021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کاروبار کا لوگو اور کارڈ بنانا اور کارڈ پر تصویر لگانا
70811خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

لوگو میکنگ اور کارڈ میکنگ ہمارے کام کا حصہ ہے۔ ہم آرڈر پر کاروبار کے کارڈ اور لوگو بنا کر دیتے ہیں لیکن ہمیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ یہ کاروبار حقیقت میں موجود بھی ہے یا نہیں۔ کیا یہ جائز ہے؟ اسی طرح کارڈ پر بعض اوقات ملازم یا منیجر وغیرہ کی تصویر بھی لگانی ہوتی ہے۔ یہ صحیح ہے؟

o

سوال میں مذکور صورت میں آپ کسٹمر کے آرڈر پر کارڈ اور لوگو بنا کر دیتے ہیں۔ آپ کے لیے یہ تحقیق کرنا ضروری نہیں ہے کہ وہ کاروبار موجود ہے یا نہیں۔ نیز آپ کارڈ پر  جو تصویر لگاتے ہیں اس کا پرنٹ نکلنا یقینی ہوتا ہے۔  اس کے بارے میں اصولی حکم یہ ہے کہ جاندار کی پرنٹڈ تصویر بنانا جائز نہیں البتہ جہاں شرعاً مجبوری ہو وہاں ضرورت کی وجہ سے تصویر بنوانا اور بنانا مباح ہوگا۔ چونکہ ان کارڈز کا پرنٹ قانونی یا ادارتی مجبوری کی بنا پر بھی ہو سکتا ہے اور بلا ضرورت بھی، لہذا اس کے غلط استعمال کا گناہ آرڈر دینے والے پر ہوگا اور آپ کے لیے ان کا بنانا جائز ہوگا۔

حوالہ جات

الضرورات تبيح المحظورات، ومن ثم جاز أكل الميتة عند المخمصة، وإساغة اللقمة بالخمر، والتلفظ بكلمة الكفر للإكراه وكذا إتلاف المال، وأخذ مال الممتنع الأداء من الدين بغير إذنه ودفع الصائل، ولو أدى إلى قتله.
(الاشباہ والنظائر، 1/73، ط: دار الکتب العلمیۃ)
 
وإن تحققت الحاجة له إلى استعمال السلاح الذي فيه تمثال فلا بأس باستعماله. لأن مواضع الضرورة مستثناة من الحرمة، كما في تناول الميتة.
(شرح السیر الکبیر، 1/1463، ط: الشرکۃ الشرقیۃ)
 
ويكره بيع السلاح من أهل الفتنة في عساكرهم، ولا بأس ببيعه بالكوفة ممن لم يدر أنه من أهل الفتنة، وهذا في نفس السلاح، فأما ما لا يقاتل به إلا بصنعة كالحديد فلا بأس به كذا في الكافي.
(الفتاوى الهندية، 2/285، ط: دار الفكر)

محمد اویس پراچہ     

دار الافتاء، جامعۃ الرشید

تاریخ: 5/ جمادی الاولی 1442ھ

n

مجیب

محمد اویس پراچہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔