021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ثمنِ استصناع میں فائل یارسید پیش کرنےکاحکم
71168خرید و فروخت کے احکامسلم اور آرڈر پر بنوانے کے مسائل

سوال

 

کیافرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارےمیں کہ ایک اسٹیٹ ایجنٹ کسی بلڈر کے غیر تعمیر شدہ پراجیکٹ میں دوکان کےلیےکمیشن پربکنگ کرواتاہے۔دوکان کی کل قیمت سولہ لاکھ روپے ہے،جس میں سےآٹھ لاکھ ایڈوانس دیناطےہوتاہے۔ادائیگی کےوقت کسٹمردولاکھ روپے نقد دیتا ہے،جبکہ بقیہ چھ لاکھ کےلیےایک پلاٹ کی فائل یارقم وصولی کی رسیددیتاہےجوکہ کسی دوسرے بلڈرسےاس کسٹمرنےوصول کرنےتھے،اوریہ وصولی اس مدمیں ہے کہ کسٹمرنےاس دوسرے بلٖڈر سےایک پلاٹ خریداتھاجوکہ حکومت نےاس سےواپس لےلیااب وہ بلڈراس فائل کولیکرپیسےواپس کررہاہے،یافائل لےکررسیدجاری کردی ہےجسےدکھاکرکچھ عرصہ بعدپیسےمل سکیں گے۔

پوچھنایہ ہےکہ کیااستصناع کےثمن میں اس فائل یارسیدکوپیش کرنادرست ہے؟

کیاکمیشن ایجنٹ کااس معاملےمیں کام کرنادرست ہے؟

o

سوال میں مذکورہ صورت عقداستصناع کےتحت داخل اورجائز ہے۔استصناع میں ثمن کی نقدادئیگی ضروری نہیں ہوتی،اورقطعہ زمین کےکاغذات ملکیت کےسندہیں۔جب بیع فسخ ہوگئی توان کی حیثیت واجب الردرقم کی سندکی ہے۔اوررسیددین کاوثیقہ ہے۔استصناع کےثمن میں کاغذات یارسید رکھناحوالہ ہےکہ اپنی قیمت میرےفلاں مدیون سےوصول کرلو۔حوالہ فریقین کی رضامندی سےہوتوجائزہوتاہے۔لہٰذااستصناع کے ثمن میں قطعہ زمین کےکاغذات یادین کاوثیقہ رکھناجائزہے۔جہاں تک اس معاملہ میں ذریعہ بننےکی بات ہےتوجب مذکورہ معاملہ درست ہےتواس میں واسطہ بن کرکام کرنااوراجرت لینابھی جائزہے۔

حوالہ جات

"ویجب لصحةالاستصناع أن تتوافرفیہ شروط آتیة:
(الف)أن یکون المعقودعلیہ ممایحتاج إلی صنعة....(ب)أن یحددالمعقودعلیہ بمواصفات منضبطة....(ج)أن لایضرب لتسلیم المعقودعلیہ أجل للاستھمال.......فإن ضرب الأجل فی الاستصناع لعین ھٰذاالمقصود صارسلمافیجب أن تتوافرفیہ شروط السلم،ومنھاتعجیل ر أس المال....."(فقہ البیوع:1163/2)
 "قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام وعنه قال: رأيت ابن شجاع يقاطع نساجا ينسج له ثيابا في كل سنة.
مطلب أسكن المقرض في داره يجب أجر المثل.
وفي الخانية: رجل استقرض دراهم وأسكن المقرض في داره، قالوا: يجب أجر المثل على المقرض؛ لأن المستقرض إنما أسكنه في داره عوضا عن منفعة القرض لا مجانا وكذا لو أخذ المقرض من المستقرض حمارا ليستعمله إلى أن يرد عليه الدراهم اهـ وهذه كثيرة الوقوع، والله - تعالى - أعلم."( رد المحتار على الدر المختار:63/6)

ذیشان گل بن انارگل

دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی

27جمادی الاولی1442ھ                                                                                                                                                                           

n

مجیب

ذیشان گل بن انار گل

مفتیان

ابولبابہ شاہ منصور صاحب / فیصل احمد صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔