021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
واجب قربانی ادا نہ کرنے کا حکم
71589قربانی کا بیانقربانی کے متفرق مسائل

سوال

میں اور والد صاحب اکٹھے رہتے اور کھاتے ہیں، گھر کا سارا خرچہ میرے ذمہ ہے، والدین کا اکیلا بیٹا ہوں۔ والد صاحب نے زمین خریدی تو زمین والے کے ستر ہزار (70,000) روپے رہ گئے، والد صاحب نہیں دے رہے تھے۔ میں نے ستر ہزار روپے دیے، اس نیت سے کہ والد صاحب جب زمین بیچے گا تو میں اپنے ستر ہزار واپس لوں گا بغیر منافع کے۔ زمین بیچنے میں تین چار سال لگ گئے، والد صاحب عید الاضحی [قربانی] کرتا رہا اور میں نے عید الاضحی نہیں کی، کیا مجھ پر ان پیسوں کی وجہ سے جو والد صاحب کو دیے تھے عید [قربانی]  ہے یا نہیں؟

o

سائل کے زبانی بیان کے مطابق مذکورہ ستر ہزار کے علاوہ بھی وہ نصاب کے بقدر مال کا مالک تھا۔ اس صورت میں ان پر بھی قربانی واجب ہے اور ان کے والد صاحب اگر اس وقت صاحب نصاب تھے، تو ان پر بھی الگ سے اپنی طرف سے قربانی واجب ہوگی۔

لہذااگر کسی شخص پر قربانی واجب ہو اور وہ قربانی نہ کرے تو اس نے جتنے سال قربانی نہیں کی، بعد میں اتنے سالوں کی قربانی کی قیمت صدقہ کر نا ضروری ہوگا۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ جتنے سال قربانی نہیں کی اتنی تعداد کی متوسط بھیڑ یا بکریوں کی قیمت صدقہ کرے۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 320)
(قوله ومضت أيامها إلخ) قيد به لما في النهاية: إذا وجبت بإيجابه صريحا أو بالشراء لها، فإن تصدق بعينها في أيامها فعليه مثلها مكانها، لأن الواجب عليه الإراقة وإنما ينتقل إلى الصدقة إذا وقع اليأس عن التضحية بمضي أيامها، وإن لم يشتر مثلها حتى مضت أيامها تصدق بقيمتها، لأن الإراقة إنما عرفت قربة في زمان مخصوص ولا تجزيه الصدقة الأولى عما يلزمه بعد لأنها قبل سبب الوجوب اهـ (قوله تصدق بها حية) لوقوع اليأس عن التقرب بالإراقة، وإن تصدق بقيمتها أجزأه أيضا لأن الواجب هنا التصدق بعينها وهذا مثله فيما هو المقصود اهـ

ناصر خان مندوخیل

دارالافتاء جامعۃالرشید کراچی

26/06/1442 ھ

n

مجیب

ناصر خان بن نذیر خان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔