021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شیخِ کامل کی شرائط کا بیان
71141تصوف و سلوک سے متعلق مسائل کا بیانمعجزات اور کرامات کا بیان

سوال

صوفیاء کرام نے کتبِ تصوف میں شیخ کی شرائط میں سے کسی شیخِ کامل کی تربیت و اجازت کی جو شرط ذکر کی ہے، اُس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟اگر شیخ بننے کے لیے اس شرط کا پایا جانا شرعی لحاظ سے ضروری نہ ہو تو کسی شخص کے کمال کو شیخِ کامل کی اجازت اور اُس کے خود دعوی کیے بغیر کیسے معلوم کیا جاسکتا ہے؟ اور کیا کامل کو ناقص بھی پہچان سکتا ہے یا کامل کو کامل ہی پہچان سکتا ہے؟

o

انسان کی اصلاح و عمل کا جو اعلی درجہ شرعا مطلوب ہے، اُس بارے میں چونکہ حضراتِ علماء دین کا مشاہدہ اور تجربہ یہ ہے کہ وہ درجہ عموما  و عادۃً کسی شیخِ کامل کی تربیت اور اتباع کے بغیر حاصل نہیں ہوتا، لہذا اِس بنا پر کسی صالح تربیت کرنے والے شیخ کی صحبت اختیار کرنے کو لازم کہا گیا ہے۔

اور چونکہ کسی کے صحیح مصلح اور شیخ کامل ہونے کے لیے بھی یہ ضروری ہے کہ وہ اِس تربیتی عمل کے اصول و آداب خود جانتا ہو اور کسی کی تربیت میں رہ کر اِس قابل ہوچکا ہو کہ دوسرے کی تربیت کرسکے۔ اِس لیے اُسے اجازت کا حاصل ہونا لازم لغیرہ قرار دیا گیا ہے۔ اجازت بمنزلہ سند کے ہے کہ اب آپ انہی اصول و ضوابط کی روشنی میں دوسروں کی تربیت کے قابل ہوچکے ہیں۔ اب جسے کسی مصلح کی تربیت اور اجازت حاصل نہ ہو اُسے مصلح اور مربّی نہیں سمجھا جائے گا۔ اور کسی کے کمال کو پہچاننے کے لیے بھی اِسی اجازتِ شیخ پر مدار رکھا گیا ہے، خواہ پہچاننے والا خود کامل ہو یا ناقص۔

حوالہ جات

قال العلامۃ طفر احمد العثماني رحمہ اللہ تعالی: تزکیۃ الأخلاق من أھم الأمور عند القوم... ولا یتیسر ذلك إلا بالمجاھدۃ علی ید شیخ أکمل، قد جاھد نفسہ وخلف ھواہ، وتخلی عن الأخلاق الذمیمۃ، وتحلی بالأخلاق الحمیدۃ. ومن ظن من نفسہ أنہ یظفر بذلك بمجرد العلم ودرس الکتب، فقد ضل ضلالا بعیدا، فکما أن العلم بالتعلم من العلماء کذلك الخلق بالتخلق علی ید العرفاء. (إعلاء السنن: 18/442)

صفی ارشد

دارالافتاء، جامعۃ الرشید، کراچی

5/ جمادی الثانیہ/1442

n

مجیب

صفی ارشد ولد ارشد ممتاز فاروقی

مفتیان

ابولبابہ شاہ منصور صاحب / شہبازعلی صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔