021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
زندگی میں اپنی بیٹیوں کے نام رکھے گئے سیونگ سرٹیفکیٹس کس کو ملیں گے
70971میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

میرے والد بزرگوار مرحوم عبد اللطیف ولد مرحوم عبد الرزاق میمن وفات پا گئے۔ اس کے وارثین میں دو بیٹے، چار بیٹیاں اور زوجہ شامل ہیں۔

والد محترم نے کچھ سرٹیفکیٹ اپنے نام اور کچھ والدہ ماجدہ کے نام لے کر اپنے بھائی ڈاکٹر عبد الحمید میمن کے پاس امانت کے طور پر رکھے تھے۔ اس کو یہ کہا تھا کہ میرے مرنے کے بعد یہ امانت، جو میرے نام کے سیونگ سرٹیفکیٹ ہیں، وہ میری تیسری بیٹی ثروت اور جو میری زوجہ کے نام پر سیونگ سرٹیفکیٹ ہیں، وہ میری چوتھی بیٹی زینت کے سپرد کرنا۔

والد مرحوم جب حیات تھے تو سیونگ سرٹیفکیٹس کا جو منافع ہوتا تھا وہ خود اپنے مصرف میں لاتے تھے۔

اب مذکورہ سیونگ سرٹیفکیٹس کی  شکل میں جو امانت کے طور پر رکھے گئے تھے، مذکورہ بہنوں کو دیے جائیں یا والد مرحوم کی جو باقی جائیداد ہے، اس کے ساتھ ملا کر سب ورثاء میں تقسیم کیے جائیں؟

o

مرحوم نے چونکہ اپنی زندگی میں یہ سرٹیفکیٹس بیٹیوں کے حوالے نہیں کیے،  اس لیے یہ ہدیہ شمار نہ ہوگا۔ مرحوم نے صرف اس بات کی وصیت کی تھی کہ یہ سرٹیفکیٹس ان کے مرنے کے بعد ان کی بیٹیوں کو دیے جائیں۔ ان کا یہ کہنا وصیت کے حکم میں ہے، جبکہ وارث کے حق میں وصیت معتبر نہیں۔

لہذا مذکورہ سرٹیفکیٹس باقی جائیداد کے ساتھ ملا کر سب ورثاء میں تقسیم ہوں گے۔

 

یاد رہے! مذکورہ سرٹیفکیٹس اگر کسی سودی کمپنی کے ہوں تو اس کے لیے جمع شدہ اصل رقم کا حصول تو جائز ہے، لیکن ان سرٹیفکیٹس کا نفع حاصل کرنا جائز نہیں ہے۔ حاصل شدہ نفع کو ثواب کی نیت کیے بغیر صدقہ کردیا جائے۔

 

شرعی طریقہ کار کے مطابق وراثت کا تقسیم

تجہیز وتکفین کے خرچ، قرض کی ادائیگی اور وصیت پوری کرنے کے بعد جو ترکہ بچ  جائے اسے چونسٹھ (64) برابر حصوں میں منقسم کر کے درج ذیل حساب سے تقسیم کی جائے:

ورثہ

عددی حصہ

فیصدی حصہ

زوجہ

 8

12.5000  فیصد

بیٹا

14

21.8750    فیصد

بیٹا

14

21.8750    فیصد

بیٹی

7  

10.9375   فیصد

بیٹی

7

10.9375   فیصد

بیٹی

7

10.9375   فیصد

بیٹی

7

10.9375   فیصد

ٹوٹل

64

100     فیصد

حوالہ جات

{يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ... فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ الخ(12/11)} [النساء:]
سنن أبي داود ت الأرنؤوط (5/ 417)
قال رسول الله : "إن الله عز وجل قد أعطى كل ذي حق حقه، فلا وصية لوارث.

ناصر خان مندوخیل

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

n

مجیب

ناصر خان بن نذیر خان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔