إنشاء ضرورة، ولهذا وقع البائن المعلق قبل تنجيز البيونة كما مثلناه؛ لأنه صح تعليقه ولم يمكن جعله خبرا حين صدر.

 وأورد عليه أن مثله لازم في أنت طالق فلزم أن لا يلحق الصريح، أجيب بأنه لا احتمال فيه لأن أنت طالق متعين للإنشاء شرعا ولو قال أردت به الإخبار لا يصدق قضاء وفي مسئلتنا لم يذكر

أنت بائن ثانيا ليجعل خبرا بل الذي وقع أثر التعليق السابق وهو زوال القيد عند وجود الشرط وهو محل فيقع. ويقع المعلق بعد المعلق.

     عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

22/ربیع الاول/1442ھ

n

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔