021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مسلمان ہونےوالی منکوحہ عورت سے نکاح کاحکم
70800نکاح کا بیاننکاح کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

    جرمنی میں ایک صاحب زید {فرضی نام } کام کرتے ہیں، وہ گزشتہ چند سالوں سے وہاں مقیم ہیں، وہ ایک جرمن خاتون سے شادی کرناچاہتاہے ،وہ خاتون مسلمان ہونے کو بھی تیارہے مگر مسئلہ یہ ہے کہ اس خاتون نے ایک سال پہلے کسی ہندولڑکے سے شادی کی تھی اوروہ انڈیابھی گئی تھی، یہ خاتون اس بندے سے طلاق لینا چاہتی ہے مگروہ بندہ جو انڈیا میں ہے اس کو طلاق دینے کو تیارنہیں،تو اب سوال یہ ہےکہ

١۔  کیا اگرہندولڑکااس جرمن خاتون کو طلاق دیدے تو زید {فرضی نام }اس خاتون سے شادی کرسکتاہے یا نہیں جبکہ وہ لڑکی مسلمان ہونے کے لیے راضی ہے؟

۲۔ اگروہ  ہندولڑکاطلاق نہ دے تو کیا پھر بھی زید {فرضی نام }کےلیےاس خاتون سے شادی کرنا شرعاً جائز ہوگا؟  اس بارےمیں رہنمائی فرمائیں۔

o

   ١۔ اگر کوئی عیسائی یا یہودی عورت اپنے اصل مذہب پر برقرار ہو یعنی حضرت عیسی علیہ السلام (اگر عیسائی عورت ہو) یا حضرت موسی علیہ السلام (اگر یہودی عورت ہو) کو اپنا نبی مانتی ہو اور انجیل یا توریت کو آسمانی کتاب تسلیم کرتی ہو تو اس سے نکاح کرنا جائز ہے؛ لیکن اس دور میں دیگر خطرات مثلاً اولاد کے کافر ہوجانے یا خود شوہر کے بددین ہوجانے کے اندیشہ سے ان سے نکاح سے احتراز ضروری ہے۔

 واضح رہے کہ آج کل بالعموم یہود و نصاریٰ دہریہ ہوتے ہیں، ان کا نہ تو کسی نبی پر ایمان  ہوتاہے اور نہ ہی کسی آسمانی کتاب کے قائل ہوتے ہیں اور دہریہ عورت سے نکاح جائز نہیں۔ البتہ اگر مذکورہ عورت مسلمان ہوجائے تو  پھر اس کے ساتھ آگے آنے والی تفاصیل کو مدنظر رکھ کرنکاح کرنا بلاشبہ جائز ہوگا۔

۲۔ جہاں تک حالت کفرمیں ہندولڑکے سے کئے ہوئے مسئولہ نکاح کاتعلق ہے تو اس کا حکم یہ ہے کہ اگر بیوی مسلمان ہوجائے اور شوہر مسلمان  نہ  ہو جیسے کہ مسئولہ صورت میں ہواہے  اور یہ واقعہ دارالحرب یا ملحق بہ دارالحرب کا ہو یعنی وہاں اسلامی قاضی کے پاس معاملہ لے جاکر دوسرے پر اسلام پیش کرانے کی کوئی صورت نہ ہو تو بیوی تین حیض کے بعد اپنے کافرشوہر کے نکاح سے خارج ہوجاتی ہے یعنی اگر شوہر نے تین حیض گذرنے تک اسلام قبول نہیں کیا تو عورت اپنےکافر شوہر کے نکاح سے خود بخود خارج ہوجاتی ہے، اب اگر وہ چاہے تو فوراً کسی مسلمان مرد سے نکاح کرسکتی ہے؛ لیکن اس کے لیے بہتریہ ہے کہ بہ طور عدت تین حیض مزید گزار کر پھر نکاح کرے، اسی میں احتیاط ہے۔ لہذا مسئولہ عورت اگر اسلام لے آتی ہے تو اس کے تین حیض گزرنے سے وہ اس ہندو لڑکے کے نکاح سےخود بخود نکل جائےگی اورزید {فرضی نام } کے لیے اس کے ساتھ نکاح کرناجائز ہوجائےگا، اگرچہ پھر بھی بہتریہ ہوگا کہ مزید تین حیض گزرواکر پھر زید {فرضی نام } اس سے شادی کرے.

حوالہ جات

قال اللّٰہ تبارک وتعالیٰ:
 {وَلاَ تَنْکِحُوْا الْمُشْرِکٰتِ حَتّٰی یؤْمِنَّ، وَلَاَمَۃٌ مُؤْمِنَۃٌ خَیْرٌ مِنْ مُشْرِکَۃٍ وَلَوْ اَعْجَبَتْکُمْ} [البقرۃ، جزء آیت: ۲۲۱]
عن الحسن بن محمد بن علي قال: کتب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم إلی مجوس ھجر یدعوھم إلی الإسلام، فمن أسلم قبل منہ الحق، ومن أبی کتب علیہ الجزیۃ، ولا تؤکل لھم ذبیحۃ ولا تنکح منھم امرأۃ۔
(المصنف لعبد الرزاق / أخذ الجزیۃ من المجوس ۶؍۶۹ رقم: ۱۰۰۲۸)
وحرم نکاح الوثنیۃ بالإجماع۔ (الدر المختار مع الشامي ۴؍۱۲۵ زکریا)
ولو أسلم أحدهما ثمة أي دار الحرب والملحق بہا إلخ لم تبن حتی تحیض ثلاثا إلخ (۴/ ۳۶۲، ۳۶۳،الدرالمختار مع الشامی: ط، زکریا) نیز دیکھیں: فتاوی دارالعلوم دیوبند(۸/ ۳۸۱- ۳۸۵، ۳۹۱).

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

 دارالافتاء جامعۃ الرشید

  7/5/1442ھ

n

مجیب

سید حکیم شاہ صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔