021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نامحرم مرد کا جوٹھا استعمال کرنا
70984جائز و ناجائزامور کا بیانکھانے پینے کے مسائل

سوال

غیر محرم کا جوٹھا استعمال کرنا کیسا ہے،خصوصاً اقراءة الاخ میں ہےکہ عمومِ بلوی کی وجہ سے تخفیف ممکن ہے۔

o

عام طور پر غیر محرم مرد کا جوٹھا استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں،البتہ اگر کہیں فتنے کا اندیشہ ہو تو پھر گریز کرنا چاہیے۔

حوالہ جات

"الدر المختار " (1/ 221):
"(ويعتبر سؤر بمسئر) اسم فاعل من أسأر: أي أبقى لاختلاطه بلعابه (فسؤر آدمي مطلقا) ولو جنبا أو كافرا أو امرأة، نعم يكره سؤرها للرجل كعكسه للاستلذاذ".
قال العلامة ابن عابدین رحمہ اللہ :" والذي يظهر أن العلة الاستلذاذ فقط، ويفهم منه أنه حيث لا استلذاذ لا كراهة".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

26/جمادی الاولی1442ھ

n

مجیب

محمد طارق صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔