03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
موبائل کال ریکارڈنگ بطور بینہ (گواہ)
71001دعوی گواہی کے مسائلمتفرّق مسائل

سوال

عالم دین كے قتل كا كیا حكم ہے‏؟ اور كیا موبائل كال كی ریكارڈینگ اور افراد كے آواز بینہ كے حكم میں ہوگا یا نہیں؟

مفتی عبد الكریم حقمل افغانستان كے علماے اہل سنت وجماعت كے معروف شخصیات میں سے تھے‏۔ درس وتدریس ودرس قرآن كی خدمات كے ساتھ ساتھ خرافات اور بدعات و شركیات كے خلاف بھی مبارزہ سرانجام دے رہے تھے‏، کہ افسوس كے ساتھ دشمنان دین نے ان كو اس طرح شہید كیا۔

شہادت كے حادثے سے تقریبا دومہینے پہلے ایك شخص (عبداللہ‏، مستعار نام) (بظاہر عالم) شہید مفتی صاحب كے گھر آكر ان سے درخواست كی كہ‏ صوبہ فراہ كے ایك گاوں میں مدرسہ بنات كی بنیاد ركھنے میں ساتھ دیں اور اس كے متعلق تعاون بھی كریں‏۔ اسی بہانے سے كئے بار اس شخص كا شہید مفتی صاحب كے گھر آنا ہوا‏، لیكن اس شخص كو كسی نے دیكھا نہیں‏۔ بالآخر ایك دن صبح كے وقت مفتی صاحب كو فون كركے كہا كہ فلاں گاؤں میں جا كر مدرسہ بنات كی بنیاد ركھیں اور آغاز كرائیں۔ شہید مفتی صاحب نے بھی ایك عالم (احمد‏، مستعار نام) كو فون كیا‏،  ساتھ جانے اور اس امر خیر میں اس سے تعاون کرنے‏ كی درخواست كی‏‏، (در اصل یہ احمد اس مافیایی باند كے سربراہ تھے جو كہ دشمنان دین كے ساتھ وابستہ تھے‏، اور قتل كے پلاننگ كرنے والوں میں سے تھے‏۔ شہید مفتی صاحب كو خبر نہیں تھی كہ احمد‏، ان كے جان لینے كے درپے میں ہے) اور شہید مفتی صاحب كے بھی رشتہ دار تھے‏۔ تو احمد نے كال كے ذریعے مفتی صاحب كو ہاں بولا اور اس راستے سے چلنے كی درخواست كی جس راستے میں گھات لگانے والا (حملہ كے لئےمنتظرشخص) تھا‏، پھر احمد‏، شہید مفتی صاحب كے پیچھے پیچھے چلا (احمد نے خود كئی مجالس میں شہید مفتی صاحب كا تعاقب كرنے كا اقرار بھی كیاہے) یہاں تك كہ جب مفتی صاحب مقصود راستے كو اپنا مسیر بنالیتاہے تو‏ احمد‏، واپس لوٹ جاتاہے‏، اور مفتی صاحب كے ساتھ نہیں جاتا‏، اور قاتل (گھات میں بیٹھنے والاشخص) كو فون كركے مطلع كرتاہے كہ ٹارگٹ شخص آرہاہے۔ جب مفتی صاحب آدھے راستے میں پہونچتاہے تو وہ شخص ان كو شہید كركے بھاگ جاتاہے‏، پھر شہید كرنے كے بعد قاتل، احمد كو فون كركے بتادیتاہے كہ كام مكمل ہوگیا‏۔ اور یہ بھی ثابت ہوا ہے كہ یہ سب کچھ پیسوں كے بدلے میں كیا گیا ہے‏۔

ہمارے پاس قتل كو ثابت كرنے كے لئے گواہ بھی نہیں ہے‏ اور ان لوگوں سے تحقیق بھی نہیں ہوئی ہے كہ اقرار كریں گے یا نہیں‏۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

خارجی قرائن اگر صاف، واضح، قطعی اور مضبوط ہوں تو بینہ کے حکم میں ہوتے ہیں۔ جیسے کسی شخص کو ایک کمرے سے اسلحہ کے ساتھ نکلتا دیکھا گیا اور اندر ایک مقتول پڑا ہو، جسے اسی وقت ہی قتل کیا گیا ہو اور نکلنے والے شخص کے پاس ہی وہی اسلحہ ہو جس سے مقتول کا قتل عمل میں آیا ہو، تو ایسی صورت حال میں اسی شخص کو قاتل قرار دیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح اگر کسی ملک میں لوکیشن ٹریسنگ کا نظام اس قدر مضبوط ہو کہ بات کرنے والے شخص کا مقام، وقت اور سٹیلائیٹ کے ذریعہ اس کی اس وقت کی نقل وحرکت کو بے غبار طریقے سے معلوم کیا جاسکتا ہو تو یہ بھی قرائن قاطعہ میں شامل ہو سکتا ہے، تاہم یہ سسٹم ابھی تک اس حد تک آگے نہیں بڑھا ہے۔ موبائل کال ریکارڈنگ بھی خارجی قرائن میں سے ہے، مگر موبائل کال ریکارڈنگ وغیرہ جیسے قرائن میں تبدیلی اور ایڈیٹنگ کا احتمال (شبہ) پایا جاتا ہے، اس لیے ان کا اعتبار نہیں کیا جاتا۔ حدود وقصاص کے ثبوت کے لیے قطعی ثبوت (گواہ یا ملزم کا خود اقرارِ جرم) ضروری ہے۔  حدود وقصاص کے ثبوت میں کسی قسم کا شبہ پیدا ہو جائے تو یہ ساقط ہو جاتے ہیں۔ جمہور اہل علم کا مذہب یہ ہے کہ  بینہ اوراقرار کے علاوہ دیگر دلائل سے حدود وقصاص ثابت نہیں ہوتے۔

البتہ ان قرائن کی بنیاد پر مقدمہ دائر کیا جاسکتا ہے اور عدالت مزید کاروائی کر سکتی ہے۔نیز  یہ کہ جرم اور خارجی قرائن کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے عدالت اپنی صوابدید پر ملزم کو تعزیراً کوئی بھی سزا دے سکتی ہے۔

حوالہ جات

سنن ابن ماجه (2/ 855)

عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لو كنت راجما أحدا بغير بينة لرجمت فلانة. فقد ظهر منها الريبة في منطقها وهيئتها ومن يدخل عليها»

المبسوط للسرخسي (26/ 106)

أن المتهم بالدم يحبس فإن القتل أمر عظيم إلى أن يتبين موجبه؛ لظهور عذر القاتل، أو انتفاء عذره الخ

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (6/ 234)

وكلامهم هنا يدل ظاهرا على أن القاضي يعزر المتهم وإن لم يثبت عليهالخ

وسائل الاثبات فی الشریعۃ الاسلامیۃ(512)

وقد ظھر فی العصر الحدیث قرائن  وامارات واضحۃ وقویۃ فی الاثبات مثل البصمات، والتحلیل الدم والتقاط الصور وتسجیل الصوت، لکن مع التحرز والتثبت من المشرفین علی استخراج ھذہ القرائن، فانھا بمقدار ما تعتبر الیوم تقدما علمیا، واکتشافا عظیما بمقدار ما یمکن تزویرھا والتلاعب فیھا بطریق فنیۃ وعلمیۃ مبتکرۃ، وباسالیب شیطانیۃ خبیثۃ، فالصور التی تدل علی واقعۃ معینۃ کالولادۃ والاتلاف وغیرھما یمکن ان تزور فتوخذ صورۃ بریئۃ ویلصق معھا ما یدل علی حادثۃ لا علاقۃ ولا صلۃ لصاحب الصورۃ بھا.

وسائل الاثبات فی الشریعۃ الاسلامیۃ (527)

ذھب الی ذلک الجمھور، ومنعوا اثبات الدماء بالقرائن الا فی القسامۃ للاحتیاط فی موضوع الدماء وازھاق النفوس، ولان الخطأ بالعفو خیر من الخطأ بالعقوبۃ. ولقیاس الدماء علی الحدود بالدرء بالشبھۃ فلا تثبت بالقرائن.

درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (4/ 484)

المادة (1741) - (القرينة القاطعة هي الأمارة البالغة حد اليقين مثلا إذا خرج أحد من دار خالية خائفا مدهوشا وفي يده سكين ملوثة بالدم فدخل في الدار ورئي فيها شخص مذبوح في ذلك الوقت فلا يشتبه في كونه قاتل ذلك الشخص ولا يلتفت إلى الاحتمالات الوهمية الصرفة كأن يكون ذلك الشخص المذكور ربما قتل نفسه راجع المادة 74) .

القرينة القاطعة هي الأمارة البالغة حد اليقين. وبتعبير آخر هي القرينة الواضحة بحيث

يصبح الأمر في حيز المقطوع به (رد المحتار) والعمل بالقرينة القاطعة يجري في أبواب الفقه المختلفة وأمثلة ذلك على الوجه الآتي:

1 - مثال من العقوبات لو رئي شخص حاملا خنجرا ملوثا بالدماء وخارجا من دار خالية وهو في حالة اضطراب ودخل إلى الدار فورا فوجد رجل مذبوح فلا يشتبه أن ذلك الشخص هو القاتل لذلك المذبوح فإذا ثبت حال ذلك الشخص كما أشرنا بالشهود العدول فيحكم القاضي عليه بأنه قاتل عمدا ولا يلتفت إلا على الاحتمالات الوهمية كأن يظن أن المذبوح قد ذبح نفسه أو أنه ذبحه شخص آخر وهدم الحائط وكان ذلك الشخص مختفيا وراء الحائط إلى غير ذلك من الاحتمالات الوهمية انظر المادة (74) .

2 - يجوز في حال ظهور أمارة حبس المتهم بالقتل أو بالجرائم الأخرى.

3 - إذا قتل أحد شخصا دخل إلى منزله فقال القاتل: إن المقتول رجل فاسق سارق وقد دخل داري بقصد قتلي، فإذا كان المقتول معروفا بالجرائم والفسق والسرقة فلا يلزم القاتل قصاص ولكن تلزمه الدية استحسانا؛ لأن دلالة الحال وإن كانت توجب الشبهة في القصاص إلا أنها لا توجبها في المال.

ناصر خان مندوخیل

دارالافتاء جامعۃالرشید کراچی

17 جمادی الاول 1442 ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

ناصر خان بن نذیر خان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب