021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بغیر وضوء موبائل میں قرآن مجید پڑھنا
70658جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

1ـ موبائل میں موجود قرآن مجید سے بغیر وضو تلاوت کرنا کیسا ہے؟

2ـ اگر ایک موبائل میں قرآن مجید بھی ہو اور گانے بھی ہوں تو اس سے تلاوت کرنا کیسا ہے؟

3ـ کیا جس موبائل میں گانے ہوں، اس میں قرآن مجید رکھنا جائز ہے؟

شریعت کی روشنی میں جواب مطلوب ہے۔ جَزَاکم اللہ خیرًا.

o

1ـ موبائل میں قرآنی آیات کے جو نقوش ہمیں نظر آتے ہیں، حقیقت میں وہ حروف و نقوش صرف شعاعیں اور برقی لہریں ہوتی ہیں، جو ہمیں نظر آتی ہیں۔ لہٰذا یہ نقوش قرآنی آیات کے حکم میں نہیں۔ اس لیے بغیر وضو اس کو چھونا جائز ہے، خاص کر جبکہ اسکرین کا شیشہ بھی حائل ہو، البتہ ادب کا تقاضا یہ ہے کہ بلا وضو سکرین پر ہاتھ نہ لگائے۔ (تبویب: 217/228)

,32ـ موبائل فون میں گانے رکھنا اور سننا انتہائی ناپسندیدہ عمل ہے اور شرعاً حرام اور گناہِ کبیرہ ہے۔ پھر ایسا موبائل جس میں قرآن مجید بھی ہو، اس میں گانے رکھنے سے اس عمل کی شناعت مزید بڑھ جاتی ہے۔ لہٰذا پہلی فرصت میں موبائل سےگانوں کو نکال دینا ضروری ہے، تاہم اگر کسی موبائل میں قرآن مجید بھی ہو اور گانے بھی ہوں تو اس موبائل میں موجود قرآن مجید سے تلاوت کرنا جائز ہے، اگرچہ قرآن مجید کے ادب و احترام کا تقاضا ہے کہ گانوں کو فوری طور پر نکال دیا جائے۔

حوالہ جات

وقال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ تعالٰی: تكره إذابة درهم عليه آية، إلا إذا كسره رقية في غلاف متجاف لم يكره دخول الخلاء به، والاحتراز أفضل.
وقال تحتہ العلامۃ ابن عابدین الشامی رحمہ اللہ تعالٰی: قوله: (رقية إلخ) الظاهر أن المراد بها ما يسمونه الآن بالهيكل، والحمائلي المشتمل على الآيات القرآنية، فإذا كان غلافه منفصلا عنه كالمشمع، ونحوه جاز دخول الخلاء به، ومسه، وحمله للجنب. (رد المحتار: 178/1)
وقال العلامۃ ابن عابدین الشامی رحمہ اللہ تعالٰی: قوله: (ومسه): أي القرآن ولو في لوح، أو درهم، أو حائط، لكن لا يمنع إلا من مس المكتوب، بخلاف المصحف، فلا يجوز مس الجلد، وموضع البياض منه. وقال بعضهم: يجوز، وهذا أقرب إلى القياس، والمنع أقرب إلى التعظيم.(ردالمحتار: 293/1)
وقال جماعۃ من العلماء رحمھم اللہ تعالٰی: حانوت أو تابوت فيه كتب، فالأدب أن لا يضع الثياب فوقه.(الفتاوی الھندیۃ: 323/5)

محمد عبداللہ

6/ ربیع الثانی 1442ھ

n

مجیب

محمد عبد اللہ بن عبد الرشید

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔