021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نابالغ بچی پر زکاۃ کا حکم
70625زکوة کابیانسونا،چاندی اور زیورات میں زکوة کے احکام

سوال

 میری ایک بیٹی ہے  جس کی عمر 14 سال ہے ۔اس کےپاس 10 تولہ سونااور کچھ چاندی کے زیورات ہیں ۔کیا اس  بچی پر ان زیورات کی زکاة ادا کرنا ضروری ہے؟ جبکہ ابھی تک وہ نابالغ ہے اور بالغ ہونے کی شرعی علامات میں سے ایک بھی ظاہر نہیں  ہوئی ہے ۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ عمر کے اعتبار سے  وہ کب بالغ شمار ہوگی اور  اس پر کب  زکاة  واجب ہوگی؟شرعی رہنمائی فرمائیں۔جزاکم اللہ خیرا۔

o

شریعت میں زکاة کے واجب ہونے کا مدار بلوغت پر ہے۔لہذااگر 15 قمری سال کی عمر سے پہلے لڑکی میں بالغ ہونے کی کوئی علامت ظاہر نہ ہوتو وہ نابالغ شمار ہوگی اور جب لڑکی کی عمر15قمری سال پوری ہوجائے تو وہ شرعا ً بالغ قرار دی جائے گی۔

لہذا مذکورہ صورت میں اگر لڑکی کی عمر اس وقت 15قمری سال سے کم ہو اور بالغ ہونے کی کوئی علامت بھی ظاہر نہیں ہوئی ہو ،تو اس پر زیورات کی زکاۃواجب نہیں ہے۔لیکن اگر 15 قمری سال پورے ہو گئے ہوں ، گو شمسی لحاظ سے ابھی 15 سال پورے نہ ہوئے ہوں تو زکاة فرض ہو جائے گی اور ایک سال بعد اس کی ادائیگی ضروری ہوگی۔یاد رہےکہ سالوں کا حساب چاند کے اعتبار سے کیا جاتا ہے،شمسی سال سے نہیں۔

حوالہ جات

قال العلامة الحصکفي رحمه الله تعالی: (بلوغ الغلام بالاحتلام والإحبال والإنزال.) والأصل هو الإنزال. (والجارية بالاحتلام والحيض والحبل.) ولم يذكر الإنزال صريحا؛ لأنه قلما يعلم منها. (فإن لم يوجد فيهما) شيء (فحتى يتم لكل منهما خمس عشرة سنة ،به يفتى.) لقصر أعمار أهل زماننا.    (الدر المختار مع رد المحتار:6 /153 )
وفي الھندیة: بلوغ الغلام بالاحتلام أو الإحبال أو الإنزال، والجارية بالاحتلام أو الحيض أو الحبل. كذا في المختار. والسن الذي يحكم ببلوغ الغلام والجارية إذا انتهيا إليه خمس عشرة سنة عند أبي يوسف ومحمد رحمهما الله تعالى، وهو رواية عن أبي حنيفة  رحمه الله تعالى. وعليه الفتوى. وعند أبي حنيفة  رحمه الله تعالى  ثماني عشرة سنة للغلام، وسبع عشرة سنة للجارية. كذا في الكافي.   (الفتاوی الھندیة:5 /61 )
قال العلامة الکاساني رحمه اللہ : وقد اختلف العلماء في أدنى السن التي يتعلق بها البلوغ ،قال أبو حنيفة  رضي الله عنه : ثماني عشرة سنة في الغلام، وسبع عشرة في الجارية. وقال أبو يوسف ومحمد والشافعي  رحمهم الله : خمس عشرة سنة في الجارية والغلام جميعا.   (بدائع الصنائع في ترتیب الشرائع:7 /172)

سعد خان

دار الافتاء جامعہ الرشید کراچی

23 ربیع الاول 1442ھ

n

مجیب

سعد خان بن ناصر خان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔