021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
غیر شادی شدہ عورت کےترکہ کاحکم
70720میراث کے مسائلمناسخہ کے احکام

سوال

محترم مفتیان کرام و علماء عظام   درج ذیل مسئلے کے حل کو شریعت کی روشنی میں عنایت فرمائیں۔

(1) افسری بیگم  بنت  محمد الیاس ( مرحوم) مکان نمبرمکان رقبہ204مربع گز، بمقام مکان نمبرA-20، بلاکP، نارتھ ناظم آباد، کراچی کی اکلوتی مالکہ ہیں۔ جس کی تفصیل یہ ہے کہ افسری بیگم  بنت  محمد الیاس (مرحوم) کو 1998میں ان کے سگے بھائی رؤف عالم ولد محمد الیاس (مرحوم) نے ایک عدد مکان رقبہ204مربع گز، بمقام مکان نمبرA-20، بلاکP، نارتھ ناظم آباد، کراچی گفٹ /ٹرانسفرکیاتھا۔ اس جائیداد کی  اونر شپ/ میوٹیشن /  ٹائٹل افسری  بیگم بنت محمد الیاس (مرحوم)  کے نام ہے۔جو غیر شادی شدہ تھیں۔

(2) 1999ء میں رؤف عالم کی شادی مہتاب سلطانہ سے ہوئی ۔رؤف عالم کا انتقال 2019ء میں ہوا۔ رؤف عالم کی کوئی اولاد نہیں ہوئی۔ جبکہ رؤف عالم کی زوجہ مہتاب سلطانہ (الحمد للہ )حیات ہیں۔

 (3) مذکورہ مکان افسری بیگم کے نام پر ہے ۔افسری بیگم کاانتقال 2014میں ہوا۔جبکہ رؤف عالم کا انتقال 2019ء میں ہوا۔

                   خاندان اور رشتے میں پیچھے درج ذیل افراد موجود ہیں۔

 (حیات )  (بھتیجا )  غضنفر عالم  ولد  مقصود عالم (مرحوم)  ولد  محمد الیاس  (مرحوم)

  (حیات)  (بھتیجا )  شمشیر عالم  ولد  مقصود عالم (مرحوم)  ولد  محمد الیاس  (مرحوم)

  (مرحوم)  (والد)  سید محمد الیاس  ولد  ظہور عالم  (مرحوم)  سن  وفات  1987ء

  (مرحومہ)  (والدہ)  اصغری بیگم زوجہ محمد الیاس  ( مرحوم)  سن  وفات  1972      

   (مرحوم)  (بھائی)  شریف عالم  ولد محمد الیاس  (مرحوم)   سن وفات  2003غیر شادی شدہ

  (مرحوم)   (بھائی )  رؤف عالم  ولد محمد الیاس (مرحوم)  سن وفات  2019شادی شدہ  ( لا ولد)

   (مرحوم)   (بھائی)  مقصود عالم  ولد محمد الیاس (مرحوم)  سند وفات  1982        

  (مرحومہ)  (بہن)  شمیم فاطمہ  بنت  محمد الیاس  ( مرحوم)  سن وفات  1986۔ان کی پانچ اولادیں ہیں ایک بیٹا اور4بیٹیاں جس میں بیٹا اور تین  بیٹیاں حیات ہیں اور ایک بیٹی کا انتقال ہوگیا ہے۔ شمیم فاطمہ کی خاندان سے باہر شادی ہوئی تھی ۔اور ان کے شوہر کا بھی انتقال ہوگیا ہے۔

 (حیات)  (بھابی )  مہتاب سلطانہ  زوجہ  رؤف عالم  ۔  جن کی کوئی اولاد نہیں ہوئی ہے۔

         (حیات)  (بھابی )  ریحانہ  مقصود  زوجہ  مقصود  عالم ۔  جن کی دو اولادیںہیں دونوں بیٹے  الحمد للہ حیات ہیں)

درج بالا افراد کے علاوہ مرحومہ افسری بیگم کا کوئی اور رشتہ دارحیات نہیں ہے۔

مستفتی/فدوی (شمشیر عالم ) کی رشتے میں افسری بیگم سگی پھوپھی اور رؤف عالم سگے تایا ہیں۔

مندرجہ بالا بیان کردہ خاندانی تفصیل اور جائیداد کی تفصیل کی روشنی میں آپ ہماری رہنمائی فرمائیں

کہ قرآن و سنت کی روشنی میں اس جائیداد میں کون کون وارثین ہیں ؟ اور کتنا کتنا حصہ کس کس کے حق میں آتا ہے ؟جزا کم اللہ خیراً

المستفتی/فدوی :  شمشیر عالم  ولد مقصود عالم ( مرحوم)

پتہ: مکان نمبر A-20، بلاکP، حسین ڈیسلوا ٹاؤن، نارتھ ناظم آباد ،کراچی۔

موبائل نمبر0300-8233663 / 0345-2841978

مورخہ 25-11-2020

اس مذکورہ مکان کے حوالے سے میرے (مرحوم) تایا  رؤف عالم ولد محمد الیاس (مرحوم) نے اپنی زندگی میں افسری بیگم  ( بہن)  (یعنی ہماری پھوپھی ) کے انتقال کے بعد اپنے بھتیجوں یعنی (ہمارے)  غضفر عالم ولد مقصود عالم اور شمشیر عالم ولد مقصود عالم (مرحوم) کے نام پاور آف اٹارنی از خود سن2015 میں دی جو نارتھ ناظم آباد سب رجسٹرار آفس میں رجسٹرڈ ہے جو میں اور میرا بھائی کسی بھی مصرف میں یہ رجسٹرڈ پاور آف اٹارنی استعمال کرسکتے ہیں۔

o

مرحومہ افسری بیگم کے  ترکہ کاحکم

مرحومہ  افسری  بیگم کی ملکیت میں بوقت  انتقال مذکورہ  مکان  اس کے علاوہ  منقولہ غیر منقولہ  جائداد ،سوناچاندی   ،نقدی اور چھوٹا بڑا  جوبھی  سامان تھا  سب مرحومہ  کا ترکہ ہے ، اس میں سے کفن  دفن کا متوسط  خرچہ   نکالنے کے بعد اگر  مرحومہ کے ذمہ کسی  کا  قرض   ہو اس کو ادا کیاجائے ، اس کے بعد مرحومہ  نے کسی کے حق  میں کوئی جائز   وصیت کی ہو   تو  تہائی مال کی حد تک اس پر عمل کیاجائے ،اس کے بعد کل مال کا حقدا مرحومہ کا بھائی رؤف العالم بن  محمد الیا س ہے جو  اس وقت  زندہ تھا ۔ افسری  بیگم کےوالدین  اور بھائی بہن  افسری بیگم سے پہلے  انتقال کرچکے تھے ،اس لئے  وہ میراث کے حقدار نہیں ۔ مرحومہ کے دونوں بھتیجے غضنفر عالم اور شمشیر عالم مرحومہ کے بھائی  رؤف العالم کی وجہ سےمرحومہ کی میراث  سےمحروم ہونگے۔

مرحوم  رؤف العالم کے ترکہ کاحکم

مرحوم رؤف  العالم نے  بوقت انتقال  منقولہ  غیر منقولہ جائداد ، سونا چاندی ،    نقدی  اور چھوٹا بڑا  جو بھی سامان  اپنی  ملک میں  چھوڑا  ہے سب مرحوم کاترکہ  ہے، اس میں  سےمذکورہ  بالا  تفصیل  کے  مطابق  ﴿ کفن  دفن کا خرچہ   نکالنے کے بعد ،قرض کی ادائیگی کے بعد اگرکوئی جائز وصیت کی ہو اس کے نفاذکے بعد ﴾ کل مال کو مساوی  آٹھ حصوں پر تقسیم کرکے رؤف العالم کی  بیوہ مہتاب سلطانہ کو 2حصے دئے جائیں گے۔اور  مرحوم کے  بھتیجے  شمشیر عالم بن  مقصودعالم کو 3حصے  اور غضنفر عالم بن مقصود  عالم کو3حصے دیئے جائیں گے۔ ان کے علاوہ  بقیہ رشتے دار وں میں کسی کو  روف العالم کی میراث سے حصہ نہیں ملے گا۔

 

حوالہ جات

{وَآتُوا الْيَتَامَى أَمْوَالَهُمْ وَلَا تَتَبَدَّلُوا الْخَبِيثَ بِالطَّيِّبِ وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَهُمْ إِلَى أَمْوَالِكُمْ إِنَّهُ كَانَ حُوبًا كَبِيرًا (2)} [النساء: 2]
مشكاة المصابيح للتبريزي (2/ 197)
وعن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة " . رواه ابن ماجه

احسان اللہ شائق عفا اللہ عنہ    

       دارالافتاء جامعة الرشید    کراچی

١۲ ربیع  الثانی ١۴۴۲ھ

n

مجیب

احسان اللہ شائق صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔