021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مشترکہ فیملی میں ایک بھائی کا اپنی ذاتی کمائی سے خریدے گئے مکان کا حکم
70749میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

ہم سات بھائی ہیں اور ہماری ایک بہن ہے،والد صاحب نے اپنا ایک مکان بیچ کر اس کے کچھ پیسوں سے ایک بھائی کو باہر بھجوایا،اس نے وہاں جو کمایا اس سے ایک مکان یہاں آکر خود خریدا اور اب والد صاحب کی وفات کے بعد جب تقسیم کا وقت آیا تو اس کا مطالبہ یہ ہے کہ جو مکان اس نے خود باہر ملک کی کمائی سے خریدا ہے وہ اس کا ذاتی ہے،اس میں دیگر بھائی شریک نہیں ہیں،جبکہ بقیہ مکانوں میں وہ برابر کا شریک ہے۔

کیا اس کا یہ مطالبہ درست ہے،کیا وہ مکان جو اس نے باہر ملک کی کمائی سے خریدا ہے صرف اسی کی ملک ہے،یا اس میں دیگر بھائیوں کو بھی حصہ ملے گا؟

o

جوگھر بھائی نے اپنی ذاتی کمائی سے خریدا ہے اصولی طور پر وہ اس کی ملک ہے،اس میں دیگر ورثہ کا حصہ نہیں ہے،البتہ والد اور بھائیوں نے چونکہ اس بھائی کو باہر اس نیت سے بھیجا تھا کہ یہ جو کمائے گا وہ سب کی مشترکہ ملک ہوگا،اس لیے اخلاق اور مروَّت کا تقاضا یہ ہے کہ یہ بھائی اس مکان میں دیگر بھائیوں کو بھی حصہ دیدے،لیکن اگر وہ دینے پر آمادہ نہ ہو تو بقیہ بھائی اسے مجبور نہیں کرسکتے۔

حوالہ جات

"العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية" (2/ 17):
"وأما قول علمائنا أب وابن يكتسبان في صنعة واحدة ولم يكن لهما شيء ثم اجتمع لهما مال يكون كله للأب إذا كان الابن في عياله فهو مشروط كما يعلم من عباراتهم بشروط منها اتحاد الصنعة وعدم مال سابق لهما وكون الابن في عيال أبيه فإذا عدم واحد منها لا يكون كسب الابن للأب وانظر إلى ما عللوا به المسألة من قولهم؛ لأن الابن إذا كان في عيال الأب يكون معينا له فيما يضع فمدار الحكم على ثبوت كونه معينا له فيه فاعلم ذلك اهـ".
"شرح المجلة لخالد الاتاسی" (4/ 320):
"قال فی الفتاوی الخیریة :قول علمائنا اب وابن یکتسبان فی صنعة واحدة ولم یکن لھما شیء ثم اجتمع لھما قال یکون کلہ للاب اذا کان الابن فی عیالہ،ھو مشروط کما یعلم من عبارتھم بشروط منھا اتحاد الصنعة وعدم مال سابق لھماوکون الابن فی عیال ابیہ فاذا عدم واحد منھا لایکون کسب الابن للاب.......
اقول: استفید من کون مدار الحکم ثبوت کون الابن معینا لابیہ انہ لیس المراد باتحاد الصنعة اتحادھا نوعا بل المراد ان یعملا بھا یدا واحدة ویکون الکسب الحاصل غیر متمیز حتی لوکان کل منھما حداد ا مثلا الا ان کلا منھما یعمل فی دکان لہ علی حدة وامر الابن فی عملہ لیس عائدا لابیہ،لایکون معینا لہ وان کان فی عیالہ بل یکون کسبہ لہ خاصة".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

14/ربیع الثانی1442ھ

n

مجیب

محمد طارق صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔