021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
زندگی میں ہبہ کی گئی رقم ترکہ میں شمار نہیں ہوگی
70796میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

والد صاحب نے کچھ سال پہلے اپنے پیسوں میں سے کچھ رقم نکال کر اپنے اس بیٹے کو دی جس کے مکان کو گروی رکھواکر دوسرے بیٹے نے بینک سے قرضہ لیا تھا اور وہ بینک کا نادہندہ ہوگیا ،جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا۔ والد صاحب نے اپنے اس بیٹے کو یہ کہہ کر پیسہ دیا کہ اس رقم کو بینک قرضہ کی ادائیگی میں استعمال کرنا ہے۔کیا یہ رقم ترکہ میں شمار ہوگی؟

                  تنقیح: سائل کے مطابق والد نے مذکورہ رقم اپنے بیٹے کو بطور ہبہ کے دی تھی نہ کہ بطور قرض کے۔

o

مذکورہ صورت میں چونکہ والد صاحب نے اپنے بیٹے کو یہ رقم ہبہ کردی تھی تاکہ وہ اس سے قرضہ کی ادائیگی کرے، اس لیے یہ رقم ترکہ میں شمار نہیں ہوگی بلکہ یہ اسی بیٹے کی ملکیت ہے جس کو یہ رقم دی گئی تھی۔لہذا مذکورہ بیٹا اس رقم کو قرضہ کی ادائیگی میں استعمال کرسکتا ہے۔

حوالہ جات

٫٫٫٫

      سیف اللہ

             دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

‏                                                                                       ھ05/05/1442

n

مجیب

سیف اللہ بن زینت خان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔