021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سٹاک سنز کے مضاربہ کا حکم{مضاربت میں نفع کی تعیین کس طرح ہو؟}
70751مضاربت کا بیانمتفرّق مسائل

سوال

: کچھ دن پہلے مجھے ایک آن لائن ارننگ پلیٹ فارم ملا جس کا نام سٹاک سنز ہے۔ اس میں کام کچھ اس نوعیت کا ہوتا ہے کہ آپ کم از کم پچاس ڈالر انویسٹمنٹ کرسکتے ہیں۔ اس کے بعد 30 سے 50 فیصد تک منافع ملتا ہے۔ اس میں پیکچ کی میعاد زیادہ سے زیادہ 29 دن کا ہوتاہے۔

آپ کو سمجھانے کے لیے میں ایک مثال دیتا ہوں۔ میرا ایک دوست ہے جس نے پچاس ڈالر انویسٹ کیے تھے۔ اس وقت ڈالر کا ریٹ 178 پاکستانی روپیہ تھا۔ تو اس نے سوچا کہ 29 دن کے بعد مجھے زیادہ سے زیادہ 25 ڈالر کا منافع ہوجائے گا اور جو میں نے 50 ڈالر انویسٹ کیے تھے وہ بھی مجھے واپس مل جائیں گے۔ اس طرح میرے پاس کل 75 ڈالر ہوجائیں گے۔ لہذا جب وہ انویسٹ کررہا تھا تو اس نے اپنے طور پر حساب لگایا  کہ 75 ڈالر کے پاکستانی روپے کے حساب سے 13350 روپے ہوجائیں گے۔ لیکن جب پیکج مکمل ہوا تو اس وقت پاکستان میں ڈالر کا ریٹ 160 ہوگیا۔ اس لحاظ سے اس کو  اب 75 ڈالر کے 12000 روپے ملے، گویا کہ اس کو نقصان ہوگیا۔

اب اس میں یہ کہا گیا ہے کہ اس کو 25 ڈالر کا منافع ہواتھا تو یہ بھی فکس نہیں ہیں، کیونکہ منافع ہر مہینے 30  سے 50 فیصد کے درمیان آتا ہے۔ ہمارا ای میل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ پلیٹ فارم اسلام کے مطابق جائز ہے یا حرام ہے؟

o

سٹاک سنز کا مذکورہ پلیٹ فارم مضاربہ پر مبنی ہے۔ یہ معاملہ درج ذیل چند  وجوہات کی بنا پر ناجائز ہے:

  1. اس میں طرفین کا حصہ مجہول ہے،کیونکہ اس میں یہ کہاگیا ہے کہ انویسٹ کرنے کے بعد 30 سے 50 فیصد تک نفع ملے گا جو کہ صحیح طور پر متعین صورت نہیں ہے۔ کوئی ایک فیصد واضح طور پر طے کرنا ضروری ہے۔
  2. مضاربہ کے صحیح ہونے کے لیے بنیادی شرط یہ ہے کہ نفع فیصد کے اعتبار سے طے کیا جائے، فکس رقم نہ ہو۔ اگر نفع کی تعیین اس طرح ہو کہ مثلاً 25 ڈالر انویسٹر کو یا کمپنی کو ملیں گے اور باقی دوسرے فریق کو ملیں گے تو یہ فکس رقم ہونے کی وجہ سے ناجائز ہوگا۔ مذکورہ مسئلے میں اگر چہ نفع فیصد میں طے کیا گیا ہے لیکن چونکہ یہ تعیین انویسٹ کی گئی رقم کے تناسب سے ہے، کہ 50 ڈالر کا 30 فیصد سے 50 فیصد تک نفع ملے گا،اس لیے یہ بھی لم سم فکس رقم ہی بن جاتی ہے، کیونکہ 50 ڈالر کا پچاس فیصد 25 ڈالر ہی ہے جو کہ فکس رقم ہے، اس لیے نفع فکس ہونے کی وجہ سے یہ صورت ناجائز ہے۔
  3.  یہ بھی ضروری ہے کہ نفع کی تعیین انویسٹمنٹ سے حاصل ہونے والے منافع کے تناسب سے ہو نہ کہ انویسٹ کی گئی رقم کے تناسب سے۔یعنی نفع اس طرح طے کیا جائے کہ انویسٹمنٹ  کے بعد کاروبار سے جتنا نفع حاصل ہوگا اس کا 25 فیصد مثلاً انویسٹر کو ملے گا اور باقی 75 فیصد کمپنی کو۔اگر نفع اس طرح طے کیا جائے کہ جو رقم انویسٹ کی گئی ہے(جوکہ مذکورہ مثال میں 50 ڈالر ہے) اس کا 50 فیصد انویسٹر کو ملے گا تو یہ ناجائز ہے،کیونکہ اس سے نفع فکس ہوجاتا ہے۔جیساکہ نمبر 2 میں اس کی وضاحت کردی گئی ہے۔
  4. مضاربہ کا ایک بنیادی اصول یہ بھی ہے کہ رب المال( انویسٹر) جس طرح نفع کا حق دار ہوتا ہے اسی طرح کاروبار میں ممکنہ نقصان کی ذمہ داری بھی لے، جس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ اگر کاروبار میں نقصان ہوجائے تو انویسٹر کی لگائی گئی رقم ڈوب سکتی ہے۔اس کے برعکس اگر انویسٹر صرف متعین نفع لیتا رہے اور نقصان کی ذمہ داری نہ لے تو اس صورت میں معاملہ ناجائز ہوجائے گا۔ مذکورہ مسئلے میں چونکہ انویسٹر کی لگائی گئی رقم( جوکہ 50 ڈالر ہے) اس کو بہر صورت واپس  مل رہی ہے،گویا کہ یہ یقین دہانی کردی گئی ہے کہ کاروبار میں نفع ہو یا نقصان انویسٹر کو اس کی رقم ضرور واپس ملے گی، اس لیے نقصان کی ذمہ داری نہ لینے کی وجہ سے یہ معاملہ ناجائز ہے۔ باقی ڈالر کی قیمت کا کم ہونا نقصان نہیں ہے۔ اس لیے کہ ڈالر کی قیمت کم ہونے کے باوجود اس کو انویسٹمنٹ کی رقم یعنی50 ڈالر واپس ملیں گے اور اس پر 25 ڈالر نفع بھی ملے گا۔ بنیادی بات یہ ہے کہ انویسٹر نے جو رقم لگائی ہے وہ اس کو واپس ملنا یقینی ہے اگر چہ اس کی قیمت کم ہوجائے۔

ان  وجوہات کی بنا پر سٹاک سنز کا مذکورہ پلیٹ فارم جائز نہیں۔

حوالہ جات

الدر المختار (5/ 648)
(وكون الربح بينهما شائعا) فلو عين قدرا فسدت (وكون نصيب كل منهما معلوما) عند العقد.
وفي الجلالية كل شرط يوجب جهالة في الربح أو يقطع الشركة فيه يفسدها.
الفتاوى الهندية (32/ 450)
( ومنها ) أن يكون المشروط للمضارب مشروطا من الربح لا من رأس المال حتى لو شرط شيئا من رأس المال أو منه ومن الربح فسدت المضاربة كذا في محيط السرخسي .

سیف اللہ

             دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

                                                                                         16/04/1442ھ    

n

مجیب

سیف اللہ بن زینت خان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔