| 71174 | روزے کا بیان | نذر،قضاء اور کفارے کے روزوں کا بیان |
سوال
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ!
میں روزہ توڑنے کی وجہ سے کفارے کے روزے رکھ رہا تھا۔ ایک دن سحری کرتے ہوئے پانی پی رہا تھا، جب ٹائم دیکھا تو ٹائم ختم ہوکر پانچ سے چھ منٹ اوپر ہوچکا تھا۔ یہ سب لاعلمی میں ہوا تھا، میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا تھا۔ پوچھنا یہ ہے کہ مجھے اب کفارہ دوبارہ شروع کرنا پڑے گا یا نہیں؟ جواب عنایت فرما کر مشکور فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
حضراتِ علماء کرام کے درمیان صبح صادق کی ابتداء میں اختلاف ہے۔ بعض علماء کے نزدیک صبحِ صادق کا وقت اٹھارہ درجے زیرِ افق پر شروع ہوتا ہے، جبکہ بعض محققین علماء کے نزدیک صبحِ صادق پندرہ درجے زیرِ افق پر شروع ہوتی ہے۔ اگرسحری اٹھارہ درجے والے وقت کے مطابق کی جارہی تھی اور وقت اٹھارہ درجے والے وقت سے پانچ، چھ منٹ اوپر ہوا تھا تو چونکہ ابھی پندرہ درجے والا وقت باقی تھا، لہذا دوسرے قول کے مطابق یہ روزہ درست تھا۔ چنانچہ از سرِ نو کفارہ شروع کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
حوالہ جات
قال العلامۃ الحصکفي رحمہ اللہ تعالی: (وإن أفطر خطأ) كأن تمضمض، فسبقه الماء أو شرب نائما أو تسحر أو جامع على ظن عدم الفجر. (الدر المختار مع رد المحتار: 2/401)
قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ تعالی: فلو أفطر ولو لعذر استأنف، إلا لعذر الحيض. وكفارة القتل يشترط في صومها التتابع أيضا، وهكذا كل كفارة شرع فيها العتق. نهر.(رد المحتار: 2/412)
قال العلامۃ الحصکفي رحمہ اللہ تعالی: (وإن أفطر خطأ) كأن تمضمض، فسبقه الماء أو شرب نائما أو تسحر أو جامع على ظن عدم الفجر. (الدر المختار مع رد المحتار: 2/401)
قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ تعالی: فلو أفطر ولو لعذر استأنف، إلا لعذر الحيض. وكفارة القتل يشترط في صومها التتابع أيضا، وهكذا كل كفارة شرع فيها العتق. نهر.(رد المحتار: 2/412)
صفی ارشد
دارالافتاء، جامعۃ الرشید، کراچی
7/جمادی الثانیہ/1442
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | صفی ارشد ولد ارشد ممتاز فاروقی | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


